ضیاء الدین نے کتنے برس قبل اپنے ’’کفر‘‘ کا اقرار کیا؟

زبیر عاطف

شیخ ابو زاہد ضیاء الدین زرخریدی ایک سلفی عالم دین تھا۔ اس نے اپنی پوری علمی زندگی کا مقصد یہ ثابت کرنا بنائے رکھا کہ فقہ حنفیہ کی ’’کوئی بنیاد نہیں‘‘ اور بس ہوائی باتیں ہیں۔ حالانکہ پڑوس افغانستان میں اور خود پاکستان میں بھی اسلامی نظام کی حاکمیت کے لیے مجاہدین جہاد کر رہے تھے، لیکن ضیاء الدین اطمینان سے اپنے گھر میں بیٹھا رہا۔ رفع الیدین کا معاملہ ہو، ہاتھ سینے پر باندھنے کا معاملہ ہو یا دیگر فروعی اجتہادی مسائل ہوں، سب پر جھگڑا کرتا اور احناف کی تکفیر تک کر ڈالتا تھا۔ تب اس کی نظر میں کفریہ حکومتوں سے بڑا کوئی طاغوت نہیں تھا، لیکن پھر بھی جہاد کا لفظ منہ سے نہیں نکلتا تھا۔

۲۰۱۷ء کے اواخر تک وہ مناظروں میں مشغول رہا۔ مناظروں سے نکلنے کے بعد سیدھا خراسانی خوارج کے ساتھ شامل ہو گیا اور اب وہاں داعشیوں کا دین اور عقیدے کا استاد اور قاضی ہے۔

زرخریدی تقلید کو ’’ایک عظیم فتنہ‘‘ گردانتا ہے اور خراسانی خوارج نے یہ عقیدہ اپنے عقیدہ اور منہج کے حالیہ مقالے میں بھی شامل کیا ہے۔ (تقلید اسے کہتے ہیں کہ ایک مسلمان چاروں ائمہ یعنی امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام احم اور امام شافعی رحمھم اللہ میں سے کسی ایک امام کے اجتہاد پر اعتماد کرتا ہو اور دلائل ڈھونڈنے کی بجائے ان کی بات مانتا ہو اور اس پر عمل کرتا ہو۔)

ضیاء الدین چند سال قبل ’’کافر‘‘ کیسے تھا؟

اس اصول کی بنیاد پر کہ ’’جو کافر کو کافر نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے‘‘، داعشی خوارج ہر اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو خوارج کے مخالفین پر کفر کا ٹھپا نہ لگاتا ہو۔ یہ اہل السنت والجماعت کا ایک متفق علیہ قاعدہ ہے، لیکن جیسے دین مبین اسلام کے دیگر اصول و قواعد کو داعشی خوارج اپنے باطل منہج کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہ قاعدہ بھی خوارج کے منہ میں ’’ کلمة حق أرید بها الباطل‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔

خود ضیاء الدین بھی اپنے بیانات اور مقالات میں اس قاعدے پر زور دیتا رہا ہے اور خوارج کے ہر مخالف اور اس مخالف کی تکفیر نہ کرنے والے پر اسی قاعدے کی رو سے کفر و ارتداد کا ٹھپا لگاتا رہا ہے۔ لیکن ضیاء الدین خود اپنے حوالے سے اس قاعدے کی رو سے کتنا پر اعتماد ہے؟

اگر تو ضیاء الدین اس قاعدہ کی کامل معنوں میں تطبیق کا خواہاں ہے تو وہ خود بھی چند برس قبل ’’کافر‘‘ تھا اور اس کا بیٹا جس کا نام وہ اپنے نام سے پہلے ذکر کرتا ہے وہ بھی ’’کفر‘‘ کی حالت میں پیدا ہوا۔

جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا کہ زرخریدی نے جس دن سے الف اور با سیکھے، اسی دن سے فقہ حنفی کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ انفرادی سطح پر مناظرے کرنے اور کتابیں لکھنے کے علاوہ اس نے پاکستان کے مشہور سلفی عالم شیخ امین اللہ پشاوری کی بعض کتابوں کی نظر ثانی کی، ان کی کتابوں کی تقریظات لکھیں اور انہیں اپنا دینی بھائی بھی سمجھا۔ مثلا:

  • ضیاء الدین نے شیخ امین اللہ پشاوری کی ایک کتاب ’’فقہ حنفی بمقابل حدیث نبوی ﷺ‘‘ پر نظرِ ثانی کی، اس کتاب کی پشت پر لکھا تھا کہ کتاب کی اصلاح و نظر ثانی جنابِ شیخ نے کی ہے۔ ضیاء الدین نے کتاب کی تقریظ میں شیخ امین اللہ کو اپنا ’’دینی بھائی‘‘ کہا اور ان کے لیے ’’فضیلۃ الشیخ‘‘ کا لقب بھی استعمال یا۔
  • ضیاء الدین نے شیخ امین اللہ پشاوری کی ایک اور کتاب ’’مختصر العرش لابن أبی شیبہ‘‘ پر بھی نظرِ ثانی کی اور کتاب کی پشت پر اس کا نام بھی موجود ہے۔
  • ضیاء الدین نے شیخ امین اللہ پشاوری کی ایک اور کتاب ’’تکحیل العینین باثبات رفع الیدین‘‘، جو رفع الیدین کے ثبوت کے حوالے سے ہے، کی اصلاح اور نظرِ ثانی کی اور اس پر تقریظ بھی لکھی۔
  • ایک اور کتاب ’’الصواریخ النوویۃ علی تحریفات الدیوبندیۃ‘‘ خود ضیاء الدین نے لکھی اور اس پر تقریظ شیخ امین اللہ پشاوری نے لکھی۔

اب بات یہ ہے کہ ضیاء الدین اپنے قاعدے کی تطبیق میں سنجیدہ ہے تو کیا اب اس کو اپنا آپ کچھ سال قبل کافر نہیں لگتا؟ کیونکہ اس وقت وہ ایسے علماء کا ساتھی تھا جو مسلمانوں، سیاسی اور جہادی گروپوں اور حکومتوں کی مسلسل تکفیر کا عقیدہ نہ تب رکھتے تھے اور نہ ہی اب۔

شیخ امین اللہ پشاوری نے اب اپنی بہت سی باتوں سے رجوع کر لیا ہے، امارت اسلامیہ کی حمایت کرتے ہیں اور خوارج کی طرح ناحق تکفیر نہیں کرتے، تو خوارج کے نزدیک ان کے قاعدہ کے اعتبار سے کافر ہوں گے، تو ضیاء الدین جو چند برس قبل ان کا دوست تھا، وہ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ کیا یہ کافر تھا؟ اگر تھا، تو پھر خوارج کو شرم نہیں آتی کہ ایسے آدمی کو آج اپنے عقیدے اور منہج کے لیے رہنما بنا رکھا ہے کہ جو چند برس قبل خود ’’کافر‘‘ تھا؟ کیا ضیاء الدین کو اپنے حوالے سے شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا کہ چند برس قبل خود اس پر کافر کا فتویٰ تھا اور آج وہ دوسروں کو ایمان اور اسلام سے خارج کرنے پر تلا ہے اور اپنے اور اپنے گروہ کے علاوہ دنیا میں کسی کو مسلمان نہیں سمجھتا؟ خوارج اور ضیاء الدین کے تحت رہنے والے نوجوان کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ چند برس قبل کا ’’کافر‘‘ آج انہیں اسلام اور عقیدے کا درس دے رہا ہے؟

یہ سوچ و فکر کا مقام ہے!