یہود اور ان کے مقاصد

ماہر بلال

یہودی، اسرائیل اور صیہونی حکومت دنیا کی بدترین مخلوق کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

یہودیوں نے ہر چیز کو اپنے ساتھ جوڑ رکھا ہے، یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ جنت کے بھی صرف وہ ہی حق دار ہیں۔ یہودیوں کا دین در حقیقت ایک قومی دین مانا جاتا ہے کیونکہ اگر کوئی عیسائی یا کسی اور دین کا پیروکار چاہے کہ وہ یہود کا دین اختیار کر لے تو اسے اس وقت تک قبول نہیں کیا جائے گا جب تک وہ اپنا نسب یعقوب علیہ السلام کے ساتھ ثابت نہ کر دے، یہ اس لیے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ جنت صرف اور صرف یہود قوم کا حق ہے اور بس… حالانکہ یہ بات سراسر جھوٹ ہے۔ یہودیوں کا مقدر جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔

یہودیوں کا اصلی پیشہ جادو ہے۔ وہ اکثر جادو ٹونے کے ذریعے اپنے کام نکالتے ہیں اور اپنے شیطانی نظریات کی ترویج کرتے ہیں۔ اس سب کے ساتھ یہودی بہت ظالم، جابر اور متکبر لوگ بھی ہیں، ان کے مظالم صرف نوجوان مردوں تک محدود نہیں بلکہ عورتیں بچے اور بوڑھے سب یہودیوں کے مظالم کا شکار ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ حاملہ خواتین کے پیٹوں میں موجود بچے تک ان کے مظالم سے بچے ہوئے نہیں وہ بھی ان کے ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ یہود کی دشمنی اگرچہ تمام ادیان کے ساتھ ہے لیکن ان کی اسلام دشمنی کئی گنا زیادہ ہے۔ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک اور پھر قیامت تک کے لیے یہود کا مشن ہے کہ اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور اس کی جگہ ایک عالمی صیہونی/ یہودی نظام قائم کریں اور دنیا میں صرف یہودی باقی رہ جائیں۔ یہ ان کا ایسا کام اور مشن ہے جو الحمد للہ نہ تو آج تک کامیاب ہو سکا اور نہ ہی کبھی کامیاب ہو پائے گا۔

احادیث مبارکہ سے علم ہوتا ہے کہ دجال ملعون کا تعلق بھی انہی کی قوم سے ہو گا اور یہودی ہی ان کے حمایتی ہوں گے۔ ان کی جنگ سب سے پہلے مسلمانوں کے ساتھ اور آخر میں عیسائیوں کے ساتھ ہو گی۔ عیسائی مذہب کے پیروکار بھی پہلے دجال کے ساتھی اور سپاہی بنیں گے لیکن آخر میں وہی دجال اور یہودی ان سے بھی جنگ کریں گے کیونکہ یہ چاہتے ہیں کہ ایک عالمی دجالی نظام قائم کریں جس کے تمام شہری یہودی ہوں۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ یہود کی نفرت تمام مذاہب کے ساتھ ہے، لیکن اسلام سے ان کی نفرت کئی گنا زیادہ ہے اسی لیے یہود کی اوّلین جنگ مومنین کے ساتھ ہو گی پھر دوسروں کی طرف رخ کریں گے۔

حضرت محمد ﷺ کی احادیث مبارکہ سے علم ہوتا ہے کہ دجال کا ظہور آخری زمانے میں یہودیوں میں ہو گا اسی لیے یہودی صدیوں قبل ہر چیز کی تیاری کر چکے ہیں اور اب انتظار میں ہیں۔ بعض علماء کی رائے یہ بھی ہے کہ یہود دجال لعنۃ اللہ علیہ سے ملتے بھی ہیں اور اس سے مشورے بھی لیتے ہیں لیکن دجال کو اللہ تعالیٰ کی مضبوط قید سے آزاد کروانا ان کے بس میں نہیں۔

جیسا کہ یہودیوں کا کام شیطانیت، فریب اور لوگوں کو آپس میں لڑوانا ہے اس لیے عصر حاضر میں یہود نے تمام دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ہر کوئی ان کے اشاروں پر ناچ رہا ہے۔ ہٹلر کا نظریہ تو یہاں تک تھا کہ اگر سمندر کے آخری سرے میں دو مچھلیاں بھی آپس میں لڑ رہی ہوں تو اس میں بھی یہودیوں کا ہاتھ ضرور ہو گا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔

میں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ یہودی ہر جگہ بادشاہوں کو سب سے پہلے خوبصورت لڑکیوں سے فریب میں مبتلا کرتے ہیں اور تمام راز ان سے حاصل کر لیتے ہیں تاکہ انہیں اپنا غلام بنا لیں اور جہاں لڑکیوں سے پوری طرح کام نہ بن پائے پھر شراب کا حربہ استعمال کرتے ہیں اور جہاں اس سے بھی کام نہ بنے تو آخری حربے کے طور پر جادو ٹونا کرتے ہیں۔ ایک زمانے میں تو ان ظالموں نے حبیبِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی جادو کر دیا تھا لیکن  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پیغمبر کو اس جادو سے نجات دلائی اور نجات کے یے سورتیں نازل فرمائیں۔

یہودیوں کے ان تمام منصوبوں، فریبوں اور چالوں کے باوجود آج بھی مسلمان دنیا میں موجود ہیں، ایک مختصر جغرافیائی علاقے میں حقیقی اسلامی نظام کی حاکمیت ہے اور ان کی تمام کوششوں کے باوجود فلسطینی نوجوانوں کی شکل میں یہودیوں سے لڑنے والے بہادر موجود ہیں، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر ہے اس لیے چاہے وہ جتنی بھی کوشش کر لیں چاہے جتنا اللہ تعالیٰ کا انکار بھی کر لیں، اللہ تعالیٰ انہیں دنیا و آخرت دونوں میں سزا ضرور دے گا، حماس کے مجاہدین کے ہاتھوں یہودیوں کو تہس نہس کرنا اسی دنیوی عذاب کی ایک زندہ مثال ہے۔

وہ لوگ جن سے یہود کو جنگ کی توقع ہی نہیں تھی آج انہی سے لڑتے لڑتے تنگ آ چکے ہیں، ایسی قوم جس پر یہود نے عشروں محنت کی اور مطمئن ہو گئے کہ اب مزید ان میں جزبۂ جہاد باقی نہیں بچا، انہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلط کر دیا۔

آخر میں تمام مسلمانوں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنے فلسطینی بھائیوں کی ہر ممکن طریقے سے مدد کریں، چاہے وہ مالی مدد ہو یا جانی اور اپنی نیک دعاؤں میں انہیں کبھی نہ بھولیں۔

فلسطینی مجاہدین کو مالی اور جانی دونوں طرح سے مدد کی ضرورت ہے اس لیے کوشش ہو کہ دونوں طرح سے ان کی مدد کی جائے۔

وما علینا الا البلاغ المبین