امت کی حمایت میں

عزیز الدین مصنف

وزیر دفاع، جنہوں نے ملک کے سکیورٹی اینڈ سیٹلمنٹ کمیشن (Security & Settlement Commission) کی ذمہ داری بھی سنبھال لی ہے، عوام کے سامنے پیش ہوئے، میڈیا مرکز میں جمع صحافی  کسی بھی نئی خبر کا انتظار کر رہے ہیں، سبھی نوجوان رہنما کی کانفرنس کی عکاسی کرنے کے لیے بیتاب ہیں۔

سپہ سالار قوم کے نمائندے کی حیثیت سے امت کے سامنے بات کر رہے ہیں، یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے، جسے آنکھ دیکھ رہی ہے اب زبان اسے پڑھے گی، غازی افواج کی پیش رفت کا ذکر ہوگا، گمنام ہیروز کے کارنامے کیا ہیں، شہیدوں کے خون سے حاصل شدہ امانت کی کیسے حفاظت کی جائے، اس نظام کی بقا کی کنجی کیا ہے، اپنی طرف سے امت کا حق کیسے ادا کیا جائے، اور امارت کے بڑے مقاصد کا حصول کب ہو گا۔

نوجوان سپہ سالار اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد امریکی استعمار سے ملک کی مکمل آزادی کے مراحل پر مختصر گفتگو کرتے ہیں اور پھر مستقبل کے اہداف کے بارے میں کہتے ہیں:

’’ہم ان ممالک سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں جن کے ذریعے غیر ملکی شر پسند عناصر افغانستان میں داخل ہوتے ہیں، کہ وہ اپنی زمینی اور فضائی سرحدوں کو سختی سے کنٹرول کریں اور شر پسند عناصر کو ان کے ذریعے افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔‘‘

تاجکستان اور پاکستان ان کے خاص مخاطبین تھے، اگر ان دونوں ممالک نے اپنے اقدامات پر نظرِ ثانی نہ کی تو وہ وقت دور نہیں کہ وہ اپنے آقاؤں جیسے انجام سے دوچار ہوں گے۔

اسلامی نظام کے قیام کے بعد ہر طرح کے فتنوں اور فتنہ گروں کو خاک میں ملا دیا گیا، اغوا کاری اور اس میں ملوث عناصر کو نیست و نابود کر دیا گیا، فساد اور فساد پھیلانے کی ہمت ختم کر دی گئی، عالی قدر امیر المؤمنین حفظہ اللہ کے خصوصی فرمان کے بعد منشیات فروشی صفر تک پہنچ گئی، منشیات کے عادی افراد کا ایک خاص ںظام کے تحت مرحلہ وار علاج کیا جاتا ہے، عام معافی کے اعلان کے بعد کسی پر دست درازی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسا کرنے کی کسی میں ہمت ہے۔ تربیتی مراکز وقتا فوقتا اسلامی نظام کی خاطر قربانی کی سوچ رکھنے والے تربیت یافتہ نوجوانوں کو پیش کرتے رہتے ہیں۔ راعی اور اس کی رعایا کے درمیان تفریق صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے، مہاجرین کی خاطر پورا نظام حرکت میں آ گیا کیونکہ انہیں ایک غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور پھر اس بھاری بوجھ کو اٹھائے وہ صرف الہٰی نصرت کے طلبگار ہیں۔

نظام میں سول اور فوجی اداروں کا ایک مشترکہ کمیشن کام کر رہا ہے، جو کوئی بھی اسلامی شریعت کے خلاف کاروائی کرنے کا مرتکب پایا جاتا ہے تو فوری اسے صفوں سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے، اور اس کے بعد اسے سرکاری فائل کے ساتھ کاروائی کے لیے اعلیٰ عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔

یقینی تحفظ کے اعلان کے بعد نوجوان سپہ سالار نے اپنی عمری نگاہیں پورے جلال کے ساتھ ایسے اٹھائیں کہ لگا کہ اب یہ کوئی اہم بات کرنے جا رہے ہیں۔

وہ قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے امت کے درد کا مداوا چاہ رہے ہیں، غزہ فلسطین کا حق ہے اور اس حق کی بحالی ان تمام اسلامی حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے جنہوں نے اس کے دفاع کے لیے قدم نہیں بڑھایا۔

ایک محدود جغرافیہ میں کمزور مجاہدین کی فتح کی مبارکباد حماس کے گمنام سپاہئیوں کو دی۔

پھر با آواز بلند اعلان کیا کہ اسرائیل فسلطین کی مبارک سرزمین پر قابض ہے، یہ تمام مسلمانوں کا شرعی فریضہ ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ آزادی کے اس معرکہ میں حصہ لیں۔