امت کی گمراہی، کفار کی کوششیں اور عالم اسلام کی غفلت

حسّان مجاہد

آج ہر طرف فتنہ و فساد کا بازار گرم ہے۔ نوجوان فکری و عقیدوی انحراف کا شکار ہو کر کفار کی تقلید کر رہے ہیں۔ آج مسلمان تو بہت ہیں لیکن اسلام پر عمل اور ثابت قدمی کا فقدان ہے۔

ہر گھر میں دورِ حاضر کی الحاد و بے دینی کی ہوائیں پہنچ چکی ہیں اور ہر مسلمان گھرانے میں مغربی افکار کی ترویج کی جا رہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث صادق آ رہی ہے کہ آخری زمانے میں کوئی شخص اگر شام کو مسلمان ہو گا تو صبح کافر ہو جائے گا، اگر صبح مسلمان ہو گا تو شام کو کافر ہو جائے گا، کوئی سو رہا ہو گا لیکن دل سے بے خبری میں دل کی امانت (ایمان) اٹھ جائے گی۔ کفار تو کیا مسلمانوں کی انسانیت دیکھ کر شرم آتی ہے، آدھا دن اگر انسان ہیں تو آدھا دن کتے اور خنزیر بن جاتے ہیں، مرد سے مرد کی شادی، عورت سے عورت کا نکاح، کتوں اور دیگر جانوروں سے شادی یہاں تک کہ خود اپنے ّآپ کے ساتھ شادی دن بدن عام سی بات بنتی جا رہی ہے۔

مسلمان دنیا میں انسان کی تخلیق کا مقصد بھول چکے ہیں، ہیومنزم (انسان پرستی) کا عقیدہ اپنا چکے ہیں، اور اپنی عیش و ہوس کی خاطر ایک مسلمان بن کر نہیں بلکہ صرف ایک انسان بن کر ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیاوی زندگی ان کے لیے اتنی اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ اس کی خاطر دین سے گزر جاتے ہیں۔ ہر اسلامی معاشرے کی خاندانی، معاشرتی، اور سیاسی زندگی فساد کی راہ پر چل رہی ہے۔

لوگوں میں ماضی جیسی باہمی محبت اور اعتماد ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ مایوسی اور بدبختی نے سر اٹھا لیا ہے۔ مسلمانوں نے زمانۂ جاہلیت کے تمام رسوم و رواج کو پھر سے زندہ کر لیا ہے، جیسے: چھوٹی چھوٹی باتوں پر جنگیں اور قتل و غارت، ناجائز عشق و محبت کے چکر، چوری اور لوٹ مار، غرور، تکبر، ظلم، استبداد، جبر، فحاشی، عریانی، عیاشی، بدکرداری وغیرہ۔

مسلمانوں کے اس طرح کے مسائل اور فسادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کفار کو بھی اپنے مقاصد کے حصول کا موقع میسر آگیا۔ مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے طرح طرح کے بہانوں سے باطل ادیان کی طرف مائل کیا جا رہا ہے، اسلامی معاشروں میں دینی شعائر پیروں تلے روندے جا رہے ہیں اور اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل اور مومن بہنوں کی بے راہروی اور گمراہی پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے اور اس میں سب سے بڑا کردار مغربی میڈیا ادا کر رہا ہے۔ مسلمانوں میں عقیدہ الولاء والبراء (دوستی و دشمنی) ختم ہو چکا اور اس عقیدے کی طرف دعوت دینے والے جیلوں میں پڑے ہیں۔ دین کے حوالے سے جہالت میں اضافہ ہوا ہے اور دینی علم اٹھا لیا گیا ہے، درسی نصابوں میں دشمنان دین اپنی مرضی مسلط کر رہے ہیں۔ سکولوں، بازاروں، کارخانوں اور حکومتی اداروں میں مرد و زن کا اختلاط، زنا اور اس طرح کے دیگر فساد عام ہو چکے ہیں۔ معیشت، تجارت، بنکاری نظام سب سود پر چل رہے ہیں۔

کفار نے عالم اسلام میں اپنے ہم فکر لوگوں کو اقتدار کا مالک بنایا ہے اور اس مقتدر طبقے کی مدد سے عالم اسلام کو مادی اور روحانی اعتبار سے اپنی مٹھی میں لے لیا ہے۔ یہ کٹھ پتلی حکمران الہٰی احکامات کی جگہ  انسان کے بنائے قوانین کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، شرعی حدود کے نفاذ کو انسانیت دشمن عمل کہتے ہیں، اور عوام پر حقیقی اسلام کی بجائے اعتدال پسند اسلام کا نفاذ کرتے ہیں، اسلامی مقدسات اور سرحدات کفار کے قبضے میں ہیں اور مساجد اور دینی مراکز کی جگہ پر چرچ، سینما اور میوزیم بنائے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں پر زندگی کا دائرہ تنگ کیا جا رہا ہے، حجاب، دینی تعلیم، اور اسلامی حلیہ اپنانے پر پابندیاں لگ چکی ہیں، قبلہ پر قبضہ ہے، قرآن جلائے جا رہے ہیں اور پیغمر علیہ السلام کے کارٹون بنائے جا رہے ہیں، آزادی سے اسلامی احکامات پر کوئی عمل نہیں کر سکتا۔ بے دین، بے غیرت اور بدعنوان لوگ عزت دار ہیں اور مسلمانوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے۔ قید خانے مسلمان عورتوں، بچوں اور بوڑھوں سے بھرے پڑے ہیں۔

ایک مضبوط اور متحد عالم اسلام کا شیرازہ بکھر چکا، متحد مسلمانوں میں تفرقہ اور نفرت کے بیج بوئے گئے اور وہ ایک دوسرے کے دست و گریباں ہو گئے۔ مسلمانوں کے قدرتی وسائل پر عالمی طاقتوں کا قبضہ ہے، مسلمان اپنے ہی ممالک میں غربت کا شکار ہیں جبکہ غیر ملکی کفار کروڑ پتی ہیں، پورا عالم کفر امت مسلمہ کے خلاف متحد ہو چکا ہے۔ ایک چھوٹا سا طبقہ دین حق پر استقامت کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کا دفاع کر رہا ہے، دیگر طبقات دنیا کی خاطر دین کا سودا کر رہے ہیں اور دین کے نام پر اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔

۱۹۶۶ء میں مدرسہ ندوۃ العلماء کے وقت کے مشہور اور نامور مفکر مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے ایک اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا:

’’میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آج امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد (رحمھم اللہ) زندہ ہوتے تو علم فقہ کی تدوین کو چھوڑ کر دور حاضر کے فتنوں اور بے دینی کا مقابلہ شروع کر دیتے۔ آج ابو عبیدہ اور خالد بن ولید (رضی اللہ عنہما) منہ سے کچھ کہنے سے قاصر ہیں، لیکن بذبان حال کہہ رہے ہیں کہ اے مسلمانو! ہم اپنی زندگی میں ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کے دین کو نافذ کرنے سے نہیں ہٹے، ہم آج دنیا میں نہیں آسکتے اور یہ بھاری ذمہ داری (فتنوں اور الحاد سے مقابلہ) تمہارے کندھوں پر ہے۔

تو اے مسلمانو! متحد ہو جاؤ اور معاصر فتنوں، الحاد اور باطل ادیان کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرو۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کے دفاع اور اشاعت کی ہمت اور باطل کے خلاف جدوجہد کا جذبہ عطا فرمائے۔ آمین