علماء کے اوصاف و ذمہ داریاں

حسّان مجاہد

اگر علما کو اُس مسئولیت کا احساس ہو جائے جو ان کے کندھوں پر پڑی ہے، تو کھانا پینا، آرام اور زندگی کے سب خواب فوراً چھوڑ دیں۔ (سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ تعالیٰ)

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کو پیدا کیا اور ان پر کتابیں نازل کیں، جب نبوت کا سلسلہ ختم ہوا تو انبیاء کی یہ بھاری ذمہ داری اس امت کے علماء کی میراث بنی، اسی لیے علماء کی ذمہ داریاں بھی بہت بھاری ہیں اور اسی لیے انہیں ایسے بہترین امتیازی اوصاف کے مالک بھی ہونا چاہیے جن کا ہم ذیل میں ذکر کریں گے۔

1.    تقویٰ و خشیتِ الہٰی

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عام لوگوں کی اصلاح اور دین پر عمل کا تعلق علما کی اصلاح سے ہے، کیونکہ علماء میں خرابی دین اور لوگوں کے درمیان تعلق کو کمزور کردیتا ہے۔

معاشرے میں علماء کی حیثیت جسم میں دل کی طرح ہے، جس طرح دل کی خرابی پورے جسم کو بگاڑ دیتی ہے، اسی طرح علماء میں خرابی سے پورا معاشرہ بگڑ جاتا ہے۔

اگر علماء کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ختم ہو جائے تو وہ ایسے غلط کام کرنا شروع کر دیتے ہیں جن کے بارے میں عام لوگوں کو منع کیا جاتا ہے اور علماء میں دینی و اخلاقی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، پھر یہی کمزوری تمام لوگوں میں آجاتی ہے، پھر چاہے وقت کی اسلامی حکومت کوشش بھی کر لے پھر بھی لوگوں کی اس دینی کمزوری کو ختم نہیں کر پاتی۔

کہا جاتا ہے کہ ہوائی جہاز کے اگلے حصے میں ایک چھوٹا سا آلہ ہوتا ہے، جو ہوائی جہاز کو سمت دکھانے میں مدد دیتا ہے، اگر یہ آلہ بال برابر بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو طیارہ فوری طور پر اپنے راستے سے ہٹ جائے گا۔

علماء پوری امت کے نمائندے بھی ہیں، اگر یہ سیدھے راستے پر ہوں تو پوری امت سیدھے راستے پر ہو گی، اور اگر یہ اعلیٰ نبوی اخلاق سے محروم ہوں ، تو پوری امت اخلاقی بگاڑ سے آلودہ ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خشیتِ الہٰی کو علماء کی حقیقی صفت قرار دیا ہے۔

2.    بلند عزم و ارادہ

آج کل ہمارے ہاں علماء کی کوئی کمی نہیں، ہر سال دینی مدارس سے عالم کے نام سے ہزاروں افراد فارغ التحصیل ہوتے ہیں، لیکن ہمیں ایسے علماء کی کمی کا سامنا ہے جو صحیح معنوں میں دین کی خدمت کر سکیں اور ہر خلا کو پر کر سکیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’ إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ، لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً‘‘ [الترمذی، ابن ماجہ و امام احمد وغیرہم]

ترجمہ: انسان ان سو اونٹوں کی طرح ہیں کہ ان سو اونٹوں میں ایک بھی سواری اور بار برداری کے قابل نہیں ملتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ دکھایا کہ جب اونٹوں کے ریوڑ میں دیکھیں تو سو اونٹوں میں سواری اور بار برداری کے قابل کوئی ایک اونٹ ہی ملتا ہے، اسی طرح ناقص اور ناکارہ انسان بہت ہیں لیکن باکمال، اپنے حالات اور صفات میں کامل اور قابل انسان سو میں سے کوئی ایک ہی نکلتا ہے۔

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فتح مصر میں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مدد طلب کی، عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: چار ہزار کے مقابلے میں میں چار لوگ، زبیر بن عوام، مقداد بن عمرو، عبادہ بن صامت اور مسلمۃ بن خالد رضی اللہ عنہم مدد کے لیے بھیج رہا ہوں، ان میں سے ہر ایک ایک ہزار کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

ہم اگر غور کریں تو اس آخری زمانے میں بھی ایسے انسان مل جاتے ہیں کہ دیگر سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں کے مقابلے میں علم، استعداد، دینداری اور دیگر اعلیٰ صفات میں ممتاز ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس! ان صفات کے حامل افراد یکے بعد دیگرے رخت سفر باندھ رہے ہیں اور موت کے دروازے سے گزرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ ان کے کوچ کر جانے سے معاشرے کو کامل و باعمل انسانوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے علماء کے لیے لازم ہے کہ بلند عزم و ارادہ اپنے اندر پیدا کریں اور یہ نہ کہیں کہ ہم تو سلف صالحین سے بہت بعد میں آئے ہیں، کیونکہ وہ بھی ہماری طرح ہی انسان تھے، کسی اور قسم کے انسان نہیں تھے، علم، جہاد اور زہد کی استعداد ان کے ساتھ مٹی میں نہیں مل گئیں بلکہ آج بھی باقی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر ویسی استعداد اور کمالات کا ظرف پیدا کریں، تاکہ ہم بھی سینکڑوں اور ہزاروں میں کارآمد لوگوں کی طرح گھومیں اور مستقبل میں مزید کارآمد لوگ بنائیں اور دین کی دعوت اور دفاع میں قربانیوں کے سلسلے کو مزید آگے بڑھائیں۔

3.    نفرت سے بچنا

علماء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کو مدنظر رکھیں جو معاذ بن جبل اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کو یمن کی طرف بھیجتے وقت کی تھی: ’’آسانی پیدا کرنا تنگی نہ ڈالنا، لوگوں کو خوش رکھنا متنفر نہ کرنا اور آپس میں اتفاق رکھنا۔‘‘ اس نصیحت پر عمل کرنے کی علماء کو اگرچہ ہر زمانے میں ضرورت رہی ہے لیکن موجودہ زمانے میں اس کی ضرورت بہت بڑھ گئی ہے۔

اگر کچھ علماء سختی سے کام لیں اور اس سختی کی وجہ سے لوگ دین سے پیچھے ہٹ جائیں، تو اس قسم کے علماء در حقیقت ڈاکو ہیں، کیونکہ انہوں نے لوگوں سے دین کا وہ راستہ چھڑوا دیا جس پر وہ چلنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

4.    امت مسلمہ کو گمراہی سے بچانا

علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ سب سے پہلے دین کا علم و بصیرت حاصل کریں، لوگوں کو دین کی طرف بلائیں، انہیں درست عقیدے اور اسلامی روح سے آراستہ کریں اور امت مسلمہ کو گمراہی اور بے راہروی سے نجات دلائیں۔

آج اسلامی معاشروں میں بڑے پیمانے پر فساد اور منکرات نے سر اٹھا رکھا ہے اور دین پر عمل بہت کم ہو چکا ہے، ماضی میں لوگ مکروہات اور شہبات سے خود کو بچاتے تھے، لیکن آج لوگ واضح طور پر حرام امور کی طرف رخ کر چکے ہیں، ماضی میں لوگ مستحب اعمال کرتے تھے لیکن آج لوگوں نے دینی شعائر و فرائض کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا ہے، ماضی میں مسلمان اپنے دین پر پہاڑ کی طرح مضبوط کھڑے تھے، لیکن آج الحاد اور بے دینی کی ہوائیں لوگوں کو اپنے دین سے پرے اڑا لے جا رہی ہیں، ماضی میں نوجوان سلف الصالحین کو اسلامی ہیرو اور اپنا مقتدا سمجھتے تھے، لیکن آج لوگ ان کی جگہ ہندی اور ترکی فلموں کے اداکاروں کی تقلید کرتے ہیں۔

علماء نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہیں، انہیں چاہیے کہ آج جو امت مسلمہ فتنہ و فساد کے سمندر میں غرق ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے اسے جلد سے جلد بچائیں۔

5.    غفلت و سستی سے بچنا

امام محمد رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا: آپ رات کو سوتے کیوں نہیں؟ فرمایا: امت سو رہی ہے، کیونکہ انہیں مجھ سے امیدیں ہیں، اس لیے مجھے سونے کی ضرورت نہیں۔ آج اگر امام محمد نہیں ہیں تو لوگوں کی امید بھری نظریں علماء کی طرف اٹھتی ہیں۔ علماء امت کے محافظ ہیں، ان کی غفلت کے نتیجے میں امت دشمنان انس و جن کے ہتھے چڑھ جاتی ہے۔

آج ہم حق سے محبت میں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ ہمارے دشمن باطل دین کو پھیلانے میں مصروف ہیں اور امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اسماعیل المقدم کہتے ہیں: جرمنی کے ایک نوجوان نے مجھے بتایا: ’’صبح ہوتے ہی سڑکوں اور گلیوں میں عیسائی مبلغین پھیل جاتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنے باطل عقائد کی دعوت دیتے ہیں، صبح چھ بجے ایک جرمن مبلغ نے میرے دروازے پر دستک دی، جب مجھے اندازہ ہوا کہ اس کا مقصد مجھے اپنے باطل عقائد کی طرف بلانا ہے، تو میں نے اس پر اپنا اسلام ظاہر کیا اور اسے کہا کہ مجھے تمہاری دعوت کی کوئی ضرورت نہیں، جب میں نے اسے اپنے مؤقف پر اصرار کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے اس کے منہ پر دروازہ بند کر دیا، لیکن وہ بند دروازے کے سامنے بھی آدھا گھنٹہ کھڑا رہا اور اپنے عقیدے کی دعوت دینے اور مجھے اپنے باطل دین کی طرف بلانے پر مصر رہا۔ (علو الھمۃ ص ۲۹۶)

علماء کو چاہیے کہ وہ حق کی خاطر اور باطل کے مقابلے میں سستی اور غفلت سے گریز کریں اور اس راہ میں کبھی مایوسی اور تھکاوٹ کا شکار نہ ہوں۔

6.    باہمی اختلافات سے نفرت

جب اسلامی اندلس (موجودہ سپین) کا سقوط ہوا تو صدیوں پر محیط مستحکم اسلامی نظام منہدم ہو گیا اور وہ علاقہ عظیم اسلامی نعمت سے محروم ہو گیا۔ اس کی وجوہات جاننے کے لیے بہت سے لوگوں نے تحقیق کی ہے اور اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن پھر بھی وہ اس خطا کی طرف اشارہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے جو اس وقت  کے علماء سے صادر ہوئی، ان کی سب سے بڑی خطا باہمی اختلاف تھا۔

علماء کا عالمی سطح پر باہمی اتحاد ہونا چاہیے، علماء ایک ایسی قوت ہیں جو اپنے مقتدی، سامعین اور بہت اثر رکھتے ہیں، لیکن یہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ ہر ملک میں ان کے مابین اتحاد اور تعاون پایا جاتا ہو۔

عالمِ کفر نے علماء کے درمیان ان چھوٹے اختلافات کا ادراک کر لیا ہے جنہیں علماء مختلف ناموں سے پکارتے ہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ علماء کے درمیان اختلاف اور نفرت کی آگ کو بھڑکاتے ہیں، اور اس طرح اپنی بقا کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ کسی بحران کے وقت بعض علماء دوسرے علماء کو کمزور کریں، کفار کا ایک گروہ ایک طرف علماء کو یہ نظریہ پیش کرے کہ وہ ان سے ہم آہنگ ہیں اور ان کے مد مقابل فکر کے مخالف ہیں، حالانکہ کفار سب کے ہی مخالف اور ایک ملت ہیں۔

7.    حق کے ساتھ باطل کی پہچان

دین میں جس قدر حق کی پہچان کو اہم اور بنیادی کام کہا گیا ہے ، اسی طرح باطل کی پہچان یعنی باطل ادیان، نظریات اور گمراہ فرقوں کی پہچان بھی بنیادی کام اور مسلمان داعی کا مقدس فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ جب تک مسلمان اپنے دشمنوں کے نظریات، عقائد اور اہداف کو نہیں پہچانیں گے، تو وہ اس کے سامنے مناسب مؤقف اختیار کرنے سے بھی قاصر رہیں گے اور مناسب تعامل کرنے سے بھی۔

اگر ہم بالعموم اسلامی مفاہیم کو دیکھیں تو ان میں مرکزی نقطے دو معلوم ہوتے ہیں، سب سے پہلے عقائد، عبادات، معاملات اور زندگی کے دیگر انفرادی، اجتماعی اور سیاسی شعبوں میں خیر کی پہچان اور دوسرا نقطہ ان ہی تمام شعبوں میں شر کی بھی پہچان، تاکہ ہم خیر کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ شر کے مقابلے میں سب سے پہلے خود کو اور پھر دیگر لوگوں کو بچا سکیں اور اس کے خلاف جدوجہد کر سکیں۔

قرآن کریم نے جس طرح مسلمانوں کو ’ولاء‘ یعنی اسلام اور مسلمانوں سے دوستی کے عقیدے کی تعلیم دی ہے ، اسی طرح اسے ’براء‘ یعنی کفر اور کفار سے بیزاری کا عقیدہ بھی سکھایا ہے۔

آج جن باطل ادیان و افکار نے سر اٹھایا ہے اور مسلمانوں میں روز بروز بتدریج پھیل رہے ہیں اور ان کے پیروکاروں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ باطل کو نہ پہچاننا ہے۔ باطل کبھی بھی کھل کر سامنے نہیں آتا، باطل ہمیشہ اسلامی معاشروں میں حق کی آڑ میں ہی رہا ہے۔

آج وسیع ذرائع ابلاغ جیسے رسائل، ویب سائٹس، سیریلز، ڈرامے اور دیگر نشریات کے ذریعے مختلف باطل ادیان و افکار کی دعوت جاری ہے، اور شب و روز افکار کو تباہ کرنے، مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور امت مسلمہ کے انحطاط کی کوششیں جاری ہیں۔

آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کہ ’’ایک شخص جو شام کو مسلمان ہو گا صبح کافر ہو جائے گا، اور جو صبح کو مسلمان ہو گا شام کو کافر ہوجائے گا‘‘ کے مظاہر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ملحدین، سیکولرز، لیبرلز، مسلمانوں میں اپنے دین، قرآن اور پیغمبر کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں، تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کو کچھ پیسوں کے بدلے تیزی سے کافر بنا لیں۔

جب علماء نے چودہ پندرہ سال تک حق کو صحیح پہچان لیا، تو اب ان پر لازم ہے کہ تمام معاصر باطل ادیان، معاصر جاہلی نظریات، افکار، اور گمراہ و منحرف گروہوں کو باریکی کے ساتھ پہچانیں، اس پر تحقیق کریں، اس کے ذرائع منکشف کریں، ان کے اہداف معلوم کریں، ان کے وسائل کا ادراک کریں، اس کی روک تھام اور خاتمے کی کوشش کریں، اور مسلمان اقوام کو اس خطرے سے پوری طرح آگاہ کریں، انہیں اس سے بچائیں اور ان کے خلاف لوگوں کو متحرک کریں۔