ترکی میں حالیہ حملوں سے داعش کا مقصد

ماہر بلال

تاریخ گواہ ہے کہ امت مسلمہ میں ہر فتنہ کفر کی طرف سے پیدا کیا گیا، چاہے جو بھی فتنہ ہو اس میں یہود اور ان کے ساتھیوں کا کردار لازمی ہوتا ہے۔ خوارج (داعش) اور ایسے بہت سے دیگر فتنے ہیں جنہیں بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔

موجودہ دور کے عظیم فتنوں میں سے ایک کا نام داعش ہے جسے ہم خوارج کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ داعشی خوارج کے حوالے سے بہت سے شواہد موجود ہیں کہ جو اسلام کے خلاف ان کے کالے کرتوتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آج تک خوارج کے تمام مظالم کا شکار صرف مسلمان ہوئے ہیں اور ان کے وحشی حملوں کا نشانہ ہمیشہ مسلمان ہی ہوا کرتے ہیں۔

داعشی خوارج کے اسرائیل سے روابط و تعلقات ہیں، ان کے مشہور قائدین اسرائیل کے تربیت یافتہ ہیں اور اس سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں اور ان سے شیطانی کام سیکھتے ہیں۔

داعشیوں نے آج تک ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے مسلمانوں کو ذرہ برابر بھی بھلائی حاصل ہوئی ہو، موساد کے ایجنٹ داعشوں کے ہر کرتوت کی تحقیق کی جائے تو وہ اسرائیل کے مفاد میں ہی کیا گیا ہو گا۔

خوارج نے ترکی میں ہونے والے تازہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، چاہے یہ حملہ جیسا بھی ہو لیکن اس حملے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ترکی میں غزہ کے مجاہدین (حماس) سے تعاون کرنے والے مسلمان اور وہ مسلمان جو کسی نہ کسی طرح فلسطین کے دفاع میں سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں، خوفزدہ ہو جائیں اور اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں۔ اس حملے کا مقصد یہ بھی ہے کہ فلسطین کے دفاع میں سرگرم مسلمان پولیس کی طرف سے تنگ کیے جائیں اور فلسطین کے ساتھ تعاون میں اپنی سرگرمیاں روک دیں۔

یہاں داعشی خوارج اپنے ڈرامائی حملوں سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، ترکی میں ان کے کیے جانے والا حملہ بظاہر چرچ پر تھا، لیکن اگر اس حملے کا مقصد اور داعشی خوارج کی خفیہ سازشوں کو دیکھیں تو ظاہر ہو جائے گا کہ یہ کام اسرائیلی تعاون سے کیا گیا یعنی اس میں رہنمائی اسرائیل کی تھی اور کام داعش نے کیا۔

دورِ حاضر میں اسرائیل کے ہاتھ بہت سستے داموں قوی جنگجو آگئے ہیں، ایسے سستے جنگجو ہیں کہ اسرائیل کی خاطر ہر طرح کی سختیاں بھی برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ آج اسرائیل ان گھٹیا اور سستے غلاموں کے ذریعے جو سازش کرتا ہے اس میں فائدہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی اس حوالے سے اسرائیل پر انگلی نہیں اٹھا سکتا اور ساتھ میں انتہائی سستے داموں اسرائیل اپنا ہدف بھی حاصل کر لیتا ہے۔

ہم داعش کی حقیقت کے بارے میں ابتدا ہی سے کہتے آئے ہیں کہ یہ ایک خارجی رجحان ہے اور کفار اور ان کے غلاموں کی حمایت سے جاری اور سرگرم ہے۔ داعشی خوارج کا واحد مقصد اسلام، مسلمانوں، مجاہدین اور بالخصوص اسلامی نظام کی کمزوری ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ امت مسلمہ ایک بار پھر اپنے سابقہ وقار کا اعادہ کر لے اور اپنی سابقہ سنہری تاریخ کو دہرائے۔ یہی داعشی خوارج ہیں کہ جو یہودیوں کی بڑی سازشوں کا ایک حصہ ہیں۔