تصوف، اللہ رب العزت تک پہنچنے کا مختصر راستہ

قلب الاسد افغانی

جیسا کہ مسلمانوں بالخصوص افغانیوں کو بے شمار خود غرض اور کم فہم لوگ یہ رائے دیتے ہیں کہ تصوف ایک بدعت ہے اور یہ اسلام میں ایک نئی چیز پیدا کی گئی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس بارے میں لکھا جائے تاکہ شکوک و شبہات ختم کیے جا سکیں۔

تصوف کی تعریف

شیخ زروق ’’قواعد التصوف‘‘ کے دوسرے صفحہ پر فرماتے ہیں:

’’تصوف کی دو ہزار سے بھی زیادہ تعریفیں اور تشریحات کی گئی ہیں۔‘‘

لیکن یہاں ہم تحریر میں طوالت سے بچنے کے لیے صرف ایک تعریف ہی لیں گے۔

قَالَ القَاضِي شَيْخُ الإِسْلَامِ زَكَرِيَّا الأَنْصَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: (التَّصَوُّفُ عِلْمٌ تُعْرَفُ بِهِ أَحْوَالُ تَزْكِيَةِ النُّفُوسِ، وَتَصْفِيَةُ الأَخْلَاقِ وَتَعْمِيرُ الظَّاهِرِ وَالبَاطِنِ لِنَيْلِ السَّعَادَةِ الأَبَدِيَّةِ)  "الرسالة القشيرية” ص7.

یعنی تصوف وہ علم ہے کہ جس کے ذریعے تزکیۂ نفس، تصفیۂ اخلاق اور تشکیلِ باطن کا ادراک ہوتا ہے، تاکہ انسان ابدی خوش بختی حاصل کر سکے۔

تصوف پر اعتراض

بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تصوف کیوں نہیں تھا؟

جواب: اگرچہ وہاں تصوف کا نام موجود نہیں تھا لیکن بالفعل تصوف موجود تھا، کیونکہ تصوف سے ہماری مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء ہے، لہذا کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء نہیں کی۔

صحابہ کی مثال ایسی ہے کہ ایک عرب جو عربی زبان جانتا ہو تو اسے کیا کبھی صرف و نحو کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ اور ہماری مثال ایسی ہے کہ ایک عجمی جو عربی پڑھتا ہے تو لازماً وہ صرف و نحو سیکھے گا تاکہ ہر جملہ درست طریقے سے اور صحیح اعراب کے ساتھ پڑھ سکے۔

تصوف کی تاریخ

تصوف کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ امام حافظ سید محمد صدیق غماوی تصوف کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’تصوف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمانی وحی سے وجود میں آیا ہے، جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام، ایمان اور احسان کا بیان کیا، تو یہاں احسان سے مراد علم تصوف تھا، کیونکہ انہوں نے احسان کے باب میں فرمایا: ’’ان تعبد الله کانک تراه‘‘ یعنی احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت کی جائے کہ جیسے آپ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں، اور یہ تصوف ہی تو ہے۔‘‘

(أخرجه الإمام مسلم في صحيحه في كتاب الإيمان عن عمر بن الخطاب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)

اسی طرح یہ بھی فرمایا:

’’تصوف دین کے تین ارکان میں سے ایک رکن ہے، لہذا ہر وہ شخص جو تصوف سے دور ہے، اس کا دین ناقص ہے، کیونکہ اس نے دین کا ایک رکن پورا نہیں کیا۔‘‘

(الانتصار لطريق الصوفية” ص 6 للمحدث محمد صديق الغماري)

اسی طرح اور بھی بہت سے اقوال موجود ہیں۔

تصوف کی اہمیت

تصوف کی اہمیت کے بارے میں بہت سے اقوال موجود ہیں۔

اوّل:

قَالَ الإِمَامُ جَلَالُ الدِّينِ السُّيُوطِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: ( أَمَّا عِلْمُ القَلْبِ وَمَعْرِفَةُ أَمْرَاضِهِ مِنَ الحَسَدِ وَالعُجْبِ وَالرِّيَاءِ وَنَحْوِهَا، فَقَالَ الغَزَالِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: إِنَّهَا فَرْضُ عَيْنٍ)

"الأشباه والنظائر” للسيوطي ص504

ترجمہ: امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علییہ فرماتے ہیں: (دل اور اس کے امراض جیسے حسد، ریاء، عُجب وغیرہ کے علم کے بارے میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ فرض عین ہے۔)

دوم:

قَالَ حُجَّةُ الإِسْلَامِ الإِمَامُ الغَزَالِيُّ

(الدُّخُولُ مَعَ الصُّوفِيَّةِ فَرْضُ عَيْنٍ، إِذْ لَا يَخْلُو أَحَدٌ مِنْ عَيْبٍ إِلَّا الأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ)

"النصرة النبوية” عَلَى هامش شرح الرائية للفاسي ص26.

ترجمہ: حجۃ الاسلام امام غزالی نے فرمایا:

(صوفیہ کے ساتھ تصوف میں شامل ہونا فرض عین ہے، کیونکہ انبیاء علیہ السلام کے علاوہ کوئی بھی عیب سے پاک نہیں ہے۔)

اسی طرح اور بہت سے اقوال، احادیث اور آیات ہیں جو تصوف کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں لیکن ہم انہیں پر اکتفا کریں گے۔