ٹاپی منصوبہ، امید و یاس کے درمیان امید کی نئی کرن

رحمت اللہ فیضان

افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان ایک روزہ دو طرفہ اجلاس ۱۶ دسمبر ۲۰۲۳ء کو مغربی افغانستان میں صوبہ ہیرات میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ترکمانستان کے وفد کی سربراہی کابینہ کے نائب، اور وزیر خارجہ رشید مردوف صاحب کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ ٹرانسپورٹیشن کے سربراہ محمد خان چاقائف، ریاستی ترکمان گیس کمپنی کے سربراہ مقصد بابائف، ترکمانستان کے ریلوے کے سربراہ آزاد آتامر ادوف، ترکمانستان، افغانستان، پاکستان ٹرانسمیشن پراجیکٹ کے سربراہ مراد ارٹیکوف، افغانستان میں ترکمانستان کے سفیر خواجہ عوضوف اور کچھ دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔

افغانستان کی طرف سے، ایک اعلی سطحی وفد نے اس دو طرفہ اجلاس میں شرکت کی، جس کی سربراہی  افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ وزیر تجارت نور الدین عزیزی، وزیر معدنیات و پیٹرولیم شیخ شہاب الدین دلاور، وزیر ٹرانسپورٹیشن کے معاون ملا عبد السلام حیدری، پاور ٹرانسمیشن کمپنی کے چیف پروگرام انجینئر محمد نجیب شریفی، ریلوے سربراہ بخت الرحمن شرافت، ترکمانستان میں افغانستان کے سفیر فضل محمد اور کچھ دیگر فنی ماہرین بھی شامل تھے۔

اس دو طرفہ اجلاس کے اہم موضوعات پاور ٹرانسمیشن، ریلوے، ٹرانسپورٹیشن اور تجارت تھے اور اس کے ساتھ ’’ٹاپی‘‘ (TAPI) منصوبے پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔

اجلاس کے آغاز میں افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ہمارے ممالک کے پاس مختلف شعبوں میں ترقی کے اچھے مواقع موجود ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری مشترکہ کوششوں سے عنقریب بڑے منصوبوں پر کام ہو گا جو بلاشبہ دونوں ممالک کی عوام کے مفاد میں ہے، امارت اسلامیہ افغانستان ٹاپی منصوبے کے تکنیکی اور دیگر شعبوں کے حوالے سے مکمل طور پر تیار ہے۔

ترکمانستان نے دسمبر ۱۹۹۱ء میں سابق سویت اتحاد سے علیحدگی کے بعد، جنوبی ایشیاء میں گیس کی ترسیل شروع کی، جب ۱۹۹۶ء میں امارت اسلامیہ حکومت میں آئی، تو ٹاپی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ترکمانستان کے ساتھ رسمی بات چیت کی گئی، لیکن اس منصوبے پر امارت اسلامیہ کے سابقہ دور میں عمل درآمد نہ ہو سکا جس کی وجہ روس اور امریکہ دشمنی تھی۔

ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا (TAPI) کے رہنماؤں نے ۲۰۱۰ء، ۲۰۱۵ء اور ۲۰۱۸ء میں تین بار ٹاپی منصوبے پر مشاورت کی۔

آخری اجلاس ۲۰۱۸ء میں صوبہ ہیرات کی میزبانی میں ہوا، اس اجلاس میں ٹاپی منصوبے پر عمل درآمد کے ساتھ ۵۰۰ کلو واٹ بجلی کی ترسیل، ریولے اور فائبر آپٹک منصوبوں کو شروع کرنے پر بھی بات ہوئی، لیکن ٹاپی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔

طے یہ ہوا تھا کہ ۲۰۲۰ء میں ٹاپی منصوبہ پر کام شروع ہو جائے گا، لیکن تاحال کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ہیرات میں افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان تازہ دو طرفہ اجلاس نے ایک بار پھر ٹاپی منصوبہ  کے بارے میں امید و یاس کے درمیان امید کی نئی کرن پیدا کی ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ دو طرفہ اجلاس میں افغان فریق نے امید ظاہر کی کہ صوبہ ہرات میں نور الجہاد نامی پاور سب سٹیشن کا کام اگلے سال مارچ تک مکمل ہو جائے گا۔

ہرات میں نور الجہاد سب سٹیشن منصوبے کی تکمیل سے اس صوبے میں بجلی کی کمی کا مسئلہ بنیادی طور پر حل ہو جائے گا اور بجلی کی زیادہ تر ضروریات پوری ہو جائیں گی۔ مذکورہ منصوبے پر چراسی لاکھ نواسی ہزار تین سو چھپن ڈالر لاگت آئے گی، جسے پاور سپلائی کمپنی کے بجٹ سے ادا کیا جائے گا۔

اجلاس میں افغان فریق نے یہ بھی کہا کہ افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ایک اور بہترین موقع ہے جس سے دونوں ملکوں اور اس کے عوام کو فائدہ پہنچے گا، اس موقع پر ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے، ہر طرف امن و سلامتی قائم ہو چکی ہے اور ایک ذمہ دار اور معاون حکومت قائم ہو چکی ہے، یہ ترکمانستان کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ تجارت اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں مشترکہ کام کیا جائے۔

افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان دو طرفہ اجلاس کے موقع پر حکومتی کابینہ کے ارکان نے ہرات کی عوام سے ایک عوامی جلسے میں خطاب بھی کیا۔ یہ جلسہ مولانا جلال الدین محمد بلخی نامی ایک ہال میں منعقد کیا گیا۔

یہ ہال ۲۰۰۸ء میں ۲ ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا اور اسے عوامی اور سرکاری اجلاس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ہال کو سیمنا کی شکل میں بنایا گیا اور اسے ثقافتی، تعلیمی اور فنی فلموں کو دکھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس ہال کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دو ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے

عوامی جلسے کے آغاز میں معدنیات و پیٹرولیم وزارت کے نگران وزیر شیخ شہاب الدین دلاور نے تقریر کی اور اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہرات اسلامی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اور یہ بڑے بڑے علماء کا وطن اور مدفن ہے، مجھے بہت خوشی ہے کہ علماء کے اس وطن میں اپنی عوام کے ساتھ امن، آزادی اور فساد سے پاک فضا میں مل رہا ہوں، ہم نے اپنی عوام کی مدد سے آزادی اور خودمختاری حاصل کی ہے، امارت اسلامیہ کے قیام سے طاقت کے علیحدہ علیحدہ جزائر ختم ہو چکے ہیں، قومی، مذہبی اور علاقائی تعصب ختم ہونے کے قریب ہے، گروپ اور پارٹیاں ختم ہو چکی ہیں اور اب ایک مرکزی حکومت قائم ہو چکی ہے۔ مرکزی حکومت ایک بڑی نعمت ہے، جو برسوں تک کے لیے ہم سے چھن چکی تھی، لیکن اب الحمد للہ ایک حکمرانی ہے، اس واحد حکمرانی کا فائدہ یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی گروہ میں متحد ہیں، جہاں ایک حکومت نہیں ہوتی وہ ملک تقسیم ہو جایا کرتے ہیں۔ اگر کسی جگہ کسی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے نا انصہ ںطام کی طرف سے نہیں بلکہ اس شخص کا ذاتی فعل ہوتا ہے اور ایسا کام کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ذلیل و رسوا کرے گا۔ یہ نظام ہمیں آسانی سے نہیں ملا، بلکہ اس راستے میں عظیم قربانیاں دی گئی ہیں۔

دلاور صاحب نے معشیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سال میں امارت اسلامیہ کی طرف سے ہرات پر خاص توجہ دی گئی ہے، یہاں معدنیات کے بڑے بڑے معاہدات کیے گئے ہیں، لوہے کی کان کا معاہدہ بہت سوچ و بچار کے بعد کیا گیا ہے۔ ہم ہرات کو لوہے کی برآمدات کے ایک بڑے مرکز میں بدلنا چاہ رہے ہیں، تاکہ ہرات میں آنے والی نسلوں کو اقتصادی مسائل سے بچایا جا سکے۔  گزشتہ روز ہم نے ترکمانستان کے وفد سے ٹاپی منصوبے کے بارے میں تفصیلی ملاقات کی۔ سب سے پہلے ہرات کی عوام کو گیس فراہم کی جائے گی، اس حوالے سے ہمیں امید ہے کہ نجی کمپنیاں ہرات شہر میں گیس نیٹ ورک کی توسیع کے معاہدوں میں سرمایہ کاری کریں گی۔ ہرات اور غور کو آپس میں جوڑنے والی ۳۵۰ کلومیٹر لمبی سڑک بنیادی طور پر معدنیات کی آمدی سے بنائی جائے گی، اسی طرح ہرات کی سرکلر روڈ جو ۱۷۰ کلومیٹر لمبی ہے وہ بھی معدنیات کی آمدنی سے بنائی جائے گی۔

جلسے سے تجارت و صنعت کے وزیر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ مستقبل قریب میں ہمارے نزدیک آپ کیے لیے اقتصادی ترقی کے بہترین مواقع موجود ہیں، بڑے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے، اس قوم کا ایک روپیہ بھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ قومی محصولات کو پوری امانت داری کے ساتھ قوم کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں آرام اورسکون کی زندگی گزاریں۔ ہرات میں بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک صنعتی شہر بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو کہ ہرات کی عوام کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ مستقبل قریب میں ہم خود کفالت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کریں گے تاکہ دوسروں کی محتاجی سے نجات حاصل کر سکیں۔ وزیر تجارت نے یہ بھی کہا کہ امارت اسلامیہ کے تمام اخراجات جائز ذرائع سے پورے کیے جاتے ہیں اور تمام سودی نظاموں اور طریقوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔

جلسے کے اختتام پر ملک کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے خطاب کیا اور کہا کہ ہرات کو افغانستان میں ایک خاص مقام حاصل ہے، اسی طرح امارت اسلامیہ کے ذمہ داران کی نظر میں بھی ہرات کو خاص اہمیت حاصل ہے، آپ لوگ گواہ ہیں کہ اس صوبے میں بڑے بڑے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ترکمانستان کے وزیر خارجہ سے ہم نے ریلوے لائن کی توسیع کے حوالے سے بات چیت کی ہے، اسی طرح ہم نے ٹاپی منصوبہ شروع کرنے کے حوالے سے بھی بات کی ہے اور اس کے ساتھ بجلی کے منصوبوں پر بھی بات ہوئی۔

معیشت کے حوالے سے متقی صاحب نے کہا کہ ہمارے ملک کی کرنسی (افغانی) پڑوسیوں کے مقابلے میں ہر روز اوپر جا رہی ہے اور یہ عالمی سطح پر واحد کرنسی ہے جو ڈالر کے مقابلے می بھی اوپر جا رہی ہے۔ شفافیت کے معاملے افغانسان بہت آگے نکل چکا ہے، قیمتوں پر قابو پا لیا گیا ہے، امارت نے تمام تاجروں اور صنعت کاروں کو ہر شعبے میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہماری تمام سرحدیں کھلی ہیں جس کی اقتصادی بہتری اور قیمتوں میں کمی کے حوالے سے بہت اہمیت ہے۔ بڑے پڑے اور ہائی بجٹ منصوبوں پر کام جاری ہے، تیل نکالنے کا کام جاری ہے، قوشتپتہ کینال کام شروع کرنے کے قریب ہے اور سالنگ کا بھی افتتاح ہونے والا ہے۔

جب استعماری طاقتیں کسی ملک پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں تو وہ عوامی رہنماؤں کو کرپشن میں جبکہ عوام کو منشیات میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اب منشیات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور منشیات کے عادی لوگوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔

سفارت کاری کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ چین، روس اور ترکی سمیت بہت سے مالک میں ہمارے سفارت خانے کھل چکے ہیں اور کچھ اور ممالک بھی اس حوالے سے ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں اور یہ ایک بڑی سیاسی پیش رفت ہے۔ آپ کے علم میں ہے کہ چین نے اپنے رسمی سفیر کو افغانستان بھیجا ہے اور ہمارے رسمی سفیر کو تسلیم کر لیا ہے۔ ہم الحمد للہ دنیا سے اس طرح الگ تھلگ نہیں ہیں جیسے ہمارے بارے میں پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔

بعض لوگ جامع حکومت کے قیام پر زور دیتے ہیں، اگر جامع کا مطلب یہ ہے کہ تمام طبقات، اقوام، اور مذاہب کے افراد کا حکومت میں حصہ ہو تو ہماری کابینہ میں تمام طباقت اور اقوام کے لوگ شامل ہیں اور اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ انٹیلی جنس منصوبوں سے منسلک افراد کو حکومت میں حصہ دیا جائے تو ایسا ناممکن ہے۔

وزیر خارجہ نے سابق جنگجو کمانڈر اسماعیل خان کا بھی حوالہ دیا اور اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ہم نے کمانڈر اسماعیل خان کو بھی پر امن زندگی کی یقین دہانی کرائی، بہت عزت و احترام کے ساتھ اسے گھر پہنچایا، اس نے کہا میں بیمار ہوں، ایران جانا چاہتا ہوں، بڑی عزت کے ساتھ انہیں ایران بھجوایا، لیکن بد قسمتی سے اس نے ہمارے احترام کو نظر انداز کیا اور پھر سے ہماری مخالفت شروع کر دی۔ آپ لوگ جانتے ہیں کہ ساری سابقہ تنظیمیں متحد ہو کر بھی افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے قابل نہیں، اس لیے مجبور ہیں کہ اپنی حفاظت کے لیے ایک بار پھر غیر ملکیوں کو دعوت دیں، لیکن غیر ملکیوں کی دوبارہ آمد ایک خواب ہے، خیال ہے، ایک ناممکن جنون ہے۔ آج کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ افغانستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔

یہ خوشی کا مقام ہے کہ ہرات میں افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان  دو طرفہ اجلاس ایک خوشحال، پر امن اور آباد افغانستان کی امید کے ساتھ ایک کامل اور یقینی سلامتی کے ماحول میں اختتام پزیر ہوا۔