طالبان کی متحد صف اور داعش

انجینئر عمیر نظامی

ابتدائے اسلام کی تاریخ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دشمننانِ اسلام کو اسلامی لشکروں کے خلاف اکثر معرکوں اور جنگوں میں شکست ہوئی اور انہوں نے میدانِ جنگ سے فرار اختیار کی، لیکن بدقسمتی سے سیاسی اور نظریاتی میدان میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ اس جنگ میں یہود و نصاریٰ سب سے آگے ہیں جس کی ایک مثال ہم یہاں ذکر کریں گے۔

۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء کو جب امریکی جارحیت پسندوں نے داخلی غلاموں کی مدد سے افغانستان کی پاک سرزمین پر حملہ کیا، تو اس حملے کے ساتھ ہی عسکری اور نظریاتی دونوں جنگیں شروع ہو گئیں۔

عسکری شعبے میں بہت سے نوجوان حب الوطنی کے نام پر فوج، پولیس، سکیورٹی اور دیگر عسکری اداروں میں بھرتی ہوئے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس نے فکری جنگ بھی شروع کر دی، جس میں کم از کم سینکڑوں ٹیلی ویژن اور ریڈیو چینلز، مجلے، اخبارات اور جرائد کا استعمال کیا گیا۔ ثقافتی اور فکری سیمینار کروائے گئے اور ان کے ادارے دور دراز کے علاقوں تک بھی پہنچے۔ یہ پراپیگنڈہ اس قدر وسیع تھا کہ نوجوانوں اور مردوں سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر ہوئے۔

مختصرا یہ کہ امریکہ نے افغانیوں کے خلاف دونوں شعبوں میں وسیع آپریشن شروع کیا، طالبان کی مذاحمت اور جنگ آغاز میں نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن بتدریج جنگ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی، یہاں تک کہ ۲۰۱۰ء میں جنگ امریکہ کے بس سے باہر ہو گئی، یہی وہ وقت تھا جب امریکہ نے طالبان کے خلاف کچھ مختلف طریقے استعمال کرنا شروع کیے۔

طالبان خلافِ توقع دن بدن آگے بڑھ رہے تھے، امریکہ نے طالبان کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے لیے ’’حقّانی نیٹ ورک‘‘ کے نام سے وسیع پیمانے پر پراپیگنڈہ شروع کر دیا۔ خلیفہ سراج الدین حقانی صاحب نے اس وقت بی بی سی پر بڑی صراحت سے کہا کہ وہ امارت کے تحت جنگ کر رہے ہیں اور وہ کوئی مخصوص اور جدا گروپ نہیں ہیں، لیکن دشمن نے اپنا پراپیگنڈہ جاری رکھا۔ ان کی کوشش یہ تھی کہ یہ گروہ یا اس نام سے کوئی اور گروہ اپنا علیحدہ حیثیت سے اعلان کر دے۔ لیکن الحمد للہ حقّانی نیٹ ورک کا معاملہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ٹھنڈا پڑ گیا۔

جب حقّانی نیٹ ورک کے نام سے ان کے شیطانی دام نے کام نہیں کیا تو معتصم آغا جان کی باتیں خبروں کی شہ سرخیاں بن گئیں، وہی طلوع نیوز اس کا پراپیگنڈہ کرنے لگا اور امریکی منصوبے کے تجزیہ کاروں نے اسے بحث کا موضوع بنایا اور اس کی باتوں کے آغاز اور آخر میں اس بات کی تکرار کرتے کہ معتصم آغا جان کا طالبان میں اثر و روسوخ موجود ہے، طالبان اب تقسیم ہو جائیں گے، طالبان اب ایک گروہ کے طور پر باقی نہیں بچے، ایک قیادت کے تحت نہیں ہیں، اور آغا جان کے ساتھ امن مذاکرات بہت اہم ہیں، وغیرہ۔

امریکہ طالبان کو تقسیم کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہے تھے، اس وقت داعش ایک اچھے اور بہترین ہتھیار بلکہ یوں کہہ لیں کہ ایک نعمتِ غیر مترقبہ کے طور پر امریکیوں کے ہاتھ آ گئے، اور ساتھ ہی داعش کے بارے میں افغانستان میں وسیع پیمانے پر پراپیگنڈہ شروع کر دیا گیا، اور اسے خبروں کی شہ سرخیوں اور سیاسی بحثوں کا موضوع بنا دیا گیا۔

بلاشبہ، یہ حربہ باقی دونوں حربوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور کارآمد تھا، داعش نے افغانستان کے لیے اپنا گورنر اور علاقوں کے لیے اپنے ذمہ داران کا اعلان کیا، طالبان کے کچھ ارکان جو طالبان سے ناراض تھے، وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے اور داعش نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملے کرنے کی بجائے اپنے حملوں کا رخ طالبان کی طرف کر دیا اور طالبان کے ساتھ جنگ میں مصروف ہو گئے۔ اس جنگ کا اصلی مرکز مشرقی افغانستان تھا لیکن طالبان کی مدبرانہ سیاست بالخصوص ملا اختر محمد منصور شہید رحمہ اللہ کی وجہ سے داعش کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جنگ طویل ہو گئی اور طالبان کے لیے سخت دردِ سر بن گئی۔ بالآخر داعش میدان جنگ میں شکست کھا گئی، اور وہ تمام علاقے جہاں ان کی موجودگی تھی، طالبان نے ایک ایک کر کے سب کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور ان کا وہاں سے صفایا کر دیا۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ داعش کے وجود کے حوالے سے امریکیوں نے وسیع پیمانے پر پراپیگنڈہ کیا، میدان جنگ میں لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے ساتھ بھرپور مالی مدد بھی فراہم کی۔ ذمہ داران کابل، جلال آباد اور کنڑ کے شہروں میں محفوظ بیٹھے تھے۔

جب طالبان نے کابل کا اقتدار سنبھالا، تو داعشیوں کے گرد دائرہ دن بدن تنگ ہوتا چلا گیا۔ داعش نے جن شہروں کو اپنے لیے محفوظ پناہ گاہیں سمجھا اور بنا لیا تھا، وہ ان کے ہاتھ سے چلے گئے۔ ان کے اعلیٰ سطح کے ذمہ داران مارے گئے، بعض گرفتار ہوئے اور بعض افغانستان کے پڑوسی ممالک فرار ہو گئے، داعش کا عسکری وجود صوبائی مراکز اور اطراف میں صفر درجے تک گر گیا اور صرف میڈیا پراپیگنڈہ تک محدود رہ گئے، اور امریکہ کا طالبان کے خلاف عظیم منصوبہ اور حربہ ناکام ہو گیا۔

اگر طالبان کی سیاست اسی طرح آگے بڑھتی رہی، تو وہ وقت دور نہیں جب داعش کا نام و نشان ہی افغانستان سمیت خطے سے ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔

(بإذن الله)