تاجکستان: کفری منصوبوں کا نیا ٹھیکیدار

ماہر بلال

جب سے افغانستان میں اسلامی نظام اقتدار میں آیا، امن آیا، مومنین نے سکھ کا سانس لیا اور شرعی اسلامی نظام کا پرامن ڈھانچہ دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، تو اسی دن سے یہود و نصاریٰ بھی اپنے اسلام مخالف اہداف میں تبدیلی لے آئے۔

تقریبا تین سال قبل امارت اسلامیہ نے اقتدار سنبھالا۔ امارت اسلامیہ کو پڑوسی ممالک سے امید تھی کہ وہ افغانوں کے دکھوں کا مداوا کریں گے، اس لیے کہ اطراف کے ممالک میں سب ہی خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ افغانوں کو بھی امید تھی کہ اگر کوئی ان کے درد کا درما نہ بھی بن پائے تو کم از کم زخموں پر نمک چھڑکنے والا تو نہیں بنے گا، لیکن سب کچھ امیدوں کے برعکس نکلا۔

ہوا کچھ یوں کہ کفار نے اپنی شکست تسلیم کرنے کے ساتھ ہی ایک نیا خفیہ محاذ تشکیل دینا شروع کر دیا۔

کفار کو ایسے غلاموں کی ضرورت تھی کہ جو ان کے انخلا کے بعد امارت اسلامیہ کو ہر طرح سے کمزور کر دیں، اور اس منصوبے میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ افغانستان کے پڑوسی ممالک نے اس منصوبے پر لبیک کہا اور ڈالروں کے بدلے سب کچھ ماننے اور کرنے پر تیار ہو گئے۔

ان ممالک میں سے ایک تاجکستان بھی ہے۔ تاجکستان ہر ممکن طریقے سے موجودہ شرعی نظام کو کمزور اور بدنام کرنے پر کمر کس چکا ہے۔ اس بات کے بہت سے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر اب تاجکستان کو داعشی نظریے کے مرکز کے طور پر شمار کیا جا سکتا ہے۔ مثلا:

  • امارت اسلامیہ کے بہادر مجاہدین کی کاروائیوں میں مارے جانے اور پکڑے جانے والوں میں سب سے زیادہ تاجک شہری تھے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستانی شہری (ان میں سے بعض نے مذکورہ ممالک کی حکومتوں کی طرف سے حمایت اور مدد کا اقرار بھی کیا ہے۔)
  • ایک دفعہ ادارہ المرصاد نے متعدد تاجک شہریوں کے بیانات بھی نشر کیے تھے۔ انہوں نے اپنے منہ سے اقرار کیا تھا کہ انہیں تاجکستان کی طرف سے مالی معاونت ہوتی ہے اور وہاں ان کے مراکز بھی ہیں۔
  • بہت سوں نے تائید کی کہ انہیں ڈالر اور اخراجات بھی ادا کیے جاتے ہیں اور حکومت کی طرف سے مکمل تعاون بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

انٹیلی جنس معلومات کے مطابق تاجکستان نے داعشیوں کو حکم دیا ہے کہ تاجک نژاد داعشیوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے اور ان کا تعلق تاجکستان کی بجائے کہیں اور سے ظاہر کیا جائے، تاکہ توجہ تاجکستان کی طرف مبذول نہ ہو۔

اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے:

گزشتہ بدھ ایران کے شہر کرمان میں حملہ داعش کے تاجک شہریوں کی طرف سے کیا گیا، لیکن داعش نے اپنے حامی کا حکم مانا اور ان کی شناخت پوشیدہ رکھی۔

معلومات کے مطابق تاجکستان کی موجودہ پالیسی یہ ہے کہ افغانی، قندھاری یا مزاری جیسے ناموں کے ذریعے دنیا کو دھوکا دیا جائے اور ایک بار پھر افغانستان میں جنگ کی بجھی چنگاریوں کو ہوا دی جائے۔

داعشی خوارج کے استعمال کے ساتھ اب وہ چاہتا ہے کہ دنیا میں ہونے والی ہولناکیوں کو جعلی ناموں کے ساتھ افغانوں سے منصوب کیا جائے، حالانکہ ہر کیے جانے والے جرم میں وہ خود ملوث ہے۔

تاجکستان کی تمام منافقتوں کا پردہ چاک ہونے کو ہے، وہ جو اپنے اور کفار کے مفادات کی خاطر خطے میں بدامنی پیدا کرنا چاہتا ہے، اگر اس کا راستہ نہ روکا گیا تو اس کے برے نتائج سب کو ہی بھگتنا پڑیں گے۔

میری رائے:

ضرورت اس امر کی ہے کہ جو لوگ استحکام کے خواہاں ہیں وہ مذکورہ ملک پر سخت پابندیاں لگائیں اور اس سے تمام تعلقات ترک کر دیں، اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانو!

ہم داعش (جو عصرِ حاضر کے خوارج ہیں) کا اصلی چہرہ آپ کے سامنے آشکار کرتے ہیں، تاکہ آپ جھوٹی خلافت کے دعویداروں کو بخوبی پہچان سکیں اور ان کی گرتی دیواروں کو مزید دھکا دینے میں ہاتھ بٹا سکیں۔

ہر فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کا خواستگار ہوں۔

وما علینا الالبلاغ