تاجکستان کی افغانستان کو بدنام کرنے کی کوشش

محمد صادق طارق

داعش کا منصوبہ افغانستان میں امریکہ کی شکست کے بعد سامنے آیا۔ بظاہر عالمی نظریہ کے حامل اور افغانستان، پاکستان، ایران اور ہندوستان کو ملا کر مشرقی وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ایک خطے میں نام نہاد اسلامی خلافت کے قیام کے خواہاں، لیکین یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ بعض عالمی طاقتیں اور خطے کے ممالک نے اپنے مذموم مقاصد آسانی کے ساتھ حاصل کرنے کی خاطر انہیں تشکیل دیا۔ اس مفروضے کے اعتبار سے، افغانستان داعش کا حتمی ہدف نہیں، اس گروہ کو آگے بڑھنے کے لیے دیگر خطوں کی بھی ضرورت ہے

چونکہ داعش عالمی خلافت کے قیام کا دعویٰ کرتی ہے، اس لیے خراسان کے نام کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس گروہ کے ارکان افغانستان سمیت وسطی ایشیا کے ممالک بشمول ایران خراسان کے تاریخی علاقوں پر تسلط چاہتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق قرون وسطیٰ میں افغانستان کو خراسان کہا جاتا تھا، جس میں موجودہ افغانستان، شمال مشرقی ایران، جنوبی ترکمانستان، ازبکستان اور پاکستان کا ایک حصہ شامل ہے۔

اس وجہ سے داعش خراسان اپنے پیش روؤں کے برخلاف ایک عالمی نظریہ رکھتی ہے، جو صرف افغانستان کے مقامی ملیشیاؤں پر ہی مشتمل نہیں بلکہ اپنی صفوں میں کسی بھی دوسرے ملک کے شہریوں کو بھی قبول کرتی ہے۔ اسی بنا پر امارت اسلامیہ کے اعلیٰ حکام نے بار ہا ان پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے جو خراسان کے تاریخی علاقے میں شامل ہوتے ہیں کہ اپنے ملکوں کی داخلی سرحدات میں اس شریر گروہ کے نفوذ اور داخلے کے آگے بند باندھیں۔

سب سے پہلے جمہوری حکومت کا تختہ الٹے جانے اور امارت اسلامیہ کے دوبارہ قیام کے بعد، داعش کی سوچ تھی کہ آسانی کے ساتھ افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کر لے گی، لیکن امارت اسلامیہ ایک پر عزم اور مرکزی حکومت کے طور پر اس گروہ کو شکست دینے میں کامیاب رہی۔ داعش کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا خطرہ، جو طالبان کے لیے ملک پر حکمرانی کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی، ایک سخت اور سنگین جدوجہد کے بعد ختم کر دیا گیا۔

اگرچہ داعش بالخصوص اس کی خراسان شاخ کا سب سے اہم ہدف افغانستان میں امارت اسلامیہ کو کمزور کرنا تھا، لیکن معاملہ اس سے برعکس ہو گیا اور داعش امارت اسلامیہ کے ہاتھوں کمزور ہوئی اور ختم کر دی گئی۔ ’’انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار‘‘(Institute for the Study of War) کی جانب سے شائع شدہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں داعش خراسان کا اصل ہدف طالبان حکومت کو کمزور کرنا اور بالآخر طالبان کو گرانا تھا، جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے اور داعش کے تمام منصوبے ناکام اور تیاری کے مراحل میں ہی ختم ہو گئے۔

نگران وزیر خارجہ اور نگران وزیر دفاع سمیت طالبان کے اعلیٰ حکام اور سرکردہ شخصیات نے بار ہا کہا ہے کہ افغانستان میں انٹیلی جنس اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں داعش اور دیگر گروہ شکست کھا چکے ہیں۔ اس لیے وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف مزاحمت اور حملے کرنے سے قاصر ہیں، اگرچہ بعض اوقات عام شہریوں پر حملے کرتے ہیں، لیکن سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز ان کا فوری طور پر سراغ لگا کر انہیں ختم کر دیتی ہیں۔

امارت اسلامیہ نے داعش کو افغانستان میں دوبارہ اپنے سیلز قائم کرنے کی اجازت نہ دینے کے علاوہ، جیسا کہ جمہوری حکومت کے دور میں ان کے سیلز اور مراکز تھے، پڑوسی ممالک بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے تئیں اپنی ذمہ داری اور ہمسائیگی کا احساس بھی کیا ہے اور مسلسل داعش کے خلاف جنگ پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے۔

جب افغانستان میں داعش کو شکست ہو گئی اور ترکی میں بھی داعش کے ارکان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تو انہیں ایران میں داخلے کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا، اور اسی لیے ایران میں انہوں نے اپنے انسانیت سوز حملے شروع کر دیے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ بعض ممالک جو اپنا مفاد داعش کی مضبوطی، وسعت اور اس سے تعاون میں دیکھتے ہیں، بظاہر خراسان میں داعش کی دہشت گرد کاروائیوں میں اضافے پر پریشان ہیں، لیکن امارت اسلامیہ کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اس معاملے میں ان پریشانی کا اظہار بھی درحقیقت داعش کے حق میں پراپیگنڈہ ہے۔ تاجکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ افغانستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

تاجکستان کے حوالے سے واضح رہے کہ وہ افغانستان میں حالات خراب کرنے کی غرض سے نہ صرف داعش کے ساتھ تعاون کر رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ اس نے جبہۂ مقاومت کے ساتھ معاونت بھی کی ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے استعمار کے خلاف افغانیوں کے مقدس جہاد کی فتح کے بعد مساجد، خانقاہوں، ملٹری، سول اور اس طرح کے دیگر اہداف پر حملوں میں غیر ملکی شہریوں بالخصوص تاجک شہریوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

مولوی محمد یعقوب مجاہد کے مطابق وہ غیر ملکی جو ان حملوں کی ترتیبات بناتے ہیں، تاجک شہری ہیں جن میں سے درجنوں مارے گئے ہیں یا زندہ گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

اس معاملے میں یہ بھی کہتے چلیں کہ داعش تاجک شہریوں کو افغانی القابات سے پکارتے ہیں اور دنیا کو دھوکہ دے کر اپنے مفادات کے حصول کے لیے افغانستان کو دہشت گردوں کے مرکز کے طور پر متعارف کروانا چاہتے ہیں۔

البتہ ایران میں داعشی گروہ کے حملے اور سرگرمیوں کے حوالے سے واضح رہے کہ، اس کے ساتھ کہ امریکہ اور اسرائیل داعش کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ ایران کو اقتصادی اور سیاسی بحران کا شکار کیا جا سکے، داعشی نظریاتی طور پر شیعوں کو اسلام سے خارج کہتے ہیں اور ان کا ایک اہم ہدف شیعوں کا خاتمہ بھی ہے۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ ایران کو چاہیے کہ وہ دیگر پڑوسی ممالک کی نسبت طالبان حکام کی انتباہات کو زیادہ اہمیت دیں تاکہ ایسے شدید حالات کا دوبارہ سامنا نہ کرنا پڑے۔