تاجکستان CIA کے تحت

انجینئر عمر

دنیا کے ممالک بالخصوص عالمی طاقتیں ایک دوسرے سے مسابقت اور رقابت کی حالت میں ہیں، لیکن افسوس اکثر ممالک غیر صحت مندانہ مسابقت کر رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنی سیاسی اور معاشی منڈیوں کی تلاش میں ہے۔ مختلف ممالک ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی اور انٹیلی جنس مفادات کی خاطر لڑتے ہیں اور اپنے ہتھیاروں کی فروخت کے لیے مناسب منڈیاں تشکیل دیتے ہیں۔

افغانستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس قسم کی سازشوں کا شکار ہو کر شدید جانی اور مالی نقصان اٹھا چکا ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے ساتھ عالمی انٹیلی جنس حلقوں کی یہ بڑی منڈی ٹھنڈی پڑتی نظر آ رہی ہے۔ لیکن خطے کے اور دیگر دنیا کے ممالک بالخصوص انٹیلی جنس حلقے اس کوشش میں ہیں کہ یہ ملک اس صورتحال سے نجات نہ پا سکے۔ اس مقصد کی خاطر مختلف سازشیں تیار کی جا رہی ہیں، کبھی انسانی حقوق کا رونا روتے ہیں، کبھی منشیات کی سمگلنگ کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اسے دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ کا نام دیتے ہیں۔

اور اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے داعشی ملیشیا سے استفادہ کرتے ہیں، وسیع پیمانے پر پراپیگنڈہ کرتے ہیں، اور خطے اور پوری دنیا کے لیے اسے ایک عظیم خطرے کے طور پر متعارف کرواتے ہیں، حالانکہ افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں کا گراف صفر درجے تک گر چکا ہے۔

افغانستان میں داعشی ملیشیا کی سرگرمیاں جب کم ہوتے ہوئے صفر تک جا پہنچیں تو تاجک شہریوں کی مدد سے خطے کے ممالک میں حملے شروع کر دیے گئے تاکہ دنیا والوں کو دکھا سکیں کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے کی جاتی ہے جن میں ایران اور پاکستان میں ہونے والے حالیہ حملے قابل ذکر ہیں۔

یہ بات قابل غور ہے کہ حالیہ انٹیلی جنس معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاجکستان داعشی ملیشیا کے لیے ایک محفوظ اور خفیہ پناہ گاہ کی شکل اختیار کر چکا ہے، وہاں ان کی تربیت کی جاتی ہے اور انہیں مسلح کیا جاتا ہے اور خطے کا امن تباہ کرنے کے لیے خفیہ راستوں سے انہیں لانچ کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف جو داعشی طالبان کے ہاتھوں پچھلے دو سالوں میں گرفتار ہوئے، ان میں اکثریت تاجک شہری تھے۔

طالبان کے اقتدار کے ابتدائی ایام میں ننگرہار انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے ہاتھوں جو داعشی گرفتار ہوئے، وہ تاجک شہری تھے، اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر کے پاس سے شمالی صوبوں کے شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے۔

امریکہ نے اپنی تاریخ میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے ساتھ دوستی پر قائم نہیں رہا، اپنے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے ان ممالک کا فائدہ اٹھاتا ہے اور پھر بیچ میدان میں تنہا چھوڑ جاتا ہے، افغانستان اور عراق اس کی بہترین مثال ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ اس بار تاجکستان امریکی انٹیلی جنس کے ہتھے چڑھ چکا ہے اور اس نے داعش کے ناکام منصوبے کو اپنے گلے ڈال لیا ہے۔

لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جس آگ کو وہ خطے کے ممالک کے خلاف بھڑکانا چاہ رہا ہے، بعید نہیں کہ اس آگ کے شعلے خود اسی کا دامن جلا ڈالیں۔