تاجک شہریوں کا داعش سے پرانا تعلق

محمد صادق طارق

اندرون ملک اور خطے میں حالیہ کاروائیوں نے ثابت کر دیا کہ وسطی ایشیا میں ہونے والے تمام حملوں اور کاروائیوں میں داعش خراسان کا واضح ہاتھ ہے۔

اس لیے یہ ماننا پڑے گا کہ اس تکفیری گروہ میں تاجک شہریوں نے کثیر و وسیع اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔ افغان حکام نے اس مسئلے کو محسوس کرتے ہوئے بارہا کہا ہے کہ تاجکستان کو، جو کہ وسطی ایشیا کا ایک غریب ملک ہے، اپنے کندھوں پر پڑے بھاری بوجھ میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور مزید فتنہ گروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور ہیڈ کوارٹر نہیں بننا چاہیے۔

میں اپنی اس مختصر تحریر میں کوشش کروں گا کہ اس گروہ میں تاجک شہریوں کے اثر و رسوخ کو بیان کروں۔

یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ تاجکستان کے تاجک حال ہی میں داعش کے شیطانی رجحان کی طرف متوجہ نہیں ہوئے بلکہ برسوں سے داعش کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔

مشرق نیوز نے ۲۰۱۵ء اور ۲۰۱۶ء میں داعش میں تاجک شہریوں کی بھرتی کے بارے میں لکھا: سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۶ء سے دو ہزار سے زائد تاجک شہری شام اور عراق جا چکے ہیں جن میں ۸۰ فیصد وہ لوگ ہیں جو روس میں مہاجروں اور مزدوروں کی حیثیت سے آباد تھے۔ ان لوگوں میں سے کچھ اپنے اہل خانہ سمیت شام اور عراق چلے گئے، جن میں سے ۵۰۰ کے قریب مارے گئے اور اب ان کے بیوی بچوں کا کچھ اتا پتہ نہیں۔

داعش میں تاجک شہریوں کی عام کارکنان کے طور پر موجودگی کے ساتھ، بعض اوقات وہ کلیدی کردار بھی ادا کرتے ہیں۔  اس حوالے سے وسطی ایشیا کے سیاسی معاملات کے ماہر آندرے سریینکو نے کئی سال قبل اپنے فیس بک پر لکھا تھا: دہشت گرد گروہ داعش کی تازہ ترین پراپیگنڈہ ویڈیوز، جس میں عراق کے شہر موصل میں جنگ کی عکس بندی کی گئی ہے، سے پتہ چلتا ہے کہ اس دہشت گرد گروہ کے جنگجوؤں کا کمانڈر تاجکستان کی وزارت داخلہ کی سپیشل فورسز کا سابق اور مفرور کمانڈر گلمراد حلیموف  (Gulmurod Khalimov)تھا۔

اکتوبر ۲۰۱۶ء میں اس تاجک افسر نے داعش کے قائدین کے حکم سے ۴۰۰ سنائپرز پر مشتمل ایک سپیشل یونٹ تشکیل دیا، تاکہ ان لوگوں کو بنیادی دفاعی عنصر کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔

۴۱ سالہ کرنل گلمراد حلیموف، تاجکستان کی وزارت داخلہ کی سپیشل فورسز کا سابق کمانڈر، اس ملک کی وزارت داخلہ اور انٹرپول کو مطلوب تھا۔ اپریل ۲۰۱۵ء کے آخر میں لاپتہ ہو گیا اور کچھ وقت کے بعد، اس نے ایک ویڈیو کلپ کے ذریعے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ داعش میں شامل ہو چکا ہے۔

اسے تاجکستان کی سپیشل فورسز میں اہم اور کلیدی عہدہ حاصل تھا، اور وہ اپنے وسیع پراپیگنڈہ کے ذریعے کثیر تعداد میں تاجک شہریوں کو ورغلا کر داعش خراسان کے جال میں پھانسنے میں کامیاب ہو گیا۔

بدقسمتی سے آج وہی تاجک، جنہیں داعش کے کچھ ارکان نے بھرتی کیا، افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک میں بد امنی پھیلانے کے لیے کام استعمال ہو رہے ہیں۔

نوٹ: ان سے مراد صرف وہ تاجک ہیں جو عملا داعش کی صفوں میں شریک ہیں۔