شکست خوردہ فتنہ

عزیز الدین مصنف

تجارتی اشیاء کی قیمتوں سے خطے میں سیاسی صورتحال پر اسلامی نظام کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ افغانی کا غیر ملکی کرنسی کے مقابلے میں استحکام اس آزاد اسلامی نظام کی خودمختاری کی واضح دلیل ہے۔ شرق و غرب کے کفار عالم عرب کو انحطاط کا شکار کرنے سے اب تک اس کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں کو داخلی تنازعات کا شکار رکھیں یا ان کے لیے ایسا دردِ سر پیدا کر دیں جس کے نیتجے میں خونریزی کے علاوہ اور کچھ نہ ہو۔

اپنے اس مذموم مقصد کے حصول کے لیے ڈیڑھ دہائی قبل انہوں نے داعشی خوارج کی تشکیل کے طریقہ کار پر مل کر کام کیا، شرق و غرب بظاہر تو ایک دوسرے سے جدا ہیں لیکن اگر آپ فلسطین کے موجودہ مسئلے پر گہری نظر ڈالیں تو آپ یقیناً دیکھ سکیں گے کہ سب سے پہلے چالیس ہزار یہودی روس کی طرف سے حملے کی نیت سے فلسطین میں داخل کیے گئے، صرف یہی نہیں بلکہ فلسطین پر قبضے سے اب تک انہوں نے مسلمانوں میں شر انگیزی کے منصوبے ہمیشہ مشترکہ اجلاسوں میں تشکیل دیے۔

عالمِ عرب میں داعشی خوارج سے قبل جہادی سرگرمیاں ایک واحد قیادت کے تحت کی جا رہی تھیں، واحد القاعدہ کے مجاہدین کی قیادت کے تحت تمام عالمِ عرب کفار کے لیے بخار بن چکا تھا، اسی عرصے میں روس کے مغربی حصے میں قوقاز کے مجاہدین کی تحریکات پیش قدمی کر رہی تھیں، لیکن جب امریکہ کے خصوصی عسکری بجٹ کی مدد سے داعشی خوارج نے ان جہادی تحریکات میں شمولیت اختیار کی، تو امتِ مسلمہ کو ایک انوکھی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، بظاہر اسلامی حمیت کے نعرے لگانے والے (خوارج) اتنے بے رحم نکلے کہ اپنی ناپاک جنگ کے تمام مراحل میں کفار کے خلاف معمولی مزاحمت تک نہیں کی بلکہ ہمیشہ نہتے اور بے گناہ مؤمنین کے خون سے ہاتھ دھوئے۔

جب برطانیہ اور امریکہ کی مشترکہ کوششوں سے داعشی خوارج کو منظم فوجی نگرانی میں جنوبی ایشیاء کی سرحدوں پر پہنچایا گیا تو اسی وقت امارت اسلامیہ کی پر بصیرت آنکھوں نے اس عظیم فتنے کے کھڑا ہونے کے نقصانات کو محسوس کر لیا، اور یہی وہ وقت تھا جب اس وقت کے امیر المؤمنین ملا اختر منصور تقبلہ اللہ نے امت مسلمہ کی پیشانی پر لگے اس بدنما داغ کو مٹانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ ابتداء میں امارت اسلامیہ کا وسیع اور مدبرانہ نظریہ مصلحت پر مبنی تھا، توقع یہی تھی کہ یہ لوگ اس خبیث فتنہ میں پڑنے سے پہلے ہی سمجھ جائیں گے اور اس سے اپنا دامن بچا لیں گے، لیکن جیسے ہی ان کی عسکری کاروائیاں شروع ہوئیں اسی وقت پورے ملک سے مجاہدین کے دستے ترتیب دیے گئے اور ایک مضبوط امیر کی قیادت میں خوارج کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا گیا۔

اس مبارک معرکہ میں امارت اسلامیہ کی شوریٰ کی سطح کی قیادت نے جنگ کی اگلی صفوں میں حصہ لیا، اس ناپاک فتنے کو ختم کرنے کے لیے امارت اسلامیہ کے کتنے ہی نابغۂ روزگار مجاہدین شہید ہوئے، انہیں شہادتوں اور مجاہدین کے مکمل اخلاص کا نتیجہ تھا کہ خوارج کا بیج اس مبارک سرزمین سے ختم ہو گیا۔