شکست خوردہ عالمی طاقتیں اور ان سے وابستہ مفرورین کی توقعات

احمد منصور

موجودہ صدی میں متکبرین کے پے در پے زوال اور شکستوں نے محصورین بالخصوص امت محمدیہ ﷺ کی امیدوں کو زندہ اور شانِ ماضی کی طرف لوٹنے کے عزم اور الہٰی نصرت پر یقین کو پختہ کر دیا ہے۔ برطانیہ اور روس کے بعد امریکہ کا شرمناک فرار اور دوحہ معاہدہ ہمیشہ ان کی شرمندگی کا باعث رہے گا۔ مادی طور پر کمزور لیکن معنوی طور پر مالا مال قوم کے لیے تاریخ ساز کا لقب زیب بھی دیتا ہے اور وہ اس کی مستحق بھی ہے۔

شکست کے بعد دشمن نے بدلہ لینے، اپنے عزائم اور اہداف کا تعین کرنے کے لیے بے انتہا کوششیں کیں۔ دباؤ ڈالے، پابندیاں لگائیں، فکری جنگ کے تمام ذرائع آزمائے، لیکن سب کچھ بے سود ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تمام معاصر قوتوں کو دنیا کی ان اطراف میں مصروف کر دیا کہ جہاں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں انہیں بہت وقت لگ جائے گا اور اس وقت تک یہ پاکیزہ قافلہ منزل تک پہنچ چکا ہو گا یا پہنچنے کے قریب ہو گا۔ بعض لوگوں کا حال دیکھ کر ہنسی آتی ہے جو خود کو بہت سمجھدار گردانتے ہیں لیکن جانتے نہیں کہ وہ جہالت اور حماقت سے بھرے پڑے ہیں۔ کل مغرب کے محافظین اور آج کیمپوں میں مقیم مفرورین، امید لگائے بیٹھے ہیں کہ مردے پھر سے زندہ ہو جائیں گے، پھر سے کوئی کسی ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر افغانستان پر چڑھ دوڑے گا۔ لیکن ان کا ایسا سوچنا دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں۔ یوکرین، فلسطین اور یمن نے ان کیمپوں کے باسی مفرورین کی سب امیدیوں پر پانی پھیر دیا ہے اور پھر سے لوٹنے کے خواب چکنا چور کر ڈالے ہیں۔

میں ان کیمپوں کے مقیم مفرورین سے کہنا چاہتا ہوں کہ بہتر یہی ہو گا کہ خود کو دھوکہ دینا چھوڑ دیں، افغانستان ایک اسلامی ملک ہے، اس کو پکڑنے یا بیچنے کے خیال کو خیال کی حد تک ہی محدود رکھیں، تم لوگ مشرق و مغرب سے سب کویہاں اٹھا لائے لیکن نہ تو اس ملک کی سرحدیں بدلیں اور نہ ہی یہ ٹیکنالوجی کے آگے سربسجود ہوا، عالمی طاقتوں سے امیدیں تمہیں مزید بے عزتی کے دروازے پرلا کھڑا کریں گیں۔ بیس سال تمہارا آْقا یہاں ہر قسم کے مہلک ہتھیار لے آیا، اسے بالکل کوئی رحم نہیں آیا، لیکن جس ثابت قدمی کو یہاں سادگی کہا گیا تھا وہی سادگی بالآخر فتح پر تمام ہوئی۔ عملی طور پر کون بچا؟ نہ تو تم لوگ اتنے معصوم ہو اور نہ ہی عوام نے گھاس کھا رکھی ہے کہ وہ تمہارے تاریک ماضی کو بھول جائے۔ دوحہ معاہدے کو حقیر مت جانو، ملا نے ساری دنیا کو پابند کر دیا ہے۔ اب اگرکسی نے ہمارے خلاف محاذ آرائی شروع کرنے کی کوشش کی تو ہم بھی ان کے مخالفین کی حمایت کریں گے، پھر یہ بھی افغانستان کا حق ہو گا۔