شام، ایران و قطر کی گیس کے شعلوں سے جل اٹھا

رحمت اللہ فیضان

امریکہ میں زیادہ تر لوگ سیاسی نہیں ہیں، انہیں اس بات کی خاص پرواہ نہیں ہوتی کہ دنیا میں کیا چل رہا ہے۔ لیکن اس اصول میں ایک بڑی استثناء پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے جب انہیں اپنے ملک کے لیے کوئی ممکنہ خطرہ محسوس ہوتا ہے، تب ان کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ گلیاں اور سڑکیں لوگوں سے بھر جاتی ہیں، سب لوگ قومی افتخار سے بھرے ہوتے ہیں، اور اپنے ملک کے لیے قربانی کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ امریکیوں کے نزدیک ڈپلومیسی کے ساتھ معاشی فوائد ہر چیز سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

امریکہ کے بہت سے ممالک بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بہت سے فوجی اڈے ہیں، جن میں سے ایک شام میں التنف بیس ہے۔ یہ فوجی اڈہ ایک وسیع دشت میں ایک بڑے تجارتی راستے کے کنارے بنایا گیا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ امریکہ نے ایک تجارتی راستے کے کنارے تنف بیس کیوں قائم کی اور پھر دو سال کے اندر اس میں توسیع کیوں کی؟

تنف بیس میں مغربی ایشیا کے لیے امریکی افواج کے سربراہ جنرل فرانک میکینزی نے سی بی ایس نیوز کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا:

ہم یہاں دمشق اور بغداد کے درمیان مرکزی شہراہ پر کھڑے ہیں، ہمارا کام داعش کے خلاف اپنی افواج کی مدد کرنا ہے۔

تنف بیس پر صرف امریکی افواج ہی نہیں ہیں بلکہ شامی حکومت کے مخالفین کا آنا جانا بھی یہاں لگا رہتا ہے۔ ان کا کام شامی حکومت کے خلاف جنگ کے ساتھ تنف بیس کی حفاظت اور تنف بیس سے گزرنے والی مرکزی شاہراہ کی نگرانی بھی ہے۔

تنف بیس ایک ایسے راستے پر بنائی گئی ہے جو برسوں سے ایک معاشی اور تجارتی راستہ ہے۔ امریکیوں نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی تنف بیس سے پچاس کلومیٹر نزدیک آئے گا اسے تباہ کر دیا جائے گا۔

یہ وہ سڑک ہے کہ شام کو مشرقی ممالک جیسے ایران، افغانستان، پاکستان، بھارت، اور چین سے جوڑتی ہے۔ یہ وہ سڑک ہے جو نسلوں سے مغربی دنیا بالخصوص یورپ کے ساتھ تجارت کے لیے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ یہ راستہ چینیوں کی یورپ اور افریقہ تک رسائی کے لیے مشہور شاہراہِ ریشم کا ایک حصہ ہے۔ یہ سڑک شام سے گزر کر بحیرۂ روم اور بحیرہ اسود تک جاتا ہے۔ اس سڑک کی وجہ سے مشرقی دنیا کے لوگ تجارت کی خاطر درجنوں یورپی اور افریقی بندرگاہوں تک آمد و رفت کر پاتے ہیں۔ امریکیوں نے خاص اس عظیم شاہراہ کو کاٹ کر اس پر اپنی بیس تعمیر کی۔

اس سانحہ کے عوامل اور آغاز۔

امریکی افواج اپنے ملک سے ہزاروں کلومیٹر دور تنف بیس پر کیا کر رہے ہیں؟

وہ کیا عوامل تھے جنہوں نے شام میں جنگ شروع کی؟

آئیں اس کا جواب مغربی مصادر سے ہی لیتے ہیں۔ ویسلی کلارک نامی ایک امریکی فوجی کہتا ہے:

’’میں گیارہ ستمبر کے دس دن بعد پینٹاگون میں ڈانلڈ رمز فیلڈ سے ملنے گیا، میں عمارت کی بیسمنٹ میں چلا گیا اور وہاں  جوائنٹ چیف آف سٹاف نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔

اس نے مجھ سے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ عراق پر حملہ کریں۔‘

میں نے پوچھا: ’کیوں؟‘

اس نے کہا: یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ۔‘‘

میں نے پوچھا: ’گیارہ ستمبر کی وجہ سے؟‘

اس نے کہا: ’نہیں! میرے خیال میں حکومت خود نہیں جانتی کہ اس دہشت گردی کے جواب میں کیا کرے اور وہ چاہتی ہے کہ خود کو مضبوط ظاہر کرے۔‘

میں بہت پریشانی کی حالت میں وہاں سے نکلا، بعد میں ہم نے افغانستان پر حملہ کر دیا، میں اس لیے خوش ہوا کہ ہم نے اس میں حصہ لیا۔ چھ ہفتوں بعد میں واپس پنٹاگان پہنچا اور اسی کمانڈر سے میری ملاقات ہوئی۔

میں نے پوچھا: ’ہم نے عراق پر حملہ کیوں نہیں کیا؟‘

اس نے جواب دیا: ہم عراق پر حملہ کریں گے۔ اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ ہم آئندہ پانچ سالوں میں ہم مزید سات ممالک پر حملہ کرین گے۔ ہم آغاز عراق سے کریں گے اور پھر شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور ایران جائیں گے۔

ویسی کلارک ایسا واحد شخص نہیں جو یہ سمجھتا ہو کہ شام میں جنگ میں جانے کا فیصلہ بہت پہلے سے کیا جا چکا تھا، بلکہ رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر جو ایک امریکی مصنف اور تجزیہ کار ہے، ۲۰۱۶ء میں پہلی بار ’پولیٹیکو‘(Politico)  میگزین اور ویب سائٹ پر “Why the Arabs Don’t Want Us in Syria” (عربوں کو ہم شام میں کیوں قبول نہیں۔) کے عنوان سے ایک مقالہ تحریر کیا۔ اس نے اپنے مقالے میں ایک جگہ لکھا  کہ عرب سمجھتے ہیں کہ بشار الاسد کے خلاف ہماری جنگ ۲۰۱۱ء میں عرب بہار کے نام سے شروع ہونے والے پر امن احتجاجات سے شروع ہوئی، لیکن درحقیقت جب ۲۰۰۰ء میں قطر نے ۱۵۰۰ کلومیٹر لمبی اور دس بلین ڈالر کی مالیت کے پائپ لائن منصوبے کی خبر نشر کی، اس کے ساتھ ہی اس جنگ کا تصور بھی پیدا ہو گیا۔ قطر گیس پائپ لائن سعودی عرب، اردن، شام اور ترکی کے راستے یورپ تک جاتی ہے۔

موضوع کی گہرائی میں جانے کے لیے ایک اور موضوع کی طرف چلتے ہیں اور وہ یہ کہ روس دنیا میں گیس پیدا کرنے اور برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور یورپ اس گیس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ روس اس گیس کا ۷۰ فیصد حصہ یورپ کو فراہم کرتا ہے اور یہ روس کے لیے آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ ہے۔ بچھلے سالوں میں روس اس گیس کی بدولت یورپ پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہا۔ اب یورپی چاہتے ہیں کہ اس بڑی آمدنی کا دروازہ اپنے حریف یعنی روس کے لیے بند کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے قطر اور آذربائیجان میں گیس کے ذرائع کا رخ کیا۔

درحقیقت یورپ کی گیس کی ضروریات بحری جہازوں کے ذریعے پوری نہیں کی جا سکتیں، اس لیے ضروری ہے کہ گیس کی یہ مقدار پائپ لائنوں کے ذریعے منزل تک پہنچے۔ قطر گیس پائپ لائن منصوبہ اسی وجہ سے شروع کیا گیا۔

اس منصوبے پر عمل درآمد میں ایک بڑی مشکل تھی اور وہ شام میں بشار الاسد کی حکومت تھی۔ ۲۰۰۹ء میں شامی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ قطر پائپ لائن منصوبے کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور وہ اس منصوبے کی مخالفت کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ ایک طرف تو شام روس کا پرانا ساتھی ہے جبکہ دوسری طرف شام چاہتا ہے کہ روس کے ساتھ معاہدہ کے ذریعے ایران اور عراق کی مدد سے اسلامی گیس پائپ لائن منصوبے میں شامل ہو جائے۔

شام کے صدر بشار الاصد نے بیان دیا: اسلامی پائپ لائن منصوبہ صرف ایران اور شام کے لیے نہیں بلکہ یہ پورے خطے اور مغربی ایشیا کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔

یہ پائپ لائن ایرانی گیس عراق اور شام کے راستے بحیرۂ روم تک پہنچاتی ہے اور اس کا مقصد جنوبی اور جنوب مغربی یورپ تک گیس فراہم کرنا ہے۔

شام اور ایران کے درمیان اسلامی پائپ لائن منصوبے سے عراق کو بھی فائدہ ہوا، اسی لیے ایران، عراق اور شام اس پائپ لائن منصوبے کے حق میں مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

اب مسئلہ دوگنا ہو گیا۔ ایک طرف شام سے قطر کی گیس کو لے جانا ممکن نہیں تھا اور دوسری طرف ایران بھی یورپی منڈی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ امریکہ نے فیصلہ کیا کہ شامی حکومت کو تبدیل کر دیا جائے، اس طرح قطر گیس کے منتقلی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ امریکی صدر بارک اوبامہ نے بشار الاسد سے رابطہ کیا اور اس سے اقتدار سے علیحدہ ہو جانے کا مطالبہ کیا۔

شامی حکومت کے مخالفین اور داعش کو مسلح کرنا۔

شام کے حوالے سے وکی لیکس کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ صدر بارک اوبامہ کی طرف سے بشار الاسد کو انتباہ کے بعد ۲۰۰۹ء میں اسرائیلی، سعودی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں نے شامی حکومت کے مخالفین کو مسلح کرنا شروع کر دیا اور یہ شام میں احتجاج شروع ہونے سے دو سال پہلے کی بات ہے۔

وکی لیکس کی ایک اور رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ۲۰۱۴ء کے اوائل میں ہیلری کلنٹن اپنی مہم کے مینجر کو ایک ای میل بھیجی جس میں لکھا تھا کہ داعش کو سعودی عرب اور قطر کی جانب سے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، اس کے ساتھ ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ اس گروپ کو کلنٹن کی طرف سے بھی فنڈز مل رہے تھے۔

امریکہ کے سابق صدر ڈانلڈ ٹرپ نے انتخابی مہم کے دوران اوبامہ اور کلنٹن پر داعش کو کھڑا کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس نے کہا: اوبامہ داعش کا بانی ہے اور میری رائے میں اس کے قیام میں ابامہ کے ساتھ ہیلری کلنٹن بھی شامل تھی۔

قطر کے سابق وزیر اعظم حمد بن جاسم نے بھی ایک امریکی صحافی کے اس سوال کے جواب میں، کہ قطر نے شام میں اسلامی گروہوں پر کتنی رقم خرچ کی ہے، کہا: آپ کے ملک (امریکہ) سمیت سب نے شام میں غلطی کی جب شام میں جنگ یا انقلاب شروع ہوا۔ ہم سب نے دو طرف سے کاروائی شروع کی۔ ایک طرف ترکی اور دوسری طرف اردن تھا۔ گلف کواپریشن کاؤنسل (جی سی سی) میں شامل ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، امریکہ اور دیگر اتحادیوں نے شامی حکومت کے مخالفین کے ساتھ تعاون کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ترکی نے بھی اس کام میں ہاتھ آگے بڑھایا۔

یہ بھی یاد رہے کہ قطر گیس پائپ لائن منصوبہ میں ٹرانزٹ کی خاطر ترکی اور سعودی عرب کی شمولیت پر غور کیا گیا تھا۔

شام کے سانحہ کی داستان کو جتنا بھی کھنگال لیا جائے وہ قطر اور ایران کی گیس پائپ لائن تک ہی پہنچے گی، جس کے پیچھے خفیہ منصوبے امریکہ کی جانب سے بنائے گئے۔ یہ سانحہ اس نکتے کی جانب بھی توجہ مبذول کرواتا ہے کہ انسان اپنے مادی مفادات کی خاطر اپنے خون، رتبے، دین و مذہب کا خیال کیے بغیر ظلم و دہشت سے بھرپور کام کرتا ہے، اپنے مادی مفادات کے حصول کے لیے دینی مقدسات اور نظریات کا استحصال کرتا ہے اور ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔