شیطانی طلسم توڑنے والے

رحمت اللہ فیضان

برنارڈ ہنری لیوی (Bernard-Henri Lévy) فرانس کے سب سے زیادہ بااثر یہودیوں میں سے ایک ہے۔ وہ ۱۹۴۸ء میں ایک متعصب اور امیر یہودی گھرانے میں پیدا ہوا۔ ۱۹۷۱ء میں اس نے فلسفے میں گریجویشن کی۔

برنارڈ لیوی کا عصرِ حاضر کی مختلف جنگوں کے پیچھے کھلا یا چھپا ہاتھ ہے، اور یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حالیہ برسوں میں جو دنیا میں ہر جگہ انتشار پھیلا ہے اس کے پیچھے بھی برنارڈ لیوی کا ہاتھ ہونے کے آثار ملتے ہیں اور اسے خطے میں عرب بہار سے مغربی مفادات حاصل کرنے کے لیے اہم نظریہ سازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

برنارڈ لیوی کے کام

برنارڈ لیوی جو کہ اپنے یہودی ہونے پر فخر کرتا ہے، اس نے اپنے چالیس سالہ فکری اور عملی کاموں میں تین شعبوں پر خاص توجہ مرکوز رکھی:

  1. اسلام کے سیاسی و فقہی منشور کی جامع مخالفت
  2. اسرائیلی حکومت کی غیر مشروط حمایت
  3. عالم اسلام کی خونریز جنگوں میں مستقل کردار

اسرائیلی حکومت کی غیر مشروط حمایت

اس حوالے سے ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۶۷ء میں جب وہ ابھی انیس برس کا تھا تو اسے عرب اسرائیل جنگ کے آغاز کا علم ہوا۔ وہ تیزی سے پیرس میں اسرائیلی سفارت خانے پہنچا اور جنگ میں حصہ لینے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا، لیکن جنگ صرف چند دن جاری رہی اور برنارڈ مسلمانوں کے قتل میں حصہ لینے سے قاصر رہا۔

عالم اسلام کی خونریز جنگوں میں مستقل کردار

برنارڈ لیوی نے اپنی پہلی مشہور کتاب ۱۹۷۳ء میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی تقسیم کے دو سال بعد بنگلہ دیش میں قوم پرستی کے بارے میں لکھی تھی اور اس کے بعد سے اس نے عالمِ اسلام میں بد امنی کے بارے میں نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار کیا بلکہ اس انتشار میں عملی طور پر کردار بھی ادا کیا۔

وہ بیسویں صدی کی آخری دہائی کے وسط میں بوسنیا میں نمودار ہوا، پھر اس نے افغانستان کا سفر کیا اور عبد الرشید دوستم اور احمد شاہ مسعود کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔  ۱۹۹۲ء میں جب افغانستان میں وحدت پارٹی اور دیگر طاقت کی خواہاں جہادی تنظیموں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی تو اس خانہ جنگی کے پیچھے سیدھا اسی یہودی برنارڈ لیوی کا ہاتھ تھا۔

صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ سوڈان، عراق، تیونس، لیبیا، بوسنیا یہاں تک کہ یوکرائن تک میں اس نے جنگ کی آگ کو بھڑکایا۔ لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے قوم پرست اور بے دین گروہوں کا ساتھ دیا، عراق میں کردوں کو اٹھایا، جنوبی سوڈان میں بھی حکومت مخالفین کا ساتھ دیا۔

خطے کے اسٹریٹیجک امور کے ماہر عرب تجزیہ کار عبد الباری عطوان نے لیبیا میں صیہونی جاسوس برنارڈ ہنری لیوی کے حوالے سے ایک مضمون لکھا، اس میں لیبیا کے حوالے سے بحث کی گئی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ برنارڈ نے دس سال معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی اور بالآخر کامیاب ہوا۔ فرانسیسی صدر نیکولائی سرکوزی کو راضی کیا کہ وہ لیبیا میں فوجی مداخلت کرے۔ قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے وقت نیٹو اتحاد کے طیاروں کی بمباری سے تیس ہزار سے زائد لیبیائی باشندوں کی لاشیں گرائی گئیں۔

جب افغانستان میں امریکی شکست کی آخری دہائی شروع ہوئی، تو برنارڈ ہنری لیوی نے ایک بار پھر افغانستان کی طرف اپنے ناپاک ہاتھ بڑھائے اور ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:


’’اپریل میں میکرون (فرانسیسی صدر) کے ساتھ ایک ملاقات میں کسی نے بھی احمد مسعود کے خدشات پر کان نہیں دھرے۔ اس منظر نامے (افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء) کا بہت پہلے ہی اس کی طرف سے اعلان کر دیا گیا تھا۔

پنجشیر کی وادی میں اس کی مزاحمت کو یورپ کی طرف سے تحفظ اور حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

اگر امریکی انخلاء مکمل ہو گیا تو چند ماہ یا چند ہفتے نہیں بلکہ چند دنوں میں ہی القاعدہ یا داعش افغانستان پر قبضہ کر لے گی۔

احمد مسعود کی مزاحمت فرانس کی مدد سے مضبوط ہو سکتی ہے اور ہماری سرزمین کو بربریت سے اور یورپ خصوصاً فرانس کے بڑے شہروں کو حملوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔‘‘


احمد شاہ مسعود، اس کے بیٹے احمد مسعود اور موساد کے اس جاسوس برنارڈ ہنری لیوی کے درمیان تعلقات اس قدر گہرے ہیں کہ ان کی کوششوں سے پیرس کی ایک سڑک کو احمد شاہ مسعود کے نام سے منسوب کر دیا گیا، جس کی تقریب میں احمد مسعود، حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے شرکت کی۔

افغانستان میں برنارڈ ہنری لیوی کے ذریعے موساد کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مسعود خاندان اور بدنام زمانہ ملیشیا کا سربراہ عبد الرشید دوستم موساد کے جہنمی ادارے میں پرورش پانے والے چوہے ہیں اور انہیں استعمال کر کے وہ افغانستان کے استحکام کو ایک بار پھر خطرے سے دوچار کرنا، خانہ جنگی کے لیے راستہ ہموار کرنا، اور ملک کے موجودہ انفراسٹرکچر کو ایک اور طویل جنگ کے ذریعے سے تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان دنوں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک بار پھر اس منصوبے کے اجلاس کبھی گرجا گھروں میں، کبھی کسی ایک سٹیج پر اور کبھی کسی دوسرے سٹیج پر منعقد کیے جا رہے ہیں اور اس نے میڈیا پر ایک شور برپا کر دیا ہے اور جس کے پیچھے یہی بدنام زمانہ برنارڈ لیوی کا ناپاک ہاتھ ہے۔

جی ڈی آئی (GDI): اللہ کی نصرت سے شیطانی طلسم توڑنے والے

ہم افغانستان کے تمام کھلے اور خفیہ، داخلی و خارجی دشمنوں کو، چاہے وہ کسی بھی خفیہ ادارے کے ساتھ مسنلک ہوں، یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ ہمارے پاس تمہارے تمام تاریک منصوبوں کے مقابل GDI کے شکل میں ایک فولادی ڈھال موجود ہے، جو تمہارے کرتوتوں کو دیکھ رہی ہے اور چاہے تم جس بھی سوراخ میں جا چھپو، پکڑے جاؤ گے اور تمہیں اپنے اعمال کی سزا ضرور ملے گی۔