شہید ملّا نظر محمد (محمد) تقبلہ اللہ

زندگی اور جدوجہد پر مختصر نظر!

ملّا نظر محمد (محمد) شہید ولد خیال محمد صوبہ میدان وردگ کے ضلع سید آباد میں شہید پروری درّے میں حسن خیل گاؤں کا رہنے والے ایک عسکری قائد، جو مردانگی، اخلاص، صداقت، محبت، وفا اور سچائی کے باغ کے ایک خوشبودار گلاب تھے۔

شہید محمد تقبلہ اللہ تقویٰ کا وہ مینار تھے کہ جنہوں نے امریکی استعمار کے مقابلے میں تقویٰ اور اخلاص کی ایک مثال قائم کی، ایک ایسی مثال کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ایسے کمالات اللہ تعالیٰ دوبارہ اپنے کس محبوب بندے میں پیدا کرے گا۔

دن کے وقت اللہ کے دشمنوں پر بجلی کی طرح گرنے والے، ان کی شب بیدار آنکھیں اور چہرہ، جمال و جلال کے وہ نشان تھے جو صرف اولیاء اللہ کے چہروں پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کے دل میں ایک درد تھا، اور اس درد نے ان کی راتوں کا آرام چھین لیا تھا اور انہیں خار دار راستوں پر چلنے پر مجبور کر دیا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنی جرأت سے نوازا تھا کہ کسی کے مقابل بھی حق سے انحراف نہیں کرتے تھے، بڑے عزم کے ساتھ حق کا دفاع کیا، تمام کام تقویٰ، تدبیر اور اخلاص کے ساتھ کیے، جس کے نتیجے میں شاندار فتوحات حاصل کیں۔ مختصر یہ کہ شہید محمد تقبلہ اللہ موجودہ دور میں تقویٰ، اخلاق اور بہادری کی زندہ مثال تھے۔

ملّا نظر محمد (محمد) شہید کی جہادی ذمہ داریاں!

وہ کئی سال تک ضلع سید آباد کے ایک عسکری یونٹ کے مسئول رہے، مسئولیت کے اس دور میں داعشی خوارج کو ختم کرنے کی خاطر مختلف صوبوں کا سفر کیا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں شاندار فتوحات نصیب کیں۔ ان صوبوں میں صوبہ ننگرہار اور زابل بھی شامل ہیں۔ مورچوں پر ڈٹے اس غیرت مند نوجوان نے اس مقدس راستے میں بہت سی تکالیف اور مصائب کو اپنے سینے سے لگایا اور اس دوران کئی بار شدید زخمی بھی ہوئے۔ غاصبین کے لیے یہ اس قدر مطلوب فرد تھے کہ کئی بار ان پر فضائی بمباری بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے اور اپنی بیداری کی وجہ سے وہ ان حملوں میں بچتے رہے۔

لیکن ان سب باتوں کے باوجود ان کے پائے استقامت میں لرزش نہیں آئی اور بہت ہمت کے ساتھ انہوں نے اپنے بر حق مقصد کو جاری رکھا۔

داعشی خوارج (کلاب النّار) کے خلاف شہید ملّا نظر محمد (محمد) کے جہادی سفر!

محمد تقبلہ اللہ نے اپنی مسئولیت کے اس دور میں دوسری بار ننگر ہار کا سفر کیا، جو ان کی اس تھکا دینے والی زندگی کا آخری سفر تھا، بے شمار داعشی خوارج کلاب النّار کو جہنم کے گڑھے کی طرف دھکیلا اور اس بہادر نوجوان نے آمنے سامنے کے معرکے میں شہادت پائی اور اپنے خواب پورے کر لیے۔

ان کے جانے سے بہت سے دل ٹوٹے، اور بہت سے پھول اس گلاب سے جدا ہوگئے۔ شہید محمد تقبلہ اللہ وہ شخص تھے کہ جن کے بچھڑنے پر دوست اور دشمن دونوں روئے اور آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔

تقبلہ اللہ تعالیٰ…!

نحسبہ کذالک واللہ حسیبہ

ایک یاد:

کوہِ سفید (سپین غر) کے پہاڑوں کی چوٹیاں برف سے سفید تھیں، درمیانی حصوں میں تیز بارشیں ہو رہی تھیں اور زیریں علاقوں میں خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔ خزاں کی آخری راتیں تھیں، اچین، ہسکی مینی، دیبالا، تورا بورا، خوگیانو، شیرزاد، تنگی ہزار ناوا اور کوہِ سفید کے دامن میں دیگر علاقے خوارج کے خلاف جنگوں میں مصروف نوجوانوں کی موجودگی سے رنگین تھے، خوراک، وسائل اور آرام آخری حد تک کم تھا، مسلسل جنگیں تھیں اور ہر جگہ خونریز جنگوں کے آثار نظر آتے تھے، یہاں تک کہ بہت سی جگہوں پر تو خوارج کی لاشیں بھی پڑی تھیں۔ نوجوان بڑی ہمت سے آگے بڑھ رہے تھے، ہر قسم کی تکالیف اور سختیاں برداشت کر رہے تھے، لیکن سامنے ایک عظیم مقصد تھا، آہستہ آہستہ ساتھی منزل تک پہنچ گئے۔ ہدف اچین کے پہاڑٰ علاقے کا محاصرہ تھا۔ آخری رات تھی، برف باری اور بارش زوردار تھی اور مسلسل گر رہی تھی۔ ایک رات ساتھی درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان مورچے بنانے میں مصروف تھے، برفباری بھی ہو رہی تھی، ساتھیوں کو آگ جلانے کی اجازت بھی نہیں تھی، سردی بھی شدید تھی، ساتھیوں کو کسی ایک جگہ بیٹھنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ ہر دو افراد نے اپنے لیے ایک مورچہ بنایا اور اس میں پہرہ دینے لگے۔

اس کے علاوہ فضا میں دشمن کے طیارے موسم کی خرابی کی وجہ سے بہت نچلی پرواز کر رہے تھے، دوسری طرف سے خوارج کے فرار کی خبریں بھی آ رہی تھیں لیکن سردی نے ساتھیوں کی حالت شدید خراب کر دی تھی اور وہ کچھ کرنے سے قاصر تھے۔ خیر قصہ مختصر، ساتھیوں نے مورچے بنائے، ہر مورچے میں دو دو افراد بیٹھ گئے، ایک بار ساتھیوں کے مسئول پر سردی اور نیند نے غلبہ پایا تو انہوں نے ساتھیوں کے مورچوں کا دورہ کیا۔ اپنے گروپ کے دو ساتھیوں کے پاس گئے، دیکھا کہ ان میں سے ایک نے اپنے اوپر گیلا کپڑا ڈال رکھا ہے اور دوسرے نے اپنے اوپر پلاسٹک کی شیٹ ڈال رکھی ہے اور وہ دونوں سردی سے ٹھٹھر رہے تھے، آواز دی کہ اپنے درمیان تھوڑی جگہ بناؤ تاکہ اس کے درمیان میں بھی چھپ جاؤں اور تھوڑا گرم ہو جاؤں، ساتھیوں نے جگہ دے دی، لیکن جب حالات دیکھے کہ ایک ساتھی کے کپڑے گیلے ہیں اور دوسرے نے پانی سے تر پلاسٹک اپنے اوپر ڈال رکھا تھا، تو پھر سے کھڑے ہو گئے، اپنی گیلی چادر سر پر ڈالی اور صبح تک اسی طرح پھرتے رہے اور برف سے سفید ہوئی رات کو پہاڑ کے دامن میں درختوں کے نیچے گزار دیا…

جانتے ہیں یہ صبر، استقامت، غیرت، اطاعت اور عاجزی کا نمونہ کون تھا؟ یہ ہمارے دلوں کے حکمران شہید ملا نظر محمد (محمد) تقبلہ اللہ تھے۔