شہید انجینئر ننگیالی (فیاض)

زندگی اور جدوجہد کا مختصر تذکرہ

متقی، پرہیزگار اور مجاہدانہ کردار رکھنے والے شہید انجینئر ننگیالی (فیاض) ولد محمد امان صوبہ وردگ کے ضلع جغاتو کے گاؤں بابا خیل کے ایک علمی اور دیندار گھرانے میں ۱۹۹۵ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کی مسجد کے امام صاحب سے حاصل کی، سات سال کی عمر میں آپ نے غازی محمد جان خان ہائی سکول میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی اپنے گاؤں میں مدرسہ فرقانیہ میں دینی علوم کی تعلیم بھی شروع کردی۔ جب وطن عزیز افغانستان پر نیٹو افواج نے حملہ کیا تو ہر غیرت مند مسلمان کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ ان غاصبین اور ان کے غلاموں کے خلاف جہاد فرض عین ہے۔ شہید انجینئر ننگیالی (فیاض) کے ضمیر میں ایمان نے جوش مارا اور انہوں نے کہا کہ وہ دن کب آئے گا جب میں بھی امریکیوں کے ساتھ دو بدو لڑائی کروں گا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا غاصبوں کے خلاف مسلمانوں کی نفرت میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا گیا اور مجاہدین کی صفیں منظم ہوتی گئیں، عملی جہاد کا آغاز ہو گیا، ہر طرف جہادی جذبات گرم تھے اور شہیدوں کے قافلے روانہ تھے۔ ایسے وقت میں شہید ننگیالی (فیضان) بھی کمانڈر نجیب اللہ (ابراہیمی) کے گروپ میں شامل ہو گئے اور جہاد کے گرم میدان میں چلے گئے، یہ وہ وقت تھا جب وہ جوانی کی بہار کو پہنچ چکے تھے، وہ طالب علم تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت بڑے عزم و ارادے سے نوازا تھا۔ میدانِ جہاد میں کسی خطرے سے نہیں ڈرتے تھے۔ داخلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد غزنی یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات میں داخلہ ملا۔ اپنی تمام جہادی سرگرمیوں کے ساتھ اور بہت سی سکیورٹی مشکلات کے باوجود اپنی پڑھائی مکمل کی۔ اسی دوران صوبہ ننگرہار میں خوارج کا منحوس ظہور ہوا اور تمام مجاہدین کو غاصبین کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ ایک اور چیلنج کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس فتنے کو دبانے کے لیے مختلف صوبوں میں مجاہدین کے باقاعدہ یونٹ تشکیل دیے گئے، صوبہ وردگ سے بھی کمانڈر مولوی نور الرحمٰن (نصرت) کی کمان میں ایک یونٹ تشکیل دیا گیا جسے سرخ قطع (ریڈ یونٹ) کہا جاتا تھا۔ شہید انجینئر ننگیالی بھی جو مختلف جہادی حربوں اور مہارتوں بالخصوص نائٹ ویژن اور لیزر دوربین والے ہتھیاروں کے استعمال میں مہارت رکھتے تھے، اسی سرخ قطع کے کمانڈر کے حکم پر دیگر مجاہدین ساتھیوں کے ساتھ صوبہ ننگر ہار چلے گئے۔ وہاں بھی انہوں نے اپنا جہاد نہایت بہادری اور حوصلے کے ساتھ جاری رکھا۔ مذکورہ صوبے میں تقریباً ۵ ماہ تک دین و وطن دشمنوں (خوارج) سے لڑتے رہے، بے شمار دشمنوں کا خاتمہ کیا اور اس صوبے کے متعدد اضلاع کو دشمن کے چنگل سے آزاد کروایا۔ نوجوان شہید اس قدر دلیر تھے کہ سب سے پہلے آگے بڑھ کر دشمن کے ساتھ دو بدو جنگ میں مصروف ہو جاتے۔ آخرِ کار ۱۲ فروری ۲۰۲۱ء بروز جمعہ رات کے وقت صوبہ ننگرہار کے ضلع شیرزاد میں اپنے ایک عزیز ساتھی شہید انجینئر ولی الرحمن ریحان کے ساتھ خوارج کے آقاؤں کے ڈرون حملے میں شہادت کے عظیم مقام تک پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول و منظور فرمائے۔

صوبہ ننگرہار جاتے وقت انہوں نے اپنی والدہ سے اجازت لینے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’’ماں! اگر میں شہید ہو جاؤں تو دیکھنا میرے بعد رونا نہیں، کیونکہ پھر میرے ساتھی بہت غمگین ہو جائیں گے، جہاد بہت عظیم فریضہ ہے، ہر روز بڑی بڑی شخصیات اور علماء شہید ہوتے ہیں، ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں۔‘‘ پھر ایسا ہی ہوا کہ جب شہید ننگیالی (فیاض) کا جنازہ گاؤں لایا گیا، سب لوگ بہت غمگین تھے، ہر کوئی ان کے بہترین اخلاق، تقویٰ، اخلاص اور صداقت کی باتیں کر رہا تھا، لیکن ان کی والدہ نے ایک آنسو تک نہیں بہایا، اور سب لوگوں سے کہا کہ میں نے اپنا بیٹا اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے وقف کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا۔

شہید انجینئر ننگیالی (فیاض) اور شہید انجینئر ولی الرحمن (ریحان) کے جنازہ میں علمائے کرام، اساتذہ، طلباء اور عام لوگوں سمیت پانچ ہزار لوگوں نے شرکت کی اور بہت عقیدت کے ساتھ ان بابرکت شہیدوں کو بلند بابا خیل گاؤں کے آبائی قبرستان میں سبرد خاک کر دیا۔

نحسبه كذالك والله حسيبه

  • یاربی ۔ یاربی
    یارب ہمیں بھی تو قبول کرلے اپنی دین کی خدمت کیلیے۔
    یاربی ہمیں جہاد وقتال کی نعمت سے محروم مت فرما۔
    یاربی یاربی یاربی ہمیں دنیا میں شہادت اور آخرت میں بھی شہدا کا ساتھ نصیب فرما ۔

    آمین یاربی