شہید انجینئر ولی الرحمن (ریحان) تقبله الله

زندگی اور جدوجہد کا مختصر جائزہ

خدا کی محبت کے پیاسے، شعلہ بیان اور جنگجو شخصیت، شہید انجینئر ولی الرحمن ریحان ولد عبدالقادر ولد ارشاد محمد کبیر نے ۱۹۹۲ء میں ضلع جغاتو، صوبہ وردگ کے گاؤں بلند بابا خیل کے ایک جہادی اور شہید پرور گھرانے میں اس فانی دنیا میں آنکھ کھولی۔

ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کی مسجد کے امام صاحب سے حاصل کی۔ دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کرنے لگے۔ سکول سے فراغت کے بعد وہ قندھار یونیورسٹی کی انجینئرنگ فکیلٹی کے انرجی ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ کے امتحان میں کامیاب ہو گئے۔

صوبہ قندھار میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ جہادی جدوجہد میں بھی بڑی تدبیر کے ساتھ مصروف رہے۔ شہید انجینئر ولی الرحن ریحان قانونِ الہٰی کو نافذ کرنے والے اور شریعت پر سختی سے کاربند نوجوان تھے۔ انہوں نے ۲۰۰۸ء سے ۲۰۲۰ء تک امریکی حملہ آوروں اور اسلامی نظام کے دشمنوں کے خلاف بارہ سال تک جہاد کیا۔

اس عظیم شہید کی چار سالہ یونیورسٹی کی تعلیم ابھی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ دین و وطن دشمنوں نے مظلوم افغان قوم کے خلاف سخت مظالم اور مہلک چھاپے شروع کر دیے۔ دشمن کے وحشیانہ چھاپے اور مظالم برداشت سے باہر تھے، یہی وجہ تھی کہ ریحان نے کچھ عرصے کے لیے یونیورسٹی کو خیرباد کہہ دیا اور ملک کے مشرقی صوبے ننگرہار جہادی تشکیل پر چلے گئے۔ اس عظیم شہید نے صوبہ ننگر ہار میں فتنہ گر باغی دشمن کے خلاف چھ ماہ سے زائد عرصہ تک جہاد کیا، اس عرصے میں صوبے کے کئی اضلاح دشمن کے پنچوں سے آزاد کروائے اور بے شمار دشمنوں کو ہلاک کیا۔ شہید ریحان تقبلہ اللہ مسافر تھے اور ان کی جہادی تشکیل کا وقت بھی پورا ہو چکا تھا لیکن پھر بھی دین و وطن کی آزادی کی خواہش میں پوری قوت سے دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے۔ جہادی جدوجہد کے اپنے کئی سالہ دور میں ملک کے مختلف صوبوں میں جانے والی تشکیلات کے کمانڈر بھی رہے، اور اس مقدس دور میں دین و جہاد کے بے شمار دشمنوں کو خاک میں ملایا اور آخر تک اسی طرح بہادری سے لڑتے رہے۔

بالآخر ۱۲ فروری ۲۰۲۱ء جمعہ کی بابرکت رات، ضلع شیرزاد، صوبہ ننگرہار کے علاقے زاوی میں فتنہ گر باغی دشمن سے دو بدو جنگ میں شدید زخمی ہوئے اور پھر ڈرون کے اچانک حملے میں شہادت کے اعلیٰ مقام کو پا گئے۔

نحسبه كذالك والله حسيبه

اس کی روح پرسکون اور اس کی یاد ہمیشہ باقی رہے گی۔

نوٹ:

داعش اور امریکہ کی مشترکہ کاوشوں کی ایک زندہ مثال ریحان کی شہادت کا معاملہ ہے۔ جہاں پہلے داعشیوں کے ساتھ دو بدو جنگ میں شہید ریحان تقبلہ اللہ زخمی ہو گئے تو اس کے بعد امریکیوں نے ڈرون کے ذریعے انہیں نشانہ بنایا اور دونوں کے اشتراک نے امت کی اس نامور شخصیت کی دنیاوی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔