سکیورٹی کمیشن کا جواب: سلامتی کونسل جھوٹی اطلاعت کے زیر اثر

رحمت اللہ فیضان

۲۹ دسمبر ۲۰۲۳ء کو افغانستان کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آخری اجلاس، افغان حکومت کے نمائندوں کی شرکت کے بغیر، قرارداد نمبر ۲۷۲۱ کے اجراء کے ساتھ ختم ہوا۔ اس قرارداد کے ایک حصے میں کہا گیا تھا کہ مختلف ممالک کے خصوصی نمائندوں کا ایک گروپ اور اقوام متحدہ کا ایک خصوصی نمائندہ مقرر کیا جائے جو مشترکہ طور پر بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرے۔

اگرچہ سلامتی کونسل کے ۱۵ ارکان میں سے ۱۳ ارکان نے اس قرارداد پر مثبت رائے دی لیکن روس اور چین نے اپنی رائے استعمال نہیں کی، کیونکہ روس کا مؤقف تھا: ’’اگر خصوصی نمائندے کے تقرر میں افغان حکام سے مشاورت نہیں کی جاتی، تو روس خصوصی نمائندے کی حمایت نہیں کرے گا‘‘، روسی نمائندے نے یہ بھی کہا کہ: ’’دوسروں کے ساز پر رقص کرنے سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوتا اور افغانستان کی تاریخ اس کی ’’افسوسناک مثالوں‘‘ سے بھری پڑی ہے‘‘۔

چین کے نمائندے نے بھی کہا کہ: ہمیں امید ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل افغان حکام کے ساتھ تعمیری بات چیت کے ذریعے خصوصی نمائندے کی تقرری میں احتیاط سے کام لیں گے اور مناسب حل نکالیں گے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان کی تاریخ نے ثابت کیا کہ اس ملک کے لیے باہر سے تجویز کیے گئے حل بالآخر ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراراد کے بعد افغانستان کی وزارت خارجہ نے اپنے فوری ردّعمل میں ایک اعلامیہ جاری کہا اور کہا: اقوام متحدہ کے خصوصی مشن (یوناما) کی عملی موجودگی کے باوجود افغانستان کے لیے ایک اور اضافی خصوصی نمائندے کی تقرری کو ایک غیر ضروری اقدام تصور کیا جائے گا، کیونکہ زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوئی تنازعات میں گھرا ملک نہیں اور اس وقت اس میں ایک ایسی مرکزی حکومت اقتدار میں ہے جو ملکی مفادات کا تحفظ اور اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکتی ہے اور یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ دو طرفہ اور کثیر جہتی میکانزم کے ذریعے مسائل کو سنبھالے۔

وزارت خارجہ نے اپنے اعلامیہ میں چین اور روس کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کیا اور کہا کہ خصوصی نمائندوں نے افغانستان اور دنیا کی حالیہ تاریخ میں نہ صرف یہ کہ کسی بھی تنازع کو حل نہیں کیا بلکہ اغیار کے حل مسلط کر کے صورتحال کو مزید پیچیدہ ہی بنایا۔

 

سلامتی کونسل کی قرارداد اور افغانستان کی وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے بعد افغانستان کے سکیورٹی کمیشن نے، جس کی سربراہی وزارت دفاع کرتی ہے، ایک پریس کانفرنس کی۔ کانفرنس میں افغانستان کے سکیورٹی مشن کے سربراہ اور وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: خطے میں افغانستان کے بارے میں تشویش پیدا کرنے کے لیے بعض خود غرض داخلی و خارجی عناصر کی جانب سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ بدنیت ٹولے جھوٹی اطلاعات گھڑتے ہیں اور مختلف ذرائع سے مختلف سمتوں تک پہنچاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خطے کے اور دنیا کے دیگر ممالک میں افغانستان کے حوالے سے تشویش پیدا کریں۔ جھوٹی اطلاعات گھڑنا اس بد نیت ٹولے کا اب ایک تجارتی کاروبار بن چکا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ اس کے ذریعے سیاسی اور مالی فوائد حاصل کریں اور اپنے ناپاک اہداف حاصل کر لیں۔

سلامتی کونسل جھوٹی اطلاعات کا شکار ہو چکی ہے، لہٰذا خطے کے اور دنیا کے دیگر ممالک کو افغانستان کی سلامتی کی صورتحال پر جھوٹی رپورٹس سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

مجاہد صاحب نے کہا کہ ان کی حکومت دوحہ معاہدے کی پابند ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امارت اسلامیہ کی طرف سے افغانستان کی سرزمین کسی اور کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ: ہم اپنے عہد پر قائم ہیں، کبھی کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ افغانستان کو دوسروں کے خلاف استعمال کرے اور نہ ہی کسی کو یہ اجازت دیں گے کہ افغانوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان نوجوانوں کو دوسروں کے خلاف استعمال کرے۔ اس سلسلے میں تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ ہم کسی سے زیادتی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی کی زیادتی کو قبول کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا مسائل کو دیکھ کر انسان کے ذہن میں بات آتی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے پوچھا جائے کہ ایک ایسی حکومت کی موجودگی میں کہ جو ملکی مفادات کا تحفظ اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہے، مکمل امن و سلامتی پیدا کر سکتی ہے، نوّے فیصد شر پسند افراد کو، جو ہمارے ملک اور دیگر ممالک کے لیے خطرہ تھے، ختم کر سکتی ہے، اپنے ان مخالفین کو، جو بیس سال میں استعمار کی حمایت میں اپنی عوام کو قتل کرتے رہے، عام معافی دے سکتی ہے، اغوا کاروں، ان کے نیٹ ورکس اور مسلح ڈاکوؤں کے گروہوں کو ختم کر سکتی ہے اور سینکڑوں انسانوں کی زندگی بچا سکتی ہے، منشیات کی اسمگلنگ ختم کر سکتی ہے، منشیات کے عادی پچانویں ہزار دو سو پانچ (۹۵،۲۰۵) افراد کا علاج کر سکتی ہے، قدرتی آفات کے دوران اپنے لوگوں کے مسائل حل کر سکتی ہے، جس کی روشن مثال سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہرات میں زلزلہ زدگان کے لیے امدادی کاروائی اور اس کے ساتھ ان کی کروڑوں روپے کی مالی امداد ہے، اور اسی طرح افغان سکیورٹی فورسز نے پناہ گزیونوں کے مسائل کے حل کے ہائی کمیشن کے فریم ورک کے تحت ملک میں جبری طور واپس بھیجے جانے والے افغان مہاجرین کی منتقلی اور آباد کاری میں مدد کی، سکیورٹی کے لیے غیر معمولی سکیورٹی ایکشن پلان ترتیب دیے اور ان پر عمل درآمد کیا۔ اسی طرح انتظامی بد عنوانی جسے عالمی اتحاد بھی ختم کرنے سے عاجز رہا، صفر تک پہنچا سکتی ہے، شفافیت پیدا کر سکتی ہے اور اپنے ریونیو سے بڑے بڑے قومی منصوبوں کو بروئے کار لا سکتی ہے، عوام کے مسائل کر وقت پر حل کر سکتی ہے، جس کی مثال یہ ہے کہ صرف پچھلے بارہ ماہ میں مجموعی طور پر چھیالیس ہزار (۴۶،۰۰۰) مقدمات سنے گئے اور ان پر فیصلہ صادر کیا گیا، جن میں تیس ہزارتین سوسینتالیس (۳۰،۳۴۷) فوجداری مقدمات، بارہ ہزارایک سو نواسی (۱۲،۱۸۹) عوامی تحفظ اور بدعنوانی کے مقدمات اور چار ہزار دو سو اکسٹھ (۴،۲۶۱) فوجی مقدمات شامل ہیں۔

ایسے ملک کے لیے جس کی حکومت نے تمام قومی اور بین الاقوقی معیارات پورے کیے ہوں، اس کے ساتھ تعامل کرنے کی بجائے، اسے رسمی طور پر تسلیم کرنے کی بجائے، کہ جس سے یہاں کی عوام سے حقیقی ہمدردی ہو، عالمی برادری کی طرف سے فرمائشی نمائندے بھیجنا اور تمام ٹھوس حقائق سے آنکھیں چرانا افغانستان کے عدم استحکام کے لیے نئے دروازے کھولنے کے سوا اور کیا مطلب رکھتا ہے؟

صدیوں سے افغانستان ایشیا اور یورپ کے درمیان اور ایشیا کے اندر بھی تجارتی سامان، مذاہب اور ثقافتوں کی منتقلی اور رابطے کا مرکز رہا ہے۔ استعمار کے دور میں اور پچھلی چار دہائیوں کی جنگ کے نتیجہ میں یہ اپنی مرکزیت کھو بیٹھا اور الگ تھلگ ہو گیا، لیکن استعمار اور جنگوں کے خاتمے سے افغانستان ایک بار پھر اپنی اصلی راہ پر چل پڑا ہے۔ عالمی برادری، پڑوسی اور خطے کے وہ ممالک جو افغانستان کے ساتھ مخلص ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ نمائندے بھیجنے کی بجائے اس نئی حکومت کی تقویت اور حمایت کے لیے ہاتھ آگے بڑھائیں۔