صادقین کے صادق امیر

ہم الحمد للہ مسلمان ہیں اور دنیا میں ہمیں اسلامی شرعی نظام سے نوازا گیا ہے، ایسا نظام جس کا دنیا میں کوئی اور ثانی نہیں۔ الحمد للہ

مسلمان اسلام کے ہر حکم پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ قرآن و حدیث کی نصوص سے ثابت احکام کو ماننا مسلمانوں پر فرض ہے۔ اسلام نے دیگر تمام احکام کے ساتھ ایک حکم امیر کی اطاعت کا بھی دیا ہے، دینِ مبین اسلام میں ہر موقع پر امیر کا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی طرح کسی کی اطاعت کرنے میں امیر کو اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد تیسرا درجہ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِى الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْءَاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا- [سُوۡرَةُ النِّسَاء : 59]

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔ ‘‘

اس آیت کریمہ میں بہت اچھے انداز میں اللہ تعالیٰ، رسول اکرم ﷺ اور اولوالامر کی اطاعت کا ذکر کیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے بعد قرآن و سنت کے موافق امیر کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے۔

اولوالامر کا معاملہ ایک طویل بحث ہے، لیکن سلف صالحین کی اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اولو الامر سے مراد مسلمانوں کا امیر ہے۔

اولو الامر سے مراد خلیفہ اور حاکم ہے، مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں علماء یہ حدیث مبارک پیش کرتے ہیں:

’’ومن يطع الأمير فقد أطاعني‘‘

ترجمہ: جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔

مقصود بات:

امارت اسلامیہ کے زعیم عالی قدر امیر المؤمنین شیخ القرآن والحدیث مولوی ھبۃ اللہ اخند زادہ حفظہ اللہ ایک مؤمن شخصیت ہیں۔ قرآن و سنت کے کامل مطیع اور اسلامی شرائط کے مطابق ہیں۔ دنیا کے زیادہ تر مومن مجاہدین انہیں اپنا امیر مانتے ہیں، ہر فیصلہ شریعت سے موافق اور شرعی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے، اب تک نہ تو کوئی فیصلہ غلط کیا اور نہ ہی ان شاء اللہ کریں گے۔ آج ہمارے زعیم امیر جیسی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ تقوی، دیانت، پاکیزگی اور دیگر بہت سی اعلیٰ صفات کے حامل ہیں۔ ان تمام مثبت صفات کے ساتھ امیر المؤمنین شیخ القرآن و الحدیث بھی ہیں، یعنی علم کے اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں غنی کیا ہے۔

جس طرح صادقین کے امیر مومن اور صادق ہیں، اسی طرح ان کے ماتحت بھی مومنین اور صادقین ہیں، سب شریعت پر عمل کرنے والے لوگ ہیں، وزراء، نائبین، اداروں کے سربراہ، اور گورنر سب مومنین ہیں، یہاں تک کہ میرے جیسا ادنیٰ سپاہی بھی مومن ہے۔

کیونکہ ہمارے امیر تمام نیک صفات کے حامل ہیں اس لیے ان کی اطاعت بھی ہم سب مسلمانوں پر فرض ہے، اور ہر قسم کی بدگمانی سے بچنا بھی ضروری ہے تاکہ ہمارے امیر جو شریعت پر عمل پیرا ہیں ہم بھی ان کے ساتھ عمل پیرا ہو جائیں۔

آج جو غلیظ دشمن ماضی کے بدبخت دشمن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی کی طرح صادقین کے صادق امیر کے بارے میں جھوٹی افواہیں پھیلا رہے ہیں، یہ ان کا جدی پشتی کام ہے۔ اس حوالے سے کسی پریشانی کی ضرورت نہیں کہ ہمارا دشمن کس قدر نیچ ہے کہ صادقین کو بھی نہیں چھوڑتا، انہیں صادق امیر نصیب نہیں ہوتا، ان کے اپنے امیر غلیظ اور اسلام دشمن ہیں، اس لیے دنیا میں پاک صفت امیر بھی انہیں اپنے جیسے ہی نظر آتے ہیں۔ یہودیوں اور یہودیوں کے غلاموں کے نقش قدم پر چلنے والوں سے یہی توقع کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ ہم اپنے شرعی امیر کے بارے میں دشمن کے کسی ایک برے لفظ کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی کسی کو ایسے نیچ کام کی اجازت دیتے ہیں۔ دشمن اپنی سابقہ صفات کے مطابق بہت بری نقد کرتا ہے لیکن میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ ’’کتے کے منہ ڈالنے سے سمندر ناپاک نہیں ہوتا‘‘، بس اتنی بات کافی ہے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ امیر المؤمنین نے اپنی صادق ذمہ داری کے دوران کفر کی تمام یلغار کو پسپا کر دیا، کفار کی چیخ و پکار کو دو ٹکے کی اہمیت نہیں دی اور جواب دیا کہ ’’چاہے ہمارے خلاف ایٹم بم بھی استعمال کر لو، اسلام کے ادنیٰ سے حکم کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔‘‘

مجموعی طور پر عصرِ حاضر میں یہ کام ایک صادق شخصیت ہی کر سکتی ہے اور ایک صادق شخصیت ہی اس کی حقدار ہے، ورنہ جھوٹی شخصیات کی تو لائن لگی ہوئی ہے۔ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان میں سے کون ہے جو امیر المؤمنین کی طرح صادق ہے؟

چونکہ ہم اور آپ سب مسلمان ہیں اور ایک ہی کلمہ کے ماننے والے ہیں، اس لیے مذکورہ بالا آیت مبارکہ اور حدیث مبارک امیر کی اطاعت کرنے اور امیر کے بارے میں بدگمانی سے بچنے کے حوالے سے کفایت کرتی ہے۔

دشمن اسی طرح مزید شکست کھائے اور ذلیل ہو جیسے وہ شکست خوردہ اور ذلیل ہے۔

وما علینا الالبلاغ …