پیارا فلسطین | نویں قسط

عزیز الدین مصنف

فلسطین جو بحیرہ روم تک کھلی سڑک رکھتا ہے اُس وقت تک سلطنتِ عثمانیہ کے زیر تسلط و اقتدار تھا۔ عثمانیوں کے دور میں فلسطین میں یہودی آبادی تین فیصد تک تھی، جبکہ باقی ۹۷ فیصد لوگ عرب مسلمان تھے۔ یورپ میں ڈرائے دھمکائے جانے کے بعد یہودیوں نے کچھ خفیہ میٹینگیں کیں۔ ۱۸۹۶ء کے آخر میں یہودی رہنما ہرزل کی کتاب کے مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ اپنے لیے ایک علیحدہ اور خودمختار ریاست قائم کریں۔ اس ریاست کے قیام کے لیے زمین اور جغرافیہ درکار تھا، اس حوالے سے چار ممالک (فلسطین، ارجنٹائن، یوگنڈا اور موزمبیک) کی تجویز پیش کی گئی کہ ان چار ممالک میں سے کسی ایک کا اپنے لیے انتخاب کر لیا جائے۔ اس انتخاب میں یہودیوں کو برطانیہ کی مکمل حمایت حاصل تھی، ہرزل نے اپنی کتاب میں لکھا کہ یہودیوں نے برطانیہ کے مشورے سے فلسطین کی سرزمین کو اپنے لیے منتخب کر لیا، مصنف نے اس کی وجوہات بیان کرنے کے لیے درج ذیل دلائل پیش کیے:

  1. اس دور میں فلسطین میں یہودیوں کی ایک اقلیت آباد تھی، سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں یہودی اور مسلمان پر امن ماحول میں رہتے تھے، یہودیوں کے لیے فکر و پریشانی کرنے کی کوئی بات نہیں تھی۔ پھر وہ یہودی جو خارجی ممالک سے فلسطین میں آئے، وہ بطور مہمان دیگر یہودیوں کے ساتھ ٹھہرے، اور مسلمانوں کی جانب سے انہیں کسی زور زبردستی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ (یہ مسلمانوں کے مکمل اعتماد کی دلالت کرتا ہے، انہیں یہودیوں پر اس قدر اعتماد اور بھروسہ کرنا نہیں چاہیے تھا۔)
  2. فلسطین کا بحیرہ روم کے ساتھ وسیع ساحل ہے، اس لیے دیگر ممالک کی نسبت فلسطین میں یہودیوں کی نقل مکانی زیادہ آسانی سے ممکن تھی۔
  3. امریکہ، برطانیہ اور سوویت یونین جو خطے میں مسلمانوں کی طاقت اور اختیار سے خوفزدہ تھے، انہوں نے مشترکہ طور پر مسلمانوں میں نفوذ حاصل کرنے کے لیے یہ منصوبہ پیش کیا، اور اس کے لیے یہودیوں کا انتخاب کیا، وہ یہودی جن سے مغرب بھی تنگ تھا اور مشرق (روس) بھی۔

یہ فلسطین کے عروج کا زمانہ تھا، کیونکہ سلطنتِ عثمانیہ قوت میں تھی، اور وہاں کے یہودی بھی ان فوائد سے پوری طرح مستفید ہو رہے تھے، تعلیم معیشت، صنعت اور تمام سہولتیں ان کے لیے پوری تھیں۔ چونکہ فلسطین برطانیہ کی سربراہی میں کفار کا ہدف تھا اور انہوں نے اس ہدف کے حصول کے لیے یہودیوں کو استعمال کیا۔

منصوبہ اس طرح بنایا گیا کہ برطانیہ کی نگرانی میں یہودی روس، یورپ، برطانیہ اور امریکہ سے بحیرہ روم کے راستے فلسطین تک پہنچیں۔ فلسطین میں رہائش کی خاطر فلسطین میں پہلے سے قیم یہودیوں سے خفیہ ملاقاتیں کی گئیں۔

فلسطین جانے والے یہودیوں کے ہمہ گیر مسائل کے حل کے لیے مذکورہ بالا ممالک ٹال مٹول کرنے لگے، کیونکہ یہ بہترین وقت تھا کہ یورپ یہودیوں کے شر سے نجات حاصل کر لے،  یہودیوں نے وہاں کی حکومتوں پر بہت دباؤ ڈالا تھا کہ وہ فلسطین ہجرت کرنے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کریں۔ اس منصوبے کے آغاز سے ۱۹۰۳ء تک مشرقی یورپ اور روس سے پچیس ہزار یہودی جن میں یہودی رہنما، برطانوی، امریکی اور روسی جاسوس اور دیگر دہشت گرد حملہ آور شامل تھے فلسطین داخل ہوئے۔ یہ لوگ مہاجرین کے نام سے فلسطین کی سرزمین میں داخل ہوئے۔ یہودیوں کی اس ہجرت کے بعد فلسطین میں یہودی آبادی ۵ فیصد تک بڑھ گئی۔ فلسطین میں یہودی تارکین وطن کے طویل قیام کا مقصد فلسطینی مسلمانوں کو ہر طرح کے مسائل کا شکار کرنا تھا۔ فلسطین کے مالی وسائل اور آنے والے یہودیوں کے کیمپ وہ مسائل تھے جنہوں نے فلسطینیوں کو احتجاج پر مجبور کر دیا۔ آخر کار القدس میں بڑی تعداد میں احتجاج کرنے والوں نے سلطنت عثمانیہ سے مطالبہ کیا کہ یہودیوں کی ہجرت کو روکا جائے، کیونکہ فلسطین اتنی بڑی تعداد کی آبادکاری برداشت نہیں کر سکتا۔ لیکن نہ صرف یہ کہ فلسطینیوں کی آواز کسی نے نہ سنی بلکہ اس کے ساتھ بیس ہزار مزید یہودی فلسطین میں داخل ہو گئے۔ اس کے ساتھ فلسطین میں یہودیوں کی آبادی ۸ فیصد تک بڑھ گئی۔ لیکن اس وقت تک وہ فلسطین کی تین فیصد زمین پر آباد تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانیہ اور فرانس نے سائکس پیکو معاہدہ (Sykes-Picot Agreement)  کے تحت شام کی مقدس سرزمین کو تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا، اس وقت برطانیہ نے سان ریمو قرارداد(San Remo Resolution)  کے تحت فلسطین میں اپنے اقتدار کا اعلان کیا۔ فلسطین پر قبضے کے بعد بالفور ڈیکلیریشن (Balfour Declaration) کو تسلیم کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔ برطانیہ کے زیر تسلط آنے کے بعد فلسطین سلطنت عثمانیہ کے تسلط سے نکل گیا، یہاں تک کہ فلسطین جانے والے تمام راستے برطانیہ کی طرف سے سخت نگرانی میں آگئے۔

 

جاری ہے…!