پیارا فلسطین | چھٹی قسط

عزیز الدین مصنف

تھیٹر، فلم اور یہود

یہودی ایک زمانے سے چاہتے ہیں کہ میڈٰیا اور پراپیگنڈہ کے تمام آلات و وسائل اپنے کنٹرول میں رکھیں۔ یہود تھیٹر اور فلم انڈسٹری میں اپنے ذرائع رکھتے ہیں، ان منصوبوں کے ذریعے وہ تھیٹر کے تمام پروگرام منظم کرتے ہیں۔ یہود کی کوشش ہے کہ پوری دنیا کی فلم انڈسٹری میں ان کی تعریف کی جائے ، یا کم از کم یہود مخالف پراپیگنڈہ نہ کیا جائے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پوری دنیا کی فلم پروڈکشن کمپنیاں یہودیوں کے ساتھ ہیں، جہاں بھی یہودی اپنا قدم رکھتے ہیں وہاں فحاشی اور اخلاقی فساد بہت بڑھ جاتا ہے۔

موسیقی اور یہود

موسیقی جو کہ ایک فضول کام ہے، آج اس نے ہمیں مغربی تہذیب کا غلام بنا دیا ہے۔ یہودیوں کی کوشش ہے کہ غیر یہودی نوجوان موسیقی میں مشغول ہو جائیں تاکہ اپنا پورا وقت بیہودہ چیزوں میں ضائع کرتے رہیں۔ تیز موسیقی (ریپ) بھی یہودیوں کی ایجاد ہے، جس کی مارکیٹ آج کل بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مجموعی طور پر ہر فتنہ و فساد کو دیکھیں تو اس کی جڑوں میں لازمی یہودیوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح آج کی دنیا میں وہ تمام جنگیں جن میں ہزاروں انسان مارے جاتے ہیں، یہودیوں ہی کی طرف سے کروائی جاتی ہیں۔

شراب اور یہود

جان فاسٹر فریزر (John Foster Fraser) اپنی کتاب فاتح یہودی (The Conquering Jew) میں لکھتا ہے:

’’امریکہ میں شراب کا سارا کاروبار یہودیوں کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ کانگرس کے اسی فیصد ارکان شراب کے بڑے تاجر ہیں، شراب کے ساتھ سگریٹ کی بھی پوری دنیا میں تجارت کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں۔

اسی طرح شراب کے جتنے بھی اشتہارات بنائے جاتے ہیں وہ سب بھی یہودیوں کی مرضی سے بنائے جاتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہر فلم، ناول، کتاب یا دیگر چیزوں کی جو تشہیر کی جاتی ہے اس کے پیچھے شراب کا نشان ضرور موجود ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

اس سوال کا بہت سادہ سا جواب ہے، شراب کی تمام تجارت کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں۔ یہودیوں کی ایک خصوصی تنظیم ان تشہیرات کو کنٹرول کرتی ہے۔‘‘

کچھ اہم نکات

انیسویں صدی کے آخر میں برطانیہ جرمنی کا راستہ روکنے کے لیے اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے لگا، بعض ممالک (ہالینڈ، بیلجیم، سپین، پرتگال، اٹلی) نیشنلائزیشن کی کوشش کر رہے تھے، تاکہ بہتر طریقے سے کام چل سکے۔ اسی دوران ۱۹۰۷ء میں ان ممالک کی اہم شخصیات نے ایک کانفرنس منعقد کی، ایک ہفتہ جاری رہنے والی اس کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا:

’’مغرب کے لیے سب سے بڑا خطرہ بحیرۂ روم  کا ساحل ہے، کیونکہ یہی سمندر مشرق اور مغرب کو ملانے کا واحد راستہ ہے، اور یہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ مسلمان ایک واحد امت ہیں، وسیع زرعی اراضی اور قوی معدنی وسائل ہیں، اور مسلمان خود ارادیت کے نتیجے میں زیادہ آزادیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس لیے تمام بڑے ممالک سے سفارش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے میں بھرپور حصہ لیں، اور ہر طرح سے مسلمانوں کا راستہ روکیں۔ سب سے پہلے ایشیا اور افریقہ کو تقسیم کیا جانا چاہیے۔‘‘ (قضایانا فی الامم المتحد خیری حماد، ص: ۱۲۶)

مذکورہ بالا بحث اسرائیل کی تخلیق کی ایک وجہ بھی ہو سکتی ہے، لیکن اسرائیل صیہونی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا اور یہ زیادہ بڑی وجہ ہے۔ اس وقت جب یہودیوں کو فلسطین سے نکال باہر کیا گیا، تو انہوں نے فلسطین کے غم کا بہت ماتم کیا، یہاں تک کہ بعد میں جب یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ کر لیا، اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی دیوار گریہ پر جا کر مسلمانوں کی شکست پر خوشی کا اظہار کیا۔ (الايام الحاسمه قبل معرکه المصير، محمود شيت خطاب: ۱۹۶۷ء)

 

جاری ہے…!