پیارا فلسطین | پانچویں قسط

عزیز الدین مصنف

]

کیا امریکہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہے؟

۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران جب امریکہ نے اسرائیل کی براہ راست حمایت کا اعلان کیا تو اس کے بعد یہ خیال کیا جانے لگا کہ امریکہ یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔

اس سوال کی وضاحت کے لیے ہم مشہور کتاب (The International Jew: The Worlds Foremost Problem) سے ایک اقتباس کا انتخاب کریں گے۔

مشہور امریکی سرمایہ دار ہنری فورڈ (Henry Ford) کی لکھی اس کتاب میں یہودیوں پر جامع بحث کی گئی ہے۔ یہودیوں کے خفیہ اجلاس، مستقبل کے منصوبے، اور بہت سی دیگر باتوں کا ذکر اس کتاب میں آیا ہے۔ یہودیوں کے بارے میں یہ ایک مشہور ترین اور اہم کتاب ہے۔ جب ۱۹۲۱ء میں فورڈ موٹر کمپنی (Ford Motor Company) نے یہ کتاب چھاپی، تو یہودیوں نے بھاری قیمت پر اسے ساری دنیا سے اکٹھا کر کے جلا دیا، لیکن پھر بھی عالمِ عرب میں یہ تیزی سے پھیل گئی۔ امریکہ میں اس کتاب کی ایک کاپی ۸۰۰ ڈالر میں فروخت ہوئی، لیکن یہودیوں کے سخت دباؤ کے بعد مصنف ایک تحریری معافی نامہ لکھنے پر مجبور ہو گیا۔

کتاب سے اقتباس:

یہودیوں کے امریکہ میں داخلے کے چار سو سال میں یہودیوں نے دنیا کے طاقتور ترین ملک میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے امریکہ میں بہت محنت کی۔

نیو نیدرلینڈ (New Netherland) (سترہویں صدی میں ہالینڈ کی امریکہ میں کالونی کا صوبہ جو امریکہ کی موجودہ ریاستوں نیو یارک، نیو جرسی، ڈیلیویئر، کنیٹیکٹ کے علاوہ پنسلوینیا اور رہوڈ آئلینڈ کے کچھ حصوں پر مشتمل تھا)  کے گورنر پیٹر سٹائیوسنٹ (Peter Stuyvesant) نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں یہودیوں کو نیو ایمسٹرڈیم  (New Amsterdam) (موجودہ نیو یارک) چھوڑنے کا حکم دیا، لیکن اس شہر میں تعمیراتی کمپنیوں میں یہودیوں کے بڑے شیئرز کو دیکھتے ہوئے گورنر اپنے حکم سے پیچھے ہٹ گیا۔

گورنر نے اتنا ضرور کیا کہ مشہور تجارتی کمپنیوں سے یہودیوں کو نکال دیا، لیکن آج نیو یارک یہودیوں کا سب سے بڑا گڑھ ہے۔ نیو یارک میں بہت سی صنعتی کمپنیاں اور زمینیں یہودیوں کی ملکیت ہیں۔ اسی طرح یہودی نیویارک میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں کسی اور کو تجارت اور کاروبار کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ اسی لیے ہم امریکیوں کو یہودیوں کے اس نعرے پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ: امریکہ ہی وہ جگہ ہے جس کا ہمارے پیغمبروں نے ہم سے وعدہ کیا تھا، نیویارک ہمارا یروشلم ہے اور اس کے پہاڑ صیہون کے پہاڑوں کی مانند۔

جارج واشنگٹن کے دور میں پورے امریکہ میں چار ہزار یہودی آباد تھے، جب امریکہ کی جنگِ آزادی شروع ہوئی، تو یہودیوں نے اس میں بھرپور شرکت کی، اس جنگ کو ابھی پچاس برس بھی نہ بیتے تھے کہ امریکہ میں یہودیوں کی تعداد ۳۳ لاکھ تک پہنچ گئی اور درست تعداد کا ابھی بھی کسی کو اندازہ نہیں۔ اس میں بھی یہودیوں کا ایک خاص راز پوشیدہ ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ امریکہ میں داخلے کی رجسٹریشن کرنے والا ادارہ بھی یہودیوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔

اگر آپ امریکہ میں موجود فرانسیسی، افریقی اور ایشیائی باشندوں کی تعداد پوچھنا چاہیں، تو یہ معلومات آپ کو فورا مل جائیں گی، لیکن جب آپ یہودیوں کی تعداد پوچھیں تو اس کا کوئی جواب نہیں ملے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ یہودی امریکہ کی زیادہ تر تجارتی کمپنیاں کنٹرول کرتے ہیں، خود امریکہ بھی اس پر خوش نہیں، کیونکہ بدعنوانی کی شرح ان ممالک میں سب سے زیادہ ہے جہاں یہودی آباد ہیں۔ دیگر ممالک انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ اس کی بہترین مثال، سپین، جرمنی اور برطانیہ ہیں، کیونکہ ان ممالک میں یہودیوں کی کثیر تعداد موجو ہے۔

آج امریکہ دنیا کو یہودیوں کی نظر سے دیکھتا ہے، یہودیوں نے پورے امریکہ میں اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے، یہاں تک کہ ہر چرچ بھی ان کے کنٹرول میں ہے۔

امریکہ کے تمام معاشی منصوبوں پر یہودیوں کے ذریعے عمل درآمد ہوتا ہے، امریکہ میں یہودیوں نے اس حد تک اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے عیسائی بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ اسی طرح امریکہ کے تمام یونیورسٹیوں کے تمام امور، افکار، نظریات اور عقائد یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔

پورے امریکہ میں یہودی دو ناموں سے سرگرم ہیں۔

  • نیو یارک کیہلاہ (The New York Kehillah)
  • امریکی یہودی کانگرس (American Jewish Congress)

کیہلاہ امریکہ میں ایک آزاد حکومت کے طور پر کام کرتی ہے، اس طرح کے اس تنظیم کی تمام قراردادوں کو قانون کی حیثیت حاصل ہے۔

امریکی ریاست نیو یارک میں میں اس تنظیم کی موجودگی نے یہودیوں کو نیویارک ہجرت کرنے پر ابھارا، کیونکہ یہودیوں کے لیے اس تنظیم کی حیثیت ماں باپ کا درجہ رکھتی ہے۔ یہودیوں کی یہ تنظیم امریکہ میں اپنے اہم اجلاس منعقد کرتی ہے، اب اس کیہلاہ نے اپنا نام بدل کر عالمی یہودی کانگرس (World Jewish Congress) رکھ لیا ہے۔ پوری دنیا میں ہزاروں خفیہ تنظیمیں کیہلاہ کے تحت کام کرتی ہیں۔

میں یہودیوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ اگر تم وطن پرستی کا دعویٰ کرتے ہو تو پھر اتنی تنظیموں کا کیا مقصد؟ یہ کس کے خلاف سرگرم ہیں؟ یہ تنظیم نیویارک کو امریکہ سے جدا کرنے کی کوشش میں کیوں ہے؟ اگر یہودی امریکہ کے وفادار ہیں تو ایسی کسی تنظیم کے وجود کا کیا مطلب ہے؟ پوری دنیا کے لیے کیہلاہ کا وجود باعث عبرت ہے، تاکہ عالمی برادری یہودیوں کے مذموم مقاصد سے آگاہ رہیں۔

امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کو کیہلاہ کے کٹر حامیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے۔ درحقیقت یہ پارٹی براہ راست کیہلاہ انتظامیہ کے تحت ہے۔

امریکی صدر کے انتخاب کی واحد شرط یہودیوں کی رضا ہے۔ لیکن امریکی عوام کو لگتا ہے کہ ان کا صدر ان کی مرضی سے آتا ہے۔ اگر انتخابات میں کامیاب ہونے والا صدر یہودیوں کی رضا کے مطابق کام نہیں کرتا، تو یہودیوں کی طرف سے اسے ایسے برے مقدمات میں پھنسا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے میدان چھوڑ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

یہودی اب اپنی پرانی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ وہ کہتے ہیں: یہودیوں کو چاہیے کہ وہ منظرِ عام پر مت آئیں، بلکہ دوسروں کو سامنے رکھیں اور وہ پس پردہ قیادت کریں، اس طریقہ کار کے سبب یہودیوں کے لیے اپنے اہداف حاصل کرنا بہت آسان ہو گیا۔

امریکہ میں یہودیوں کی ایک اور تنظیم تامانی (Tammany Society) کے نام سے صدیوں سے فعال ہے، اس تنظیم کے کام انتہائی خفیہ ہیں، کبھی بھی سیاست میں براہ راست داخل نہیں ہوتی، بلکہ ہمیشہ پس پردہ رہ کر اپنے کام سرانجام دیتی ہے۔ واضح رہے کہ تامانی سوسائٹی کے تمام اخراجات دنیا میں عیاشی کے مراکز اور منشیات کی سمگلنگ سے حاصل کیے جاتے ہیں۔

 

جاری ہے…!