پیارا فلسطین | چوتھی قسط

عزیز الدین مصنف

یہودی حاکمیت کی تلاش میں

یہودیوں نے اپنی فلاح و بہبود اور دوسروں سے بدلہ لینے کے لیے بہت سی تنظیمیں بنائیں، لیکن ہر بار حکومتوں نے انہیں ختم کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے سوچا کہ سب سے پہلے ان کو کمزور ممالک کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرنا چاہئے۔

یہودیوں نے پہلی بار میسنری (Masonry) کے نام سے ایک اجلاس منعقد کیا، اس اجلاس میں یہودیوں نے ایک اعلامیہ شائع کیا گیا جس میں انہوں نے اپنے اہداف کا ذکر کیا۔

  • پوری دنیا میں یہودیت کا دفاع اور تحفظ
  • پوری دنیا کے ادیان کا خاتمہ
  • اقوام عالم میں لادینیت کا فروغ

(الماسونیہ منشئۃ ملک اسرائیل، از محمد علی زعبی، بیروت: ۱۹۵۶ء)

میسونک (Masonic) اجلاس ان تمام ممالک میں منعقد کیے گئے جہاں یہودی آباد تھے، جس کے بعد اس تنظیم کو بعض ممالک میں سرکاری سطح پر رجسٹر کر لیا گیا۔

دوسری بار یہودیوں نے بارتھ (Barth) کے نام سے ایک تنظیم بنائی۔ یہ تنظیم یہودی مہاجرین کی جانب سے بنائی گئی، اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں انہوں نے بھرپور حصہ لیا، امریکی صدر آئزن ہاور (Eisenhower) کے دور حکومت میں برث تنظیم کے سربراہ کلوزنیک کو امریکی کانگرس کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ یہ تنظیم آج بھی امریکہ سمیت کئی یورپی ممالک میں سرکاری طور پر اپنا کام سرانجام دیتی ہے۔

یہودیوں کا تیسرا ردعمل صیہونیت تھا۔ اس تنظیم کا واحد کام یہودیوں کے لیے ایک الگ ملک بنانا تھا۔ صیہونیت کے تصور کو یہودیوں نے پہلے ہی پروان چڑھایا تھا اور یہودی اپنے لیے ایک الگ ملک بنانا چاہتے تھے، جب انہوں نے فلسطین کو اپنا ہدف بنایا تو انہوں نے اپنے اس ںظریے کا رسمی طور پر اعلان بھی کر دیا۔

 (اس کا ذکر اگلے قسطوں میں آرہا ہے)

صیہونی عقائد:

ہر یہودی صیہونی ہے لیکن ہر صیہونی یہودی نہیں ہے، ان کے درمیان ایک قطعی تعلق ہے، کیونکہ یہودیوں کے ساتھ صیہونیت کی کامیابی کے لیے بہت سے لوگوں نے کام کیا جو یہودی نہیں تھے، جیسے چرچل، ایڈن، ٹرومین، آئزن ہاور، کینیڈی۔ اور جانسن۔

 (خطر اليهودية العالمية علی الاسلام والمسيحه 172)

 یہودیوں کا چوتھا ردّعمل اینٹی سیمیٹزم (Anti-Semitism):

یہودی پوری دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنا اقتدار دریائے نیل سے درائے فرات کے درمیانی علاقے میں پھیلانا چاہتے ہیں اور اس کے بعد اپنے لیے مزید اقدامات بھی کرنا چاہتے ہیں۔

اسرائیل دریائے نیل سے فرات تک کا علاقہ کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے؟

ونٹر پریس (Wienter Press) اخبار میں ایک یہودی والتھر رتھناؤ (Walther Rathenau)۲۵ دسمبر ۱۹۰۹ء میں اپنی اپنی تحریر میں لکھتا ہے: تمام یورپ کی تقدیر ایسے ۳۰۰ لوگوں پر ہے، جو ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، یہ ۳۰۰ لوگ سب کے سب یہودی ہیں۔ ان کے پاس مخالف ممالک کو دبانے کے لیے کافی ساز و سامان اور اسباب موجود ہیں۔

 جاری ہے…!