پیارا فلسطین | تیسری قسط

عزیز الدین مصنف

یہودی مختلف ممالک میں

فرانسیسی مصنف گوستاو لی بان (Gustave Le Bon) لکھتا ہے کہ اگر ہم یہودیوں کی تعریف ایک جملے میں کرنا چاہیں تو ہم ایسے کہیں گے کہ یہودی ایسے وحشی لوگ ہیں جو حال ہی میں جنگل سے شہر میں داخل ہوئے ہیں اور انسانی اوصاف سے بے بہرہ ہیں، کیونکہ ہر وقت دنیا کے احمق ترین انسانوں کی طرح عمل کرتے ہیں۔

(اليهود فی تاریخ الحضارات الاولی: ترجمه عادل: ۱۹۵۰ء)

یہودی برطانیہ میں

۱۲۹۰ء میں لندن میں رہنے والے یہودیوں نے برطانیہ کے لوگوں کو اس قدر ستایا کہ وقت کے بادشاہ ایڈورڈ نے حکم دیا کہ تمام یہودی برطانیہ چھوڑ دیں۔ شائع ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا کہ یہودی لازمی عید القدس سے قبل برطانیہ سے نکل جائیں، جو بھی اس تاریخ تک نہیں نکلا اسے قتل کر دیا جائے گا اور اس کے جسم کے چار ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔

اس حکم نامے کے نفاذ کے بعد سولہ ہزار یہودی برطانیہ سے نکل گئے، ایسے کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ بچا۔ اس کے بعد ۴۰۰ سال تک یہودی دوبارہ برطانیہ میں داخل نہ ہو سکے، یہاں تک کہ ۱۶۵۷ء میں ایک بار پھر انہیں برطانیہ میں داخلے کی اجازت مل گئی، اسی سال لندن میں یہودیوں کا ایک بڑا سائینا گوگ تعمیر ہوا۔ (یہودی عبادت گاہ کو سائیناگوگ (Synagogue) کہتے ہیں) اور ۱۸۴۱ء میں انہوں نے پہلا چھاپہ خانہ (پریس) شروع کیا۔

یہودی امریکہ میں

امریکہ نے ۱۶۷۴ء میں یہودیوں کو کھلے عام عبادت کرنے کی جازت دی۔

یہودی فرانس میں

فرانس میں بھی لوئیس نے یہودیوں کو نکال باہر کیا اور بیس سال تک انہیں فرانس میں آباد ہونے کی اجازت نہ دی، اسی طرح ۱۳۴۱ء میں بھی فرانسیسیوں کی طرف سے یہودیوں کو شدید مار پڑی، جس کے نتیجے میں ہزاروں یہودی مارے گئے، فرانسیسیوں کی طرف سے یہودیوں کے قتل عام کا سلسلہ ۱۳۹۴ء تک جاری رہا جب فرانس میں ایک بھی یہودی باقی نہ بچا۔

۱۴۹۲ء میں یہودیوں کو فرانس میں رہنے کی اجازت مل گئی، لیکن اس کے بعد بھی کسی یہودی کو شہر میں آباد ہونے کی اجازت نہ تھی۔

(خطر اليهوديه العالميه علی الاسلام والمسيحه:۱۱۴)

یہودی جرمنی میں

جرمنی کی طرف سے بھی یہودیوں کو شدید مار پڑی، آخری بار ہٹلر نے ان کا قتل عام کیا۔ یہودیوں نے جرمنی میں ۱۲ سال سخت ظلم و تشدد برداشت کرتے گزارے۔ ہٹلر کی طرف سے یہودیوں کے قتل عام کی ایک ہی وجہ تھی اور وہ یہودیوں کی غیر انسانی صفات اور بے غیرتی تھی۔

یہودی سپین میں

اس کے علاوہ مارچ ۱۴۹۲ء میں سپین کے وزیر فرڈیننڈ نے ایک اعلامیہ کے ذریعہ اعلان کیا کہ یہودی سپین سے نکل جائیں، اس کے نتیجے میں پانچ لاکھ یہودی سپین چھوڑ گئے۔

یہودی روس میں

یہ بات قابل غور ہے کہ سابق سوویت یونین کے کچھ ممالک (پولینڈ، روم، بلغاریہ، سوئزر لینڈ، ہنگری) میں یہودی آباد تھے، لیکن ان ممالک نے یہودیوں کو کئی بار جلا وطن کیا۔

 

جاری ہے…!