پیارا فلسطین | دوسری قسط

عزیز الدین مصنف

محترم قارئین!

یہ دستاویزی تحریری سلسلہ فلسطین کے حالیہ مسئلے سے پہلے لکھا  گیا تھا، اس کا زیادہ تر حصہ فلسطین پر قبضے کی تاریخ کے لیے وقف ہے۔ اس میں سب سے پہلے یہودی اور ان کے مذموم منصوبوں کا جائزہ لیا گیا ہے کہ یہودی کیسے اتنے طاقتور اور اس قابل ہو گئے کہ فلسطین پر قبضہ کر لیں، اور فلسطین کی سرزمین پر اپنے لیے ایک علیحدہ ریاست (اسرائیل) قائم کر لیں۔

اس مقالے کو لکھنے میں عرب اور مغربی دنیا کے مشہور اور معاصر تاریخ دانوں کی تصانیف سے استفادہ کیا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ بالمشاہدہ واقعات کا جائزہ لیا جائے۔

یہودی کون ہیں؟

یہود یا بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلا کی اولاد ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں، اور جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے کہ یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل بھی تھا، اور قرآن کریم میں لفظ اسرائیل ۴۱ مرتبہ آیا ہے۔ عبرانی میں اسرائیل اللہ کے بندے کو کہا جاتا ہے۔ (اسرا کا معنی اللہ تعالیٰ اور عائل کا معنی ہے بندہ)۔ اس دور میں یہ لوگ مسلمان تھے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے پیروکار تھے لیکن ابتدا ہی سے ان کی خواہشات بہت زیادہ تھیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے غذا مقرر کر رکھی تھی جسے من و سلوی کہتے تھے اور دن میں ان پر سایہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بادل مقرر کر رکھے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ

ترجمہ: اور ہم نے تم کو بادل کا سایہ عطا کیا اور تم پر من وسلویٰ نازل کیا، (اور کہا کہ) جو پاکیزہ رزق ہم نے تمہیں بخشا ہے اسے کھاؤ اور یہ (نافرمانیاں کرکے) انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ہی ظلم کرتے رہے۔ (سورۃ البقرۃ: ۵۷)

لیکن جب جب انہوں نے سرکشی کی، گمراہ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی شروع کردی، تب تب اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسول اور ڈرانے والے بھیجے۔ یعقوب علیہ السلام کے بعد ان کے بیٹے یوسف علیہ السلام، صالح علیہ السلام اور پھر موسیٰ علیہ السلام داؤد علیہ السلام، سلیمان علیہ السلام اور دیگر کئی رسول اور ڈرانے والے ان کی طرف بھیجے گئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف دعوت دی، ظلم، ناانصافی، سود، شرک، فسق، فجور، کم تولنا، اور برے اعمال سے منع کیا، جنہوں نے ایمان قبول کیا، مومن بن گئے اور برے کاموں سے توبہ کر لی تو وہ کامیاب ہو گئے اور جنہوں نے برے کام جاری رکھے، وہ خسارے میں ہیں۔

سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد یہود دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے، ایک گروہ شمال کی طرف چلا گیا جس کا مرکز سامرا، نابلس تھا، اور وہاں آباد ہو گئے۔ اور دوسرا گروہ جنوب کی طرف چلا گیا جہاں یروشلم ہے، اور وہاں آباد ہو گیا۔ اور ان میں سے بھی وہ بارہ یا اس سے بھی زیادہ قبائل یا گرہوں میں تقسیم ہو کر تتر بتر ہو گئے، اور ایسے گم ہوئے کہ یہود کے ان گمشدہ قبائل کا آج بھی سراغ نہیں ملتا۔ پھر یہ دونوں گروہ دو صدیوں تک آپس میں لڑتے رہے یہاں تکہ کہ شہنشاہ سارگون (Sargon) نے انہیں مغلوب کر لیا اور حکم دیا کہ تمام یہودیوں کو اس علاقے سے نکال دیا جائے۔

پھر رومی شہنشاہ ہیدرین (Hadrian) نے ۱۲۵ء میں یہودیوں پر حملہ کیا، پانچ لاکھ یہودی قتل کر دیے گئے، پچاس ہزار زندہ گرفتار کر لیے گئے اور یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔

اس کے بعد ۱۳۵ء میں پھر یہودیوں نے برکوخبا کی قیادت اور رہنمائی میں بغاوت کرتے ہوئے حملہ کر دیا، لیکن ناکام ہو گئے۔ تب اس حملے میں پانچ لاکھ ۸۰ ہزار یہودی مارے گئے اور باقی گرفتار ہو گئے۔

امریکہ اور ویتنام کی جنگ میں ۵۸ ہزار دو سو بیس امریکی جن میں اکثریت یہودیوں کی تھی مارے گئے، اسی طرح ہٹلر کی طرف سے ۶۰ لاکھ یہودی مارے گئے اور ہٹلر نے کہا کہ میں سارے یہودی بھی مار سکتا تھا تاکہ زمین کو اس مفسد قوم سے نجات مل جائے، لیکن کچھ میں نے اس لیے زندہ چھوڑ دیے تاکہ دنیا والے انہیں پہچان سکیں کہ یہودی کس قسم کے لوگ ہیں، اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہٹلر ظالم تھا اور اس نے ظلم کیا۔ فلسطین کی جنگ میں اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق ۱۹۴۸ء سے ۲۰۱۰ء تک ۲۷ ہزار ۹۳ یہودی فوجی مارے گئے  اور ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہوئے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

 

جاری ہے…!