پیارا فلسطین | تیرہویں قسط

برطانیہ کا دھوکہ

برطانیہ نے یہودیوں کے ساتھ پس پردہ خفیہ معاہدہ کر کے ان سے بظاہر اعلانِ جنگ کر دیا لیکن دوسری طرف بہت کم مزاحمت کے بعد فلسطین سے دستبردار ہو گیا اور اپنا بہت سا فوجی ساز و سامان یہودیوں کے قبضے میں چھوڑ دیا۔

برطانیہ کے فلسطین سے انخلا کے بعد فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جب برطانیہ نے یہودیوں کی پیش رفت دیکھی تو ۱۹۴۸ء میں فلسطین کو تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا، برطانیہ نے قرارداد نمبر ۱۸۱ کے عنوان کے تحت یہ منصوبہ اقوام متحدہ میں پیش کیا۔ اقوام متحدہ نے بھی اپنے غیر معمولی اجلاس میں برطانیہ کی جانب سے پیش کیے گئے اس منصوبے کی تائید کر دی، جس میں فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا تھا، عربی فلسطین اور یہودی فلسطین۔

فیصلہ یہ ہوا کہ بیت المقدس کی نگرانی اور کنٹرول اقوام متحدہ کے پاس ہو گا۔ اقوام متحدہ کے اس فیصلے کی امریکہ اور سوویت یونین نے تائید کی، اس وقت تک یہودی صرف چھ عشاریہ پانچ فیصد فلسطین پر قابض تھے، لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں یہودی چھپن عشاریہ پانچ (56.6) فیصد فلسطین پر قابض ہو جاتے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین کی تقسیم کو رد کر دیا گیا، تب اقوام متحدہ نے یہودیوں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کیا اور فلسطین کو ایک بڑی مصیبت میں مبتلا کر دیا۔ فلسطینی جانتے تھے کہ کفر کے ساتھ افہام و تفہیم کا کوئی فائدہ نہیں، لیکن پھر بھی اس موقع کے حصول کے لیے وہ اپنے پڑوسی بھائیوں کے منتظر تھے، لیکن کسی نے ان کے ساتھ تعاون کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ ۱۹۴۷ء کے آخر تک فلسطین کفر کے مقابلے میں تنہا رہا، لیکن جب اقوام متحدہ نے یہودیوں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کر دیا، تو عربوں نے بھی فلسطین کے دفاع کے لیے ایک اتحاد کا اعلان کر دیا، جس کے بعد عرب ممالک نے اس اتحاد کے تحت بڑے پیمانے پر یہودیوں کے خلاف جنگ شروع کر دی، یہ جنگ جو ۱۹۴۸ء میں فلسطین کی حمایت میں عرب ممالک نے یہودیوں کے خلاف لڑی اس میں  نہ صرف عرب ممالک پوری دنیا میں شرمسار ہوئے بلکہ فلسطین کی مبارک سرزمین بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی۔