پیارا فلسطین | بارہویں قسط

وائٹ پیپر اعلامیہ (White Paper)

عربوں اور یہودیوں کے درمیان خونریز جھڑپوں کے بعد ۱۹۳۹ء میں برطانیہ نے ایک پالیسی پیپر جاری کیا جسے فلسطین پالیسی اعلامیہ(Palestine Statement of Policy)  یا ۱۹۳۹ء کا وائٹ پیپر (White Paper of 1939) کہا جاتا ہے۔ اس میں اعلان کیا گیا کہ:

  • فلسطین میں یہودیوں کی ہجرت پانچ سال کے لیے بند ہو گی،
  • دس سال کے لیے فلسطین آزاد رہے گا۔

اگرچہ ایک طرف وائٹ پیپر نامی یہ اعلامیہ بظاہر مسلمانوں کے حق میں تھا، لیکن یہودیوں کی جانب سے اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہودیوں نے برطانیہ کی طاقت کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں پر ظلم کرنے اور برطانیہ کی طاقت کو اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ تب یہودیوں نے تین مسلح تحریکوں (ھاگانا(Haganah) ، ایرگون(Irgun) ، لیحی (Lehi)) کو فعال کرنے کا اعلان کیا۔ ان تینوں تنظیموں نے مختلف علاقوں میں یہودیوں کی مسلح فوج کی سربراہی کی۔ ان تینوں کے قائدین یہودیوں کے شیطان صفت رہنما تھے۔

  1. ھاگانا (Haganah) کا قائد اسحاق رابین (Yitzhak Rabin) جو ۱۹۹۲ء میں اسرائیل کا وزیر اعظم مقرر ہوا۔
  2. ارگون (Irgun) کا قائد مناحیم بیگن (Menachem Begin) جو ۱۹۷۷ء میں اسرائیل کا وزیر اعظم مقرر ہوا۔
  3. لیحی (Lehi) یا سٹرن گینگ (Stern Gang) کا قائد اسحاق شامیر (Yitzhak Shamir) جو ۱۹۸۳ء میں اسرائیل کا وزیر اعظم مقرر ہوا۔

ان تنظیموں کی سرگرمیاں اس وقت تک مخفی اور خفیہ تھیں۔

یہودیوں کے تمام منصوبے عملی جامہ پہنائے جانے کے لیے تیار تھے۔ یہودی منظم ہو چکے تھے، مسلمان اپنی طاقت کھو چکے تھے، یہودیوں کو پوری عالم کفر سے اضافی مدد مل رہی تھی، لیکن فلسطین نے جتنی بھی اپنے ارد گرد نظر ڈالی، عرب ممالک نے اس سے آنکھیں پھیر لیں۔ ان تینوں تنظیموں نے خونریز حملوں کا اعلان کر دیا، پہلے تو برطانیہ نے بظاہر یہودیوں کی طرف سے ہونے والے مسلمانوں پر مظالم کی مذمت کی، لیکن خفیہ طور پر یہودیوں کے مورچوں میں کارتوس فراہم کیے۔ ایک طرف یہودیوں کے عسکری وسائل اور جنگی عملہ بڑھتا جا رہا تھا تو دوسری طرف فلسطین کے باسی اپنی ٹوٹی پھوٹی اور پرانی بندوقوں کو نکالنے میں بھی احتیاط برت رہے تھے کیونکہ ہر عرب گھر پر برطانیہ کا پہرہ تھا۔

 

جاری ہے…!