پیارا فلسطین | گیارہویں قسط

عز الدین القسام کی شہادت

۱۹۲۴ء سے ۱۹۳۱ء کے درمیانی عرصے میں روس اور جرمنی سے ۷۸ ہزار یہودی مہاجرین کے قافلے فلسطین کی سرزمین میں داخل ہوئے، جس کے نتیجے میں یہودی آبادی ۱۷ فیصد تک پہنچ گئی۔ مسلمانوں کے مسلسل اعتراضات یہودیوں کی ہجرت کے آگے بند نہ باندھ سکے۔ وہ عرب ممالک جو فلسطین کے گرد و نواح میں تھے، انہوں نے سوائے چند بے جان باتوں کے کوئی ردّ عمل ظاہر نہیں کیا۔ اس ساری سیاسی پیش رفت کے باوجود فلسطین کے عرب باشندے اب بھی اس فتنے سے نجات کے لیے کوشاں تھے، لیکن یہودیوں نے عربوں کو ہر طرف سے آ لیا، انہیں خفیہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور تباہ کر کے رکھ دیا۔ القدس کی مقدس دیوارِ براق کے پیچھے جو خونریز تصادم ہوا، اس کے نتیجے میں ۱۱۶ عرب مسلمان شہید ہوئے اور ۱۳۳ یہودی مارے گئے۔ اس جنگ کے بعد ۱۹۳۳ء میں القدس میں بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ان مظاہروں کے دو سال بعد عز الدین قسام برطانیہ کے خلاف یباد کی جنگ میں شہادت کے اعلیٰ مقام کو پا گئے۔ نحسبه کذالک والله حسیبه

یہ تصویر فلسطینی غازی عز الدین بن عبد القادر بن مصطفی بن یوسف بن محمد بن القسام کی ہے جنہیں نومبر ۱۹۳۵ء میں برطانوی حملہ آوروں نے جلیل (گلیل) کے پہاڑوں میں شہید کر دیا۔

نوٹ: القسام اب فلسطینی مزاحمتی تحریک (حماس) کی سپیشل فورس کا نام بھی ہے۔

غازی القسام کی شہادت کے بعد ۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۹ء کے درمیان دو لاکھ پچیس ہزار مزید یہودی فلسطین میں داخل ہوئے، جس سے یہودی آبادی کا تناسب ۳۰ فیصد تک پہنچ گیا۔

یہودی آبادی میں اضافے کی وجہ سے فلسطینیوں نے ایک پر امن انقلاب کے دوران تین مطالبات کا اعلان کیا۔

  1. فلسطین میں مزید یہودی داخل مت ہوں اور ان کے داخلے پر پابندی لگا دی جائے۔
  2. فلسطین کی سرزمین فلسطینیوں کی ملکیت ہے، یہودیوں کو اس میں تصرف کا کوئی حق نہیں۔
  3. فلسطین میں فلسطینیوں کی قومی حکومت قائم کی جانی چاہیے۔

اس انقلاب کے دوران برطانیہ نے لارڈ پیل (Lord Peel) کی سربراہی میں فلسطین شاہی کمیشن (Palestine Royal Comission) کا اعلان کیا جسے بعد میں پیل کمیشن (Peel Comission) کا نام دیا گیا۔ اس کمیشن نے اعلامیہ جاری کیا کہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے، عرب ریاست اور یہودی ریاست۔ القدس کو برطانیہ کے زیر تسلط رہنے دیا جائے۔ مسلمانوں نے اس معاہدے کی شدید مخالفت کی۔ اس دوران یہودیوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملے کیے گئے۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے خلاف زمینوں پر قبضے کے لیے جنگ کا اعلان کر دیا اور اس میں برطانیہ نے ان کی پوری حمایت کی، جبکہ اس کے برعکس فلسطینیوں کو مسلح جدوجہد کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں سخت فوجی نگرانی میں لے لیا گیا۔

(کفر سے یہی امید کی جا سکتی ہے اور مسلمانوں کی خوابِ غفلت کا نتیجہ بھی یہی ہے۔)

اس جنگ کے اختتام پر یہودیوں نے لاکھوں عربوں کو بہت سے علاقوں سے بے دخل کر دیا جس کے نتیجے میں یہودی قبضے کا گراف ۳ فیصد سے بڑھ کر ۵۔۵ فیصد تک بڑھ گیا۔

ابتدائی اعلامیہ کے مطابق فلسطین کی ۳۳ فیصد زمین یہودی تسلط میں جانی تھی جسے بعد میں فلسطینیوں کی جانب سے رد کر دیا گیا۔ لیکن یہودیوں نے برطانیہ کے تعاون سے اس اعلامیہ پر عمل درآمد کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔

 

جاری ہے…!