پیارا فلسطین | دسویں قسط

عزیز الدین مصنف

بالفور ڈکلیریشن (Balfour Declaration)

یہ یہودیوں کے لیے ایک تاریخی ڈکلیریشن تھی جو ۲ نومبر ۱۹۱۷ء کو برطانوی سیکریٹری خارجہ آرتھر بالفور (Arthur Balfour) کی جانب سے برطانوی کابینہ کی نمائندگی کرتے ہوئے برطانیہ میں یہودی برادری کے رہنما والٹر روتھ چائلڈ (Walter Rothschild) کو ایک کھلے خط کی شکل میں لکھی گئی۔ اس ڈکلیریشن سے قبل برطانیہ نے یہودیوں سے خفیہ وعدے کر رکھے تھے کہ یہودیوں کے لیے ایک نئی اور خود مختار ریاست تشکیل دی جائے گی، فلسطینیوں کو دبانے کے لیے یہودیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا، یہودیوں کی فلسطین ہجرت کے لیے راہ ہموار کی جائے گی اور فلسطینیوں سے فلسطینی اراضی کی ملکیت حاصل کرنے میں یہودیوں کی بھرپور مدد و حمایت کی جائے گی۔

برطانیہ کے اس ڈکلیریشن کی تائید امریکہ نے بھی کر دی، جس کے نتیجے میں فلسطین کو طوفانی سمندر کی وحشی لہروں کے حوالے کر دیا گیا۔ فلسطین پر برطانوی تسلط کے بعد یہ مبارک سرزمین یہودیوں کے مذموم مقاصد کا شکار ہو گئی، یہودیوں نے اپنے مذموم اہداف برطانوی جرنیلوں کے ذمے لگائے جنہوں نے بندوق و تلوار کے زور پر فلسطین کی سرزمین پر انہیں عملی جامہ پہنایا۔ اسی اتھل پتھل کے دوران ۱۹۱۹ء سے ۱۹۲۳ء کے درمیانی عرصے میں پینتیس ہزار (۳۵،۰۰۰) مزید یہودی فلسطینی سرزمین میں داخل ہوئے، جس سے یہودی آبادی کا تناسب ۱۲ فیصد تک بڑھ گیا۔ لیکن اس وقت تک یہودیوں کے قبضے میں فلسطین کی صرف تین فیصد اراضی تھی۔ یہودیوں کی آبادی میں جب روز بروز اضافہ ہونے لگا تو برطانیہ نے اس موقع اور حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطین میں مختلف اراضیوں کی ملکیتیں بدلنا شروع کر دیں۔

  1. وہ علاقے جو پہلے سے یہودیوں کی ملکیت تھے، وہ یہودیوں کے قبضے میں ہی رہنے دیے، اور وہ یہودی جن کے پاس ان علاقوں میں اراضی نہیں تھی انہیں مسلمان آبادی کے علاقوں میں لایا گیا اور وہاں ان کے لیے کیمپ بنائے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی زرعی زمینیں بھی یہودیوں میں تقسیم کی گئیں۔
  2. باقی حصہ مسلمانوں کے پاس تھا، لیکن جب نئے یہودی پناہ گزین آئے تو برطانیہ نے انہیں مسلمانوں کے درمیان مدغم کر دیا۔

وہ علاقے جہاں مسلمان نسلوں سے آباد تھے، انہیں یہودیوں میں تقسیم کر دیا گیا، صرف یہی نہیں بلکہ برطانیہ نے مسلمانوں کو دبانے کے لیے یہودیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ یہودی جہاں جانا چاہتے پوری آزادی کے ساتھ وہاں کا سفر کر سکتے تھے، انہیں تمام ضروریات زندگی فراہم کی جا رہی تھیں۔ اور یہیں سے فلسطین کی تقسیم اور قبضے کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے تھے۔

یہودیوں کے بڑھنے سے فلسطینیوں کو سخت معاشرتی، معاشی اور سیاسی مشکلات پیش آئیں۔ اس پر فلسطینیوں نے ۷ بڑے شہروں میں بالفور ڈکلیریشن کے خلاف کانفرنسز منعقد کیں۔ ایک طرف تو برطانیہ بظاہر ایسے احتجاج میں مداخلت نہیں کر رہا تھا، لیکن دوسری طرف اس نے مسلمانوں کی سیاسی طاقت غصب کر لی تھی اور مسلمانوں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی۔

پہلی کانفرنس ۱۹۱۹ء میں القدس میں منعقد ہوئی، اور وہاں سے مسلمانوں کی سیاسی تحریکات کا آغاز ہوا۔ لیکن اب اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ پانی سر سے گزر چکا تھا، مسلمان اب تک سو رہے تھے اور کفار کے مذموم مقاصد سے بے خبر تھے۔ انہوں نے برسوں آرام و سکون کی زندگی گزاری تھی، پورا زور و شور تلواروں کی بجائے، موسیقی، فلسفہ اور دیگر لا یعنی کاموں کی طرف تھا۔ جہاد کے نظریے کی جگہ کفار کے جھوٹے انسانیت پرست نظریے پر سر دھنتے تھے۔ لیکن جب ایمان جوش مارتا ہے تو راکھ میں دبی چنگاری پھر سے بھڑک اٹھتی ہے۔ فلسطینیوں نے یہودیوں کے ساتھ تعاون میں برطانوی راج کی طاقت دیکھی تو انہوں نے تلوار کے علاوہ کسی اور مصلحت کا انتخاب نہیں کیا۔ تب فلسطین کے شہر یافا میں یہودیوں کے ساتھ سخت خونریز جنگ ہوئی، اس کے ساتھ نابلس میں ایک بڑی کانفرنس کے دوران لیگ آف نیشنز (League of Nations)(اقوام متحدہ کی ابتدائی شکل) سے یہودیوں پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔ لیگ آف نیشنز کی جانب سے تو کوئی ردّ عمل ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن خود فلسطینیوں نے ہی ایکشن لے لیا۔ اس عظیم سانحہ کے خاتمے کی خاطر ۱۹۲۲ء میں القدس میں اسلامی سپریم کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے سربراہ  مفتی اعظم الحاج امین الحسینی منتخب کیے گئے۔

یہودی بھی آرام سے نہیں بیٹھے تھے بلکہ وہ مسلمانوں کی ہر سیاسی سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے تھے ، مسلمانوں کی اس کونسل کے قیام کے ساتھ ہی یہودیوں نے اپنی سیاسی تنظیم ہگانہ (Haganah) کے وجود کا اعلان کر دیا۔ یہ تنظیم برطانیہ کے خفیہ تعاون سے یہودیوں کی پہلی ہجرت سے لے کر اب تک ساری صورتحال کی قیادت کر رہی تھی۔ اگرچہ لیگ آف نیشنز کی طرف سے ہگانہ دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں کے غیر قانونی ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن پھر بھی یہودیوں کے فائدے کے لیے برطانیہ کے توسط سے خفیہ تعاون کیا جا رہا تھا۔ برطانیہ نے یہودیوں کے ساتھ ایک اور معاملے میں بھی تعاون کیا اور وہ یہ کہ کسی بھی مسلمان کو اپنے گھر میں اسلحہ رکھنے پر پابندی عائد کر دی اور اس طرح انہیں ہر طرف سے سخت گرفت میں لے لیا گیا۔ ایک طرف سے سیاسی پابندیاں، دوسری طرف سے عسکری قوت غصب جبکہ تیسری جانب یہودیوں کی شیطانی سرگرمیاں، یہ سب وہ چیزیں تھیں جو فلسطین پر قبضے کے لیے زمین ہموار کر رہی تھیں۔