پینٹاگان کے اسلام کے نام لیوا بیٹے کو اس کے آقا نے کیوں قتل کیا؟

محمد صادق طارق

اپنی مختصر تحاریر میں، میں نے ہمیشہ امریکہ کی طرف سے داعش کی تخلیق کے موضوع کا تجزیہ کرنے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ داعش ایک انٹیلی جنس پراجیکیٹ ہے، لیکن اس معاملے میں اگر ایک سوال کا جواب نہ دیا گیا تو میری ساری کوششیں رائیگاں جائیں گی اور وہ یہ کہ داعش کو امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک نے کھڑا کیا، تو پھر اس کے سربراہ ابو بکر بغدادی کو امریکہ نے کیوں قتل کیا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ایک طرف ان کی مدد کرے اور دوسری طرف ان کی بربادی اور مصائب کا باعث بنے؟ اس تحریر میں مذکورہ بالا سوال کے جواب سے پہلے یہ ذکر کر دوں کہ ابوبکر بغدادی کیسے قتل ہوا؟

ابوبکر بغدادی کی موت ۲۶ اکتوبر ۲۰۱۹ء کے آپریشن کیلا میولر (Operation Kayla Mueller) میں ہونے کی رسمی طور پر تصدیق ہوئی۔ یہ آپریشن شام میں ادلب کے علاقے باریشا میں ہوا اس لیے اسے باریشا حملے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ آپریشن جس میں داعش کا اس وقت کا کمانڈر ابوبکر بغدادی مارا گیا، امریکہ کے صدر ڈانلڈ ٹرمپ اور سینٹ کام (CENTCOM) کے کمانڈر کینتھ مکینزی جونئیر (Keneth McKenzie Jr.) کی نگرانی اور کمانڈ میں امریکی افواج نے انجام دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس آپریشن میں عراق، ترکی اور شام کے کردوں نے بھی تعاون کیا۔

مذکورہ آپریشن کے بعد اعلان کیا گیا کہ نام نہاد خلیفہ اور پینٹاگان کا مسلمان کہلانے والا بیٹا ابوبکر بغدادی جس نے وائٹ ہاؤس میں جمہوریت کی گود میں پرورش پائی، اپنے حامیوں کے ہاتھوں ادلب شہر میں مارا گیا۔

اب ہمیں اس سوال کا جواب دینا ہے جو بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں الجھن پیدا کر رہا ہے اور اسے داعشی گروہ کی مشروعیت کا ثبوت بھی سمجھا جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ بدنامِ زمانہ ادارہ سی آئی اے (CIA) کیسے ایک قیدی کو ایک بڑے دہشت گرد شیطان میں تبدیل کر پایا؟ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف بغدادی ہی نہیں بلکہ داعش کے کئی اہم رہنما عراق میں امریکہ کی زیر نگرانی جیل ’’بوکا‘‘ میں قید تھے جنہوں نے رہائی کے بعد دو ارب ڈالر کی جنگی مشین تشکیل دی۔۔ کہا جاتا ہے کہ ابوبکر بغدادی اس کا نائب ابو مسلم ترکمانی، حجی بکر اور ابو قاسم جو داعش کے فوجی کمانڈر تھے، شام میں اتفاقاً ایک دوسرے سے نہیں ملے تھے بلکہ بوکا جیل میں ان کا ایک دوسرے سے تعارف ہوا تھا۔

بوکا کو عراق میں سب سے منظم جیلوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ’’ابو غریب‘‘ کے زیادہ تر قیدیوں کو بھیجا جاتا تھا اور اب تک داعش کے ۹ جنگی کمانڈر اس زندان میں وقت گزار چکے ہیں۔ اس سے براہ راست بوکا جیل میں امریکہ کی طرف سے ابو بکر بغدادی، اور اس کے نائب اور دو سینئر فوجی کمانڈروں کے ساتھ معاہدے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بغدادی کی ہلاکت کی خبر عین اس وقت سامنے آئی جب بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی امریکی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ اس کے علاوہ بغدادی  کے پاس عالمی برادری اور خاص طور پر شامی عوام کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رہی تھی۔ اس لیے امریکہ مجبور ہوا کہ اسے ہٹائے اور اس کا کوئی بہتر متبادل اس کی جگہ بٹھا دے۔

دوسری طرف چونکہ بغدادی نے اپنی سربراہی کا زیادہ تر وقت عراق، شام، لیبیا، یمن، ایران، افغانستان اور دیگر ملکوں میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل اور دیگر انسانیت دشمن کام کرنے میں گزارا، بڑے بڑے شہروں کو ملیا میٹ کر ڈالا، دنیا کے بہت سے علاقے خاک اور راکھ میں تبدیل ہو گئے اور وہاں خون کی ندیاں بہہ گئیں، اس لیے اب مزید اس کے وجود کی ضرورت باقی نہیں بچی تھی اور اسے اب منظر سے ہٹانے کی ضرورت تھی۔

ابتدائی ایام میں بغدادی کو سورج کی حدت سے دور ایک نرم اور معتدل جگہ پر رکھا گیا، تاکہ قتل و غارت گری، دہشت ، ظلم، جبر اور بربریت کی ایک ظالمانہ بنیاد رکھی جا سکے۔ موجودہ وقت میں جب ان خطوط پر اس کا استعمال ہوا اور دیگر میں بھی اس طرح کے کام کرنے کی اہلیت دیکھی گئی تو اس بات پر اتفاق ہوا کہ کام لینے کے بعد اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔

سیاسی ماہرین جنہوں نے داعش کے سربراہ کے قتل کے پیچھے محرکات کی تحقیق کی ہے، ان کا ماننا ہے کہ ایک طرف تو اس واقعہ سے داعش کے سربراہ کی سیاسی اور عسکری فرسودگی کا خاتمہ ہوا لیکن دوسری طرف امریکہ کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شام میں امریکی مداخلت اور مشرق وسطیٰ میں امریکی سلطنت کی بنیادیں کمزور ہوئیں، لیکن پھر بھی بین الاقوامی سطح پر داعش کا معاملہ اس کا باعث بنا کہ شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ڈرامے میں اپنے پیارے بیٹے (بغدادی) کی قربانی دے کر امریکہ دنیا اور امریکی عوام کو اپنی وسیع جدوجہد کا کارنامہ دکھا پایا۔

نیز چونکہ امریکہ کو داعش کے سربراہ کی گرفتاری اور اس فتنہ پرور گروہ کے پاس چھپے رازوں کے افشاء ہونے کا خطرہ بھی تھا، اس لیے اسے کسی نہ کسی طرح بغدادی کو ختم کرنے کی ضرورت تھی۔ عراقی پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاع کی کمیٹی کے سابق سربراہ حاکم الزاملی نے اس موضوع کا ذکر کرتے ہوئے کہا: امریکی افواج نے ابوبکر بغدادی کو اس لیے ہلاک کیا کیونکہ وہ اس کی گرفتاری اور اپنے رازوں کے افشاء ہونے سے خوفزدہ تھے۔

اس نے مزید کہا: ’’یہ وہ مشہور طریقے اور صفحات ہیں جنہیں امریکی انٹیلی جنس ادارے استعمال کرتے ہیں پھر ان صفحات کو جلا کر اور قتل و غارت گری سے ختم کر دیتے ہیں۔

پینٹاگان کے فوجیوں کے ہاتھوں داعش کے کمانڈر کی ہلاکت میں استعماری پروگراموں کے حامیوں، پراکسی جنگ کے ایجنٹوں اور عاملین، اور ان انٹیلی جنس اداروں کے لیے عبرت ہے جو امریکہ سے مربوط ہیں اور اس کے قریبی ہیں کہ وہ اس سے سبق حاصل کریں اور امریکہ کے ہاتھوں میں کھلونا نہ بنیں۔