فلسطین سے داعش کی ہمدردی؟

انجینئر عمیر

داعش کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اسلامی خلافت کے مطالبے اور مسلمانوں سے ہمدردی کا ڈھونگ کس حد تک رچاتے ہیں۔
بلاشبہ ان کے حوالے سے معلومات اور تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انہوں نے مختصر عرصے میں مسلمانوں کو وہ نقصان پہنچایا جو کفار بالخصوص یہود اور اہل مغرب کئی صدیوں تک نہیں پہنچا پائے۔
داعش نے جب القاعدہ کے مجاہدین سے علیحدگی اختیار کی تو اس نے دشمنانِ اسلام سے جنگ کرنے کی بجائے، اپنے حملوں کا اوّلین ہدف مجاہدینِ القاعدہ کو بنایا۔ اس نے مجاہدین کو اس قدر جانی و مالی نقصان پہنچایا کہ مغرب بالخصوص امریکہ سالوں تک مجاہدین کو نہ پہنچا سکا تھا۔ القاعدہ کے وہ قائدین جو امریکیوں کو شدید مطلوب تھے، انہوں نے ان کی شناخت ظاہر کر دی، کچھ کو خود شہید کر دیا، اور کچھ کو امریکی انٹیلی جنس کے ہاتھوں شہید یا گرفتار کروایا۔
اس کے بعد اُن تمام جہادی گروپوں اور جماعتوں کو کسی نہ کسی طرح بدنام کرنا شروع کیا جو ان کے نظریات سے موافقت نہیں رکھتی تھیں۔ ان پر کفر و ارتداد کے لیبل لگائے، اور ان کے خلاف جنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں بہت سی جہادی تنظیمیں شکست و ریخت کا شکار ہونا شروع ہو گئیں، کچھ کمزور ہو گئیں اور کچھ کی کاروائیاں بالکل بند ہو گئیں۔
وہ چیز جو امریکی ہزاروں جنگجوؤں کو مارنے سے حاصل نہ کر سکے، داعش کی مدد سے بہت آسانی سے حاصل کر گئے اور اب بھی اس کوشش میں ہیں۔
ان جہادی تنظیموں میں ایک حماس بھی تھی، جب فلسطینی بالخصوص حماس یہودیوں کے خلاف کھڑی ہوئی ، تو انہوں نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو پکارا کیونکہ یہ پوری امت کے ایمان و غیرت کا مسئلہ تھا، داعش نے فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے کی بجائے، حماس کو ایک مرتد گروہ قرار دیا اور حماس کے خلاف رپورٹس اور بیانات نشر کیے جس کا مسلمانوں کی طرف سے شدید ردّعمل آیا اور داعش کا چہرہ مزید واضح ہو گیا۔ داعش نے اپنی ہزیمت چھپانے کی خاطر کئی حربے آزمائے، جن میں سے ایک چند روز قبل نشر کی گئی رپورٹ بھی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہم نے فلسطینی مسلمان بھائیوں کا بدلہ لینے کے لیے مالی فوج پر میزائل داغے۔
اس سے مجھے ایک قصہ یاد آگیا کہ ایک بچے کو بازار میں کسی نے پیٹا، وہ روتا دھوتا گھر پہنچا اور اپنے باپ کو اپنی لاچارگی کا واقعہ سنایا، اس کے باپ کو سخت غصہ آیا اور بازار روانہ ہو گیا، بازار پہنچنے کے بعد اپنے بیٹے سے پوچھا کہ تمہیں کس نے پیٹا تھا؟ تم اس کی طرف اشارہ کرو تاکہ میں اس کا کچھ کروں۔ بیٹے نے قصائی کی طرف اشارہ کیا، اس شخص نے جب قصائی کے ہاتھ میں اتنی بڑی چھری دیکھی تو اپنے بیٹے کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور کہا کہ احمق یہ تو ماموں ہیں، اگر تم چاہو تو میں اس آلو کو یہاں گرا دیتا ہوں۔
داعش بھی اپنے ماموں پر ہاتھ نہیں اٹھاتی اور آلو والوں (مالی) کے خلاف میزائل داغتی ہے۔
مساجد اور خانقاہوں کو تباہ کرتے ہیں، اور بیانات ایسے دیتے ہیں جیسے یہود سے فلسطینیوں کا بدلہ لیا ہو۔
جب عقل جواب دے جائے تو انسان سمجھتا ہے کہ جیسے سب لوگ میرے ہی جیسے ہیں، حالانکہ آج مسلمانوں کی اکثریت سمجھ سکتی ہے کہ داعش کس چیز کا نام ہے اور کس چیز کی خاطر کام کرتی ہے…