فلسطین اور یہودی: شرعی نصوص اور پیشین گوئیوں کی روشنی میں

مولوی محمد شعیب باجوڑی

مسئلہ فلسطین صرف فلسطینی یا عرب مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ ویسے بھی ہمارا اور تمام مسلمانوں کا یہ دینی عقیدہ اور نظریہ ہے کہ پورا عالمِ اسلام ایک دار اور وطن ہے اور تمام مسلمان بھائی بھائی اور ایک امت ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ

ترجمہ: بے شک مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ

ترجمہ: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔

اس اسلامی وطن اور دار کے جس بھی حصے پر قبضہ ہو جائے، تو امت مسلمہ کے تمام فقہی مذاہب کے نزدیک الاقرب فالاقرب کی بنیاد پر پوری امت پر اس مقبوضہ سرزمین کو آزاد کرنے کے لیے جہاد فرض عین ہو جاتا ہے، اور فلسطین، وہ تو عالمِ اسلام میں ایک خاص مقام کا حامل ہے۔

اکثر انبیاء کرام علیہم السلام اس مبارک سرزمین کی طرف بھیجے گئے ہیں یا اس مبارک سرزمین کی طرف انہوں نے ہجرت کی ہے، اسی وجہ سے اسے انبیاء کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔

اسی طرح فلسطین کے مشہور شہر "القدس” (جو اب عملی طور پر یہودیوں کے قبضے میں ہے) میں مسجد اقصی واقع ہے، جو مسلمانوں کا قبلہ اول تھا اور جو مسلمانوں کے نزدیک مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

عَنْ الْبَرَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی إِلَی بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَکَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَکُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ

ترجمہ: حضرت براء بن عازب (رض) روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت فرمانے کے بعد مدینہ میں ۱۶ یا ۱۷ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی مگر کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا خیال دل میں بسا ہوا تھا،

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَی ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَی

ترجمہ: (عبادت کی نیت سے) رخت سفر نہ باندھا جائے مگر تین مسجدوں کیلئے:

  1. مسجد حرام
  2. مسجد نبوی
  3. مسجد اقصیٰ

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ بِخَمْسِ مِائَةِ صَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ

ترجمہ: مرد کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز کے برابر ہے اور محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کے برابر اور جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازوں کے برابر ہے اور مسجد اقصٰی میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ الأَقْصَى إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ أَوْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ۔

ترجمہ: جو شخص حج یا عمرہ کے لیے مسجد اقصیٰ (ہی سے احرام باندھ کر چلے) تو اس کے وہ تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے ہوں گے اور جو بعد میں کرے گا یا فرمایا کہ اس شخص کے لیے ابتداء ہی میں جنت واجب ہوجائے گی (یعنی وہ شروع ہی میں جنت میں داخل ہوگا۔

مسجد اقصیٰ زمین پر مسجد حرام کے بعد تعمیر ہونے والی دوسری مسجد تھی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بقول راوی:

سمعت أبا ذر يقول سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أول مسجدٍ وضع في الأرض قال المسجد الحرام قلت ثم إي قال المسجد الأقصى قلت كم بينهما قال أربعون عاماً ثم الأرض لك مسجد فحيثما أدركتك الصلاة فصل۔

ترجمہ: میں نے حضرت ابوذر (رض) سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا زمین میں سب سے پہلی کونسی مسجد بنائی گئی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسجد حرام، میں نے عرض کیا پھر کونسی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسجد اقصی، میں نے عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چالیس سال کا، پھر ساری زمین تیرے لیے مسجد ہے جہاں تو نماز کا وقت پائے تو نماز پڑھ لے۔

خاتم الرسول جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ نے معراج کے لیے بلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے جایا گیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی، اور پھر مسجد اقصیٰ سے آسمان پر اٹھا لیے گئے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:

سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا  ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ

ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ ہر بات سننے والی، ہر چیز دیکھنے والی ذات ہے۔

سرزمین فلسطین کو ایک یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اس میں القدس شہر واقع ہے جسے تمام آسمانی مذاہب میں ایک خاص مقام دیا گیا ہے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے القدس شہر سے ساری دنیا پر حکومت کی۔ فلسطین کی مبارک سرزمین پر اسلام اور کفر کے مابین ایک تاریخی معرکہ ہوگا، جس میں کفر و باطل کی قیادت دجال کر رہا ہو گا جبکہ اسلام اور حق کی قیادت عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ رضوان کر رہے ہوں گے اور اس معرکے میں یہود کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

یہود یا بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں اور وہ ایک ایسی قوم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک زمانے میں بڑا مقام اور فضیلت عطا فرمائی تھی، ان میں انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے، ان میں کوئی بادشاہ پیدا ہوئے جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے:

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ۔

ترجمہ: اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم کو عطا کی تھی اور یہ بات (یاد کرو) کہ میں نے تم کو سارے جہانوں پر فضیلت دی تھی

سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔

(وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا وَآَتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ)

ترجمہ: اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اے میری قوم ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے کہ اس نے تم میں نبی پیدا کیے، تمہیں حکمران بنایا، اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو تم سے پہلے دنیا جہان کے کسی فرد کو عطا نہیں کیا تھا۔

لیکن بنی اسرائیل ایک نافرمان، ناشکری اور گستاخ قوم تھی جو قدم قدم پر انبیاء کو اذیت دیا کرتے تھے، ان کی نافرمانی کرتے تھے، حتیٰ کہ انہیں شہید بھی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم خصوصا سورۃ البقرہ میں یہودیوں کی زوال کے متعدد اسباب بیان کیے ہیں، جن کی وجہ سے اللہ عزوجل نے انہیں رسوا کیا۔

وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآَيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ۔

ترجمہ: اور ان (یہودیوں) پر ذلت اور بیکسی کی مہر لگا دی گئی، اور وہ اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر لوٹے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کردیتے تھے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ بےحد زیادتیاں کرتے تھے۔

ذلت و رسوائی کی اس مہر کی وجہ سے (جو ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان پر لگ گئی) انہیں وقتاً فوقتاً معاشرتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، وہ اپنے وطن سے بے دخل ہو گئے اور دنیا کی اقوام میں ذلیل و خوار ہوئے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے انہیں موقع دیا تو انہوں نے پھر سے شر و فساد شروع کر دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ.

ترجمہ: جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے یہ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا۔

ترجمہ: اور ہم نے کتاب میں فیصلہ کر کے بنی اسرائیل کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤ گے، اور بڑی سرکشی کا مظاہرہ کرو گے۔

جب یہودیوں کو ان کے برے اعمال اور بد کرداری کی سزا کے طور پر پوری دنیا میں خوار اور دربدر کر دیا گیا (اور اب تک کسی نہ کسی درجے میں اسی حالت کا سامنا کر رہے ہیں) اور پوری دنیا میں ان کا کوئی مرکز نہیں رہا اور نہ ہی ان کی کوئی ریاست تھی تو انیسویں صدی کے اواخر میں صہیونیوں نے فلسطین کی مسلم سرزمین پر ایک خالص یہودی ریاست کے قیام کے لیے پوری دنیا سے یہودیوں کو جمع کرنے کی تحریک شروع کی، اور اسی مقصد کے حصول کے لیے سلطان عبدالحمید کے پاس جا کر سلطان سے اجازت لینے کی بھی کوشش کی، کیونکہ اس وقت فلسطین سلطنت عثمانیہ کے زیر اقتدار تھا، لیکن سلطان نے انہیں اس برے کام کو کرنے کی اجازت نہیں دی۔

۱۹۱۷ء میں ایک یہودی فلاحی ادارے کے سربراہ رتھچائلڈ کو اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ بالفور کا ایک خط موصول ہوا، جس میں اس نے فلسطین کی سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا تھا، ایسی ریاست جس میں صرف یہودیوں کو رہنے کا حق حاصل ہوگا۔

۱۹۲۰ء میں جب انگریزوں نے عثمانیوں سے فلسطین چھین کر قبضہ کر لیا تو یہودیوں نے فوری طور پر انگریزوں سے یہودی ریاست کے قیام کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ شروع کر دیا اور اسی وقت سے اس حوالے سے عملی کام کا آغاز ہو گیا۔ جب ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء کو فلسطین پر برطانوی قبضہ ختم ہوا تو اسی دن یہودیوں نے اسرائیل کے نام سے یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا، اور اس بابرکت سرزمین کے لیے اہل حق اور باطل کے درمیان جنگ مسلح مرحلے میں داخل ہوگئی جہاں دنیا کی تمام بڑی کفریہ طاقتیں اور ممالک کھل کر یہودیوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے، اور عالم اسلام کو کفار نے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور ہر ٹکڑے میں ایک غلام طبقے کو بطور حاکم رکھ دیا۔ تاکہ انہیں ان کے ناجائز اور غیر شرعی اقتدار کی بقا کے لیے عالمی کفری طاقتوں اور یہودیوں کے مفاد کے لیے استعمال کیا جا سکے اور دوسری طرف پوری دنیا میں یہودی لابی اپنی طاقتور معیشت اور شیطانی دماغوں اور سازشوں کے ذریعے سے کوشش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک امت (امۃ واحدہ) کا عقیدہ اور نظریہ کمزور کر دیں اور مجموعی طور پر لوگوں کا اعتماد دین اور دینی مقدسات سے اٹھ جائے اور دین اور دینی مقدسات کے لیے غیرت کرنا ایک ثانوی اور نعوذ باللہ غیر ضروری بات سمجھ لی جائے، اور وہ اقدار اور روایات  لوگوں میں خاص طور پر عالم اسلام میں مقبول کر دی جائیں کہ جس کی وجہ سے کوئی بھی دریائے نیل سے فرات تک عظیم یہودی ریاست اسرائیل کے قیام کو روکنے کا تصور تک نہ کرسکے۔

دنیا میں یہودی لابی جتنی لادینیت، سیکولرازم، جمہوریت، قومیت اور وطنیت کے لیے کام کر رہی ہے اور ان کے لیے بعض جنگیں بھی برپا کرتی ہے، اس کا اصل مقصد عظیم یہودی ریاست اور مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مسلمان لکھاریوں اور مبلغین کو چاہیے کہ اس حساس موضوع کے بارے میں مسلمانوں میں بیداری پیدا کریں اور اس حساس اور پوری امت کی سطح کے مسئلے اور جہاد کے بارے میں مسلمان بات کریں اور اس مبارک جہاد کی اہمیت کے بارے میں مسلمان نوجوانوں میں آگاہی، سمجھ اور بیداری پیدا کریں، کیونکہ اس جنگ کی خاطر یہود ایک صدی سے تیاری کر رہے ہیں، دنیا کے بزدل ترین یہودیوں کو فلسطین جمع کیا گیا، فلسطینی مسلمانوں کی زمین اور گھروں پر بزور قبضہ کیا گیا اور اس کی جگہ دنیا کے مختلف علاقوں سے نئے آنے والے یہودیوں کے لیے گھر اور دیگر عمارتیں تعمیر کی گئیں اور ہر یہودی مرد اور عورت کے لیے عسکری تربیت لازمی کر دی گئی۔

مسلمان نوجوانوں کو چاہیے کہ اس مسئلے کے تمام پہلوؤں سے اچھی طرح آگاہی حاصل کریں، کیونکہ موجودہ دور میں کفر و اسلام کے مابین جاری معرکہ جو مختلف میادین میں جاری ہے، اس کا مرکزی نقطہ مسئلۂ فلسطین اور یہود کی ناجائز اور غاصب ریاست اسرائیل اور اس کا استحکام اور توسیع ہے۔  اور اس ناجائز ریاست کے استحکام اور توسیع کی کوشش اسلام اور کفر کے درمیان ایک عظیم عالمی جنگ کا سبب بنے گی، جس میں آخری فتح اسلام کے مجاہدین کی ہو گی اور اس معرکہ کے نتیجے میں اس فتنے کے ساتھ ان کی ناجائز اور غاصب ریاست بھی ختم ہو جائے گی۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے اور حالات اسی جانب تیزی سے جا رہے ہیں۔ اس معرکہ میں ایک طرف قیادت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کر رہے ہوں گے جبکہ دوسری طرف قیادت دجال کے پاس ہو گی۔ یہ عظیم اور تاریخی معرکہ اب مزید دور نہیں لگتا، اس عالمی اور عالمگیر فتنے کو شکست دینے کا واحد راستہ صرف جہاد ہے اور بس۔

و ما علينا إلا البلاغ