فلسطین میں مسلمانوں کے جنازے اور عالم عرب کی غفلت

محمد ابراہیم مخلص

فلسطین میں مسلمانوں کے جنازے اور عالمِ عرب کی غفلت

مادیت پرستی پوری دنیا میں ایک اہم محرک و عنصر ہے، ادنیٰ و اعلیٰ ہر رتبے کے لوگ مادیت کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں اور کھا رہے ہیں یہاں تک کہ پچھلے عشروں میں ایسے لوگ بھی گزرے کہ جنہوں نے مادیت کے بدلے اپنے ایمان کا سودا کر دیا۔ ٹھیک ہے، ہم یہ نہیں کہتے کہ مادی چیزیں کوئی اہمیت اور ضرورت نہیں رکھتیں، یا روحانی معاملات پر قناعت کرتے ہوئے زندگی کی تمام ضروریات پوری کرنا ممکن ہے، اسی طرح اس کے برعکس ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ ساری زندگی انہی مادی چیزوں کے حصول کے لیے کوشش اور محنت میں گزر جائے اس کی پرواہ کیے بغیر کہ یہ تمام مادی چیزیں اور ان کو حاصل کرنے کے لیے پیسے حلال ہیں یا حرام، بس مقصد ان کا حصول ہو۔

اعتدال اور میانہ روی دینِ اسلام کی ایک خاص صفت ہے، یہ پاکیزہ دین سب لوگوں کو اعتدال اور میانہ روی کی جانب دعوت دیتا ہے اور افراط و تفریط سے منع فرماتا ہے۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عالمِ عرب کے مسلمان اس وقت بہترین وسائل اور قوت کے مالک ہیں، اور بہت سے لوگوں کی نظریں ان کی طرف اٹھتی ہیں کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں کیونکہ جزیرۃ العرب وہ جگہ ہے جہاں اسلام کی بنیاد رکھی گئی تھی اور سب لوگ دینی علم کے زیور سے آراستہ تھے، کیونکہ اس وقت وہ نہ تو مغربی افکار و نظریات کے سامنے تسلیم ہوئے اور نہ ہی یہود و کفار کے ساتھ شریعت کا سودا کیا۔ عصرِ حاضر میں لیکن عرب کفار کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں، یہ مادیت پرستی، نفسانی خواہشات اور اپنی عیاشیوں کے عوض ان کی ہر کہی گئی بات مانتے اور قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے (جدید عرب) بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے ایسے جدید شہر اور عیاشی و فحاشی کے گڑھ بنا لیے ہیں کہ پوری دنیا کے لوگ وہاں جائیں اور اپنے ثقافتی میلے منعقد کریں۔ نیز کفار اور یہود کی پالیسیوں کے مطابق جن عرب علماء نے ان کی عیاشی اور فحاشی کے حرام ہونے کے فتاویٰ دیے ان سب کو قید کر دیا گیا اور وہ آج تک زندانوں میں ذلت کے شب و روز گزار رہے ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ کب ان زندانوں سے رہائی پائیں گے۔ نیز ان کے کفار و یہود کی باتیں ماننے کے حوالے سے ایک بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ لڑکیوں کو بڑے بڑے کنسرٹس (concerts) میں بلاتے ہیں اور یہودی ان پر پیسے نچھاور کرتے ہیں اور وہاں بیٹھی سیاہ سکارف پہنی عورتیں اور سفید رومال باندھے مرد قہقہے لگاتے ہیں۔ اس سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ آج کی عرب قیادت ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہے کہ جنہوں نے خود کو مکمل عیاشیوں اور اپنی نفسانی خواہشات اور مادیت پرستی کی خاطر اپنے ماضی کے کارناموں کو دوبارہ زندہ کرنے کے جذبے سے بالکل دور کر رکھا ہے۔

صیہونی ریاست آج فلسطین کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینا چاہتی ہے، وہاں (فلسطین) پر صیہونی حکومت (اسرائیل) کی طرف سے عام بے گناہ مسلمانوں پر اندھا دھند بمباری کی جا رہی ہے، ہزاروں مسلمان شہید ہو چکیے، ہزاروں زخمی ہیں اور ظلم و دہشت کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ایسے نازک وقت میں عرب جو خود کو بہت اچھا مسلمان ظاہر کرتے ہیں، جیسے پہلے غفلت کی نیند سو رہے تھے، اب بھی اسی طرح سو رہے ہیں۔ آج کی عرب نسل ایسے لوگ ہیں کہ جنہوں نے اس قدر مادیت پرستی (نفسانی خواہشات، عیاشی و فحاشی) کا مظاہرہ کیا اور مغربی افکار کو اس طرح سے قبول کیا کہ اپنے صالح آبا و اجداد کو نہ صرف بالکل بھول گئے بلکہ ان کے برعکس راستہ اور طریقہ اختیار کر لیا، ان کے تاریخی کارناموں کو ملیا میٹ کر دیا۔ کچھ سستی شہرت اور کفار کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے خاموش بیٹھے ہیں، فلسطینی مجاہدین کے ساتھ مالی جانی یا وسائل کے ساتھ مدد نہیں کرتے بلکہ اسراف کی طرف مائل ہیں۔ ان کا ایک شہزادہ اپنا ذوق و شوق پورا کرنے کے لیے ہوائی اڈے پر کھڑے جہاز پر سونے کی سیڑھیوں کے ذریعے چڑھتا ہے لیکن عالم اسلام خاص طور پر فلسطین کے مظلوم مسلمانوں، بچوں اور عورتوں کی مظلومانہ چیخیں اور آہوں کی آوازیں نہیں سن سکتا، اسی طرح بغداد کی گلیوں میں عوام اور بچے بھوگ سے مرتے ہیں، روٹی کے ایک لقمے کی خاطر دن رات کوشش کرتے ہیں، لیکن آج کے عرب جو عیاشی اور فحاشی کے دام میں جکڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے یہود و نصاریٰ کو اپنی سرزمینوں کے تحفظ کے لیے اڈے دینے جیسے کام کیے، وہ بھی ایسی سرزمین پر کہ جس جیسی دنیا میں کوئی اور نہیں، اس پاک سرزمین سے سفید محمدی جھنڈے تلے اسلام کے محافظین اور سرفروش اپنے سروں کا سودا کرتے ہوئے دینِ اسلام کو پھیلانے کی خاطر دنیا کے کونے کونے میں فاتحانہ انداز میں گئے، لیکن آج حال یہ ہے کہ اپنی سرزمین کی حفاظت کا تقاضہ اسلام دشمنوں (کفار یہود و نصاریٰ) سے کرتے ہیں، عجیب بات تو یہ ہے کہ ایک عرب عالم کے منہ سے یہ اعتراف بھی ہوا کہ وہ کفار کی باتیں اس طرح سے مانتے ہیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔ (نعوذ باللہ)۔

ایک وقت تھا جب ماضی کے عربوں کا ایسا دبدبہ اور رعب تھا کہ جو دنیا میں کہیں اور نہیں تھا، ایک دلیر اور قوی صحابی ضرار بن الازور رضی اللہ عنہ جب میدان جنگ میں اترتے تو بدن سے قمیص اتار دیتے تاکہ دینِ اسلام کے دشمن کہیں یہ نہ کہیں کہ تلواروں، نیزوں اور خنجروں کے خوف سے اس نے اپنی قمیص کے نیچے زرہ پہن رکھی تھی، جب جنگ شروع ہوجاتی تو دشمن کی صفیں کاٹ ڈالتے اور کوئی ان کا مقابلہ نہ کر پاتا۔

عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) نے جب ہجرت کا ارادہ کیا تو حرمِ پاک میں دو رکعت نماز ادا کی پھر وہاں بیت اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے مشرکین کے سرداروں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ میری طرف غور سے دیکھو، میں عمر بن خطاب ہوں، اور مدینہ منورہ کی طرف جا رہا ہوں، اگر تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ اس کی ماں ماتم کناں ہو جائے تو سامنے پہاڑی کے اس طرف میری پیچھے آجائے، مشرکین کے سردار ایک دوسرے سے سرگوشی کرتے ہوئے کہنے لگے کہ چھوڑو تاکہ اس سے ہماری جان چھوٹے جو ہمارے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ ڈر کے مارے ایک مشرک نے بھی ان کا پیچھا نہیں کیا، عمر (رضی اللہ عنہ) نے کھلم کھلا ہجرت کی  جبکہ دیگر صحابہ نے احتیاط کی خاطر چھپ کر ہجرت کی تھی۔

تاریخ میں لکھا ہے کہ صلیبی جنگوں کے دوران صلیبی کہتے تھے کہ صلاح الدین ایوبی کے سرفروش اتنے خطرناک ہیں کہ موت بھی ان سے ڈرتی ہے۔

مثنیٰ بن حارث وہ مسلمان گوریلا مجاہد تھے کہ کسریٰ کی سلطنت میں کفار ان کے نام سے ڈرا کر اپنے بچوں کو سلاتے تھے، یہ چند ساتھی تھے جنہوں نے کسریٰ کی پوری سلطنت کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔

محمد بن قاسم وہ کم عمر غازی تھا کہ ہندوؤں نے جسے اپنا دیوتا تک کہا، اس نے سترہ سال کی عمر میں سندھ پر حملہ کیا اور اسیر مسلمان بہنوں کو ہندو راجاؤں کی قید و بند سے نجات دلائی۔

ایک فلسطینی بچہ روتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم روزانہ دس نمازیں ادا کرتے ہیں، پانچ فرض نمازیں اور پانچ جنازے۔

فلسطین کی مظلوم اور بے بس قوم کی عورتیں اور بچے شہید ہو رہے ہیں، ان میں سے ایک مسلمان فلسطینی بہن آج کے عربوں کو پکار کر کہہ رہی ہے کہ ہمارے بچے مارے جا رہے ہیں، ہمارے بچے تمہاری عزت و ناموس کا دفاع کر رہے ہیں اور تم اپنی عیاشیوں اور بے حیائیوں میں پڑے ذلت کی نیند سو رہے ہو۔

اگر ہم سوچیں کہ پوری دنیا میں پچیس عرب ممالک اور ۵۶ اسلامی ممالک اور اسی طرح دو ارب مسلمان جن کے پاس لاکھوں فوجی جوان، توپیں، ٹینک، طیارے اسی طرح ایٹم بم اور دیگر ساز و سامان ہے اتنے ممالک اور وسائل رکھنے کے باوجود بھی اسرائیل، جو کہ اسلامی ممالک کے درمیان پڑا ہے، اتنا جری اور بے باک ہے کہ فلسطین کا چھوٹا سا غزہ صرف پچاس لاکھ یہودی کفار کے ہاتھوں آگ میں جل رہا ہے۔

تو اے امتِ مسلمہ کے غیرت مند اور بہادر جوانو! اسلام ہم سے یہ کہتا ہے کہ جب اسلام اور قرآن کو کوئی خطرہ لاحق ہو تو مال، اولاد، حکومت، ملک اور ہر چیز قربان کر ڈالو، اور اسلام، اسلامی شعائر اور مسلم امت کا دفاع کرو۔ اس کی سب سے بہترین مثال ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کا تاریخی کارنامہ ہے کہ ایک عرب مجاہد کی خاطر اپنی پوری حکومت کو خطرے میں ڈال دیا، لیکن یہ قبول نہ کیا کہ ایک مہاجر مجاہد کفار و یہود کے حوالے کر دیں۔

جس طرح ۱۹۴۸ء میں غاصب یہود و کفار نے دس لاکھ کے قریب مسلمانوں کو اپنے گھروں سے، گاؤں اور شہروں سے جلا وطن کر ڈالا، یہ عرب النکبہ کا پہلا مرحلہ تھا، اسی طرح آج جبکہ انہیں غزہ میں بھی نہیں رہنے دیا جا رہا، شمالی غزہ سے پھر دس لاکھ مسلمانوں کو زبردستی اور جبراً نکالا جا رہا ہے یہ النکبہ کا دوسرا مرحلہ لگتا ہے۔

تو اے اسلامی ممالک کے نوجوانو! اپنی نیند سے بیدار ہو جاؤ، اپنا رخ بدلو، اگر اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم روحانی مدد (دعا) تو کرو اور اس طرح اپنے دل سے فلسطین کے مجاہدین کے ساتھ مدد کا اعلان تو کرو اور خلوصِ دل سے ان کے لیے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسرائیلیوں کے مقابلے میں سرخرو اور فاتح بنائے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ