فلسطین کی مقدس سرزمین پر جاری مظالم

ماہر بلال

فلسطین وہ نام ہے جس کے ساتھ ہماری دینی وابستگی ہے۔ فلسطین وہ علاقہ جو مسلمانوں کے قبلۂ اوّل بیت المقدس کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ فلسطین: وہ مقدس مقام ہے جو انبیاء کی سرزمین کا وصف رکھتا ہے۔ (اگرچہ شام کی مکمل سرزمین ارض الانبیاء کہلاتی ہے لیکن فلسطین کی اہمیت شام کے دیگر علاقوں سے زیادہ ہے۔)

فلسطین کا نام سے ہر مسلمان اپنی غصب شدہ سرزمین اور دین اسلام کی مقدس سرزمین مراد لیتا ہے جو بیت المقدس سے عبارت ہے۔

بیت المقدس کی اہمیت تین ادیان کے لیے بہت زیادہ ہے۔ عیسائیت کے پیروکار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے اس کے احترام کے قائل ہیں اور ہر وقت اس مقدس سرزمین کو اپنے زیر تسلط لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ دوسرے یہودی ہیں۔ یہودیوں کے ہاں اس کے تقدس کی وجہ ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔ تیسرا دین مبین اسلام ہے جس کے لیے ان دونوں ادیان کے ساتھ فلسطین کی سرزمین بالخصوص مقدس اور اہمیت کی حامل ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک اس سرزمین کا تقدس انبیائے کرام علیہم السلام کے وقت سے چلا آرہا ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر محمد مصطفیٰ ﷺ تک یہ جگہ انبیائے کرام کی وجہ سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

مسلمانوں کے ہر دورِ حکومت میں اس سرزمین کی آزادی کے لیے بہت کوششیں کی گئیں اور اب بھی جاری ہیں۔ دین اسلام کے ظہور سے لے کر آج تک ہر کوئی اس سرزمین پر اپنی حکمرانی کی کوشش میں ہے۔ کئی بار یہ سرزمین مسلمانوں کی حکومت کے تحت رہی لیکن بد قسمتی سے عثمانی خلافت کے سقوط کے بعد یہ پاک اور مقدس سرزمین مسلمانوں کے پاکیزہ اقتدار سے نکل گئی۔ اس وقت کے بعد سے مسلمانوں نے فلسطین کی حقیقی آزادی کے لیے جو جدوجہد شروع کی وہ آج تک جاری ہے۔

عیسائیت اور یہودیت کے پیروکار فسلطین کی سرزمین کو بہت قابل قدر کہتے ہیں اور بظاہر اس کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن دونوں ادیان کے پیروکار اسے مسلمانوں جیسا تقدس نہیں دے سکتے۔ نہ وہ اس تقدس کے درجے کو پہنچ سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہو سکتے ہیں یعنی اپنے دوعویٰ میں درحقیقت جھوٹے ہیں۔

دورِ حاضر میں اسلام کی آخری خلافت (خلافت عثمانیہ) کے سقوط کے بعد فلسطین کی مقدس سرزمین سے عثمانی خلافت کا جھنڈا اور مسلمانوں کا وقار زمیں بوس ہو گیا۔

فلسطین کے علاقے غزہ میں آج بہت افسوسناک صورتحال جاری ہے۔ سو سے زیادہ دن گزر چکے کہ مظلوم فلسطینی عوام اسرائیلی بربریت کا نشانہ بن رہی ہے۔ ہر روز درجنوں اور سینکڑوں لوگ، جو سب کے سب عام لوگ ہیں، اسرائیلی غاصبوں کی طرف سے شہید کیے جا رہے ہیں۔ فلسطین کے زیادہ تر علاقوں میں ایسی حالت ہو چکی ہے کہ جس نے سب کو غم زدہ کر رکھا ہے۔ مسلمان تو ایک طرف بہت سے کفار بھی وہاں جاری جارحیت کو فلسطینیوں کے خلاف ظلم کہہ رہے ہیں۔ ظلم اور بربریت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ جانور بھی اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ بچے، عورتیں اور بوڑھے ظالم یہودیوں کے مظالم کا نشانہ ہیں۔ ان کے ظلم سے ماں کے پیٹ میں موجود بچہ بھی پناہ مانگتا ہے۔

ظلم و جبر سے تشکیل پانے والا نیا عالمی نظام اس ظلم کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہتا۔ وہ بین الاقوامی تنظیمیں جو قائم تو انسانی حقوق کے نام پر کی گئیں، لیکن فلسطین میں جاری مظالم میں تمام انسانی حقوق کو جو پیروں تلے روندا جا رہا ہے، ان کی لغت میں وہاں حقوق شمار ہی نہیں ہوتے۔

اس صیہونی اور وحشی قوم کی بربریت، مظالم اور زیادتیوں کو روکنے کے لیے، سوائے چند غیر مند مومنین کے، کوئی ہاتھ آگے نہیں بڑھا رہا۔ ان یہودیوں نے فلسطین میں آباد ہونے کے بعد سے وہ مظالم کیے ہیں جو انسانی تاریخ میں کم ہی دہرائے گئے ہیں۔

پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس دنیا کی طاقتور ترین افواج ہیں لیکن فلسطین کے غیرت مند مجاہدین نے اس جھوٹے رعب کا خاتمہ کر دیا اور یہودیوں پر ایسا حملہ کیا کہ ان کی تمام جھوٹی طاقت کا پول کھول کر رکھ دیا۔ صیہونی کیمپ نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر اندھی بمباری شروع کر دی، ایسی بمباری کہ جس میں اب تک تقریبا ڈیڑھ لاکھ مظلوم فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں سے نصف عورتیں اور بچے ہیں۔

عرب ممالک فلسطین کے حوالے سے سو فیصد قصور وار ہیں۔ پچھلے سال اکتوبر میں حماس کے مجاہدین کی طرف سے طوفان الاقصیٰ نامی کاروائیاں مکمل طور پر کامیاب و کامران رہیں لیکن جنگ کے آغاز سے اب تک عرب حکمران خاموش ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے امریکہ، فرانس، برطانیہ اور اسرائیل کے ساتھ خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں کہ وہ اس جنگ کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولیں گے۔ موجودہ عرب حکمرانوں کی یہ بڑی بے غیرتی کی بات ہے کہ ایک طرف مسلمانوں پر مظالم جاری ہیں اور دوسری طرف اپنے ملکوں میں وہ شراب کی تجارت کا آغاز کر رہے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ، مغربی دنیا اور عرب ممالک اس حوالے سے خاموش کیوں ہیں؟ ان کی خاموشی میں ان کے انسانی حقوق کے نعرے کہاں گئے؟ کیا انہیں فلسطین میں جاری مظالم نظر نہیں آتے؟ یہودی حکومت کی طرف سے جاری شیطانی مظالم پر وہ کیوں خاموش ہیں؟

ہر طرف دیکھتے ہیں اور اچھی طرح جانتے بھی ہیں لیکن چونکہ معاملہ اسلام اور مسلمانوں کا ہے اس لیے خاموش ہیں۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو اور ان وحشی ظالم یہودیوں کو مکمل تباہ و برباد کر دے۔ آمین