فلسطین کی حمایت میں

غزہ کے نہتے مظلوم عوام پر ناپاک اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے اور اس کے جواب میں مسلمان ممالک کے حکمرانوں کی بے حسی ان کی ذہنی، فکری اور معاشی غلامی کا واضح ثبوت ہے۔ امریکہ کے باطل اور حیوان صفت نطفے سے جنم لینے والی یہ وحشی اور جابر اسرائیلی حکومت اور فوج فلسطین کے نہتے اور مظلوم عوام پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہی ہے، لیکن اس حالیہ حملے میں ظلم، وحشت اور بربریت کی سب حدیں پار کر دی گئیں اور سب قانون توڑ کر پیروں تلے روند دیے گئے۔ اسرائیل نے اس حملے میں واضح طور پر ناقابل فراموش تاریخی جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور اب تک کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں سمیت ہزاروں بے گناہ مظلوم فلسطینی مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔

بے گناہ معصوم چھوٹے چھوٹے بچے اور عورتیں بمباری کی نظر ہو گئیں، گھر، ہسپتال، تعلیمی ادارے، اسی طرح فلاحی مراکز بھی اس اندھی بمباری اور وحشیانہ فضائی حملوں کا نشانہ بنے، لیکن اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ ان تمام مظالم کے ارتکاب کے باوجود خاموشی اختیار کیے بیٹھا ہے۔

امریکہ اور دیگر یورپی ممالک نے کھل کر اسرائیل کے ان مظالم کی حمایت کا اعلان کیا ہے، لیکن بد قسمتی سے امت مسلمہ کے نام نہاد حکمران اور مقتدر طبقہ اسرائیل کے خلاف اور فلسطینی عوام کے حق میں بیان دینے کے بھی قابل نہیں۔ مسلمانوں کے قبلۂ اوّل اور انبیائے کرام علیہم السلام کی سرزمین پر یہ ظلم و ستم دیکھ کر بھی دو ارب سے زائد آبادی والی امت مسلمہ صرف دعاؤں پر اکتفا کر رہی ہے۔

جانے امت مسلمہ کی ماضی جیسی غیرت، عزت، غرور، دبدبہ، شان اور جلال کہاں کھو گیا؟

ذلت اور بدبختی اس امت کا عنوان بن چکا ہے۔ یہ جو پوری امت مسلمہ نے بحیثیت مجموعی جہاد فی سبیل اللہ کے عظیم فریضہ کو پس پشت ڈال دیا ہے،  جہاد کو دہشت گردی کے طور پر دیکھتی ہے، دنیاوی عیش و عشرت میں غرق ہے اور اپنے اپنے گھروں میں غفلت کی نیند سو رہی ہے، تو پھر ایسی دہل دہلا دینے والی صورتحال کا پیش آنا واضح اور حتمی بات ہے۔

ان تمام حالات و واقعات کے باوجود سلام ہے غزہ کے اسلام پسند، جہاد پسند اور مومن عوام کی دینی غیرت و وقار پر کہ پیغمبروں کے مسکن و مدفن کی حفاظت اور دین مبین اسلام کی عزت کی خاطر اپنا مال جان، گھر بار، اولاد غرض ہر چیز قربان کر ڈالی لیکن باطل کے مقابل سرنگوں ہونا قبول نہ کیا۔ سلام ہے ایسے ابطال اور ہیروز پر جنہوں نے ذلت کا راستہ ترک کیا اور عزت و شہادت کا راستہ اختیار کیا۔

وہ دن دور نہیں کہ جب غزہ کی جہاد سے محبت کرنے والی عوام کی یہ مقدس اور عظیم قربانی اور ناقابل فراموش و قابل فخر جہادی جدوجہد رنگ لائے گی اور اسرائیل کی ناپاک ریاست و حکومت روئے زمین سے فنا کر دی جائے گی۔ ان شاٗء اللہ تعالیٰ