فلسطین: داعش اور امارت اسلامیہ کا مؤقف

ماہر بلال

آج افغانستان میں سکیورٹی کمیشن کی جانب سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں افغانستان کے سکیورٹی مسائل کے ساتھ مسئلہ فلسطین پر بھی بات چیت کی گئی۔

کانفرنس میں سکیورٹی اینڈ سیٹلمنٹ کمیشن (Security & Settlement Commission)  کے سربراہ اور قائم مقام وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے مسئلہ فلسطین کا ذکر کیا۔ انہوں نے غزہ اور دیگر علاقوں میں یہودیوں کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کا ذکر کیا اور اس جہاد کو فلسطینی مسلمانوں کا حق قرار دیا اور دنیا کے تمام مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی مظلومین کے ساتھ برحق جدوجہد میں پوری قوت سے اپنی آواز بلند کریں اور وہاں کی مظلوم عوام کی ہر طرح سے مدد کریں۔

یہ وہ چیز ہے جو امارت اسلامیہ کی حقانیت کو ظاہر کرتی ہے اور ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دیتی ہے جو کہتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کو امت کا کوئی غم نہیں۔ امارت اسلامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے ایک بار پھر بار بار تکرار کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کو ظالم کہا، عالمی طاقتوں پر واضح کیا کہ تمہاری موجودہ سیاست دو رخی اور ظلم سے بھرپور ہے، اپنی اس شیطانی سیاست کو بدلو اور انسانیت کے ساتھ اس شدید دشمنی سے ہاتھ کھینچ لو۔

دین اسلام میں بیت المقدس کی حرمین کے بعد سب سے زیادہ اہمیت ہے، بیت المقدس ہر مسلمان کے لیے مقدس جگہ ہے، بیت المقدس کی آزادی ہر حقیقی مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

دیگر سانحات کے ساتھ قبلہ اوّل بیت المقدس کا سانحہ سب سے بڑا المیہ ہے، آج میں شدید دکھ کے ساتھ یہ بات کر رہا ہوں کہ دنیا مسلمانوں سے بھری ہوئی ہے لیکن کوئی بھی اس پر تیار نہیں کہ بیت المقدس کی پاک سرزمین کی آزادی کے لیے جہاد کا رخ کرے اور اسے کفار کے قبضے سے نجات دلائے۔

فلسطین اور اس کے گرد و نواح دیگر علاقوں میں جو مجاہدین یہودیوں کے خلاف برسر پیکار ہیں وہ یقینا اس زمانے کے حقیقی اور پاکیزہ مجاہدین ہیں، کیونکہ یہی وہ مجاہدین ہیں جو مسلمانوں کے قبلہ اوّل بیت المقدس کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، یہی وہ مجاہدین ہیں جو اپنے جہاد کے ذریعے مسلمانوں کو فراموش شدہ مقدس جنگ دوبارہ یاد دلا رہے ہیں، یہ مجاہدین اس لیے لڑ رہے ہیں تاکہ امت مسلمہ کی ایک مظلوم قوم بدبخت کفار (یہود) کے ظلم سے نجات حاصل کر سکے۔

وہ بہت زیادہ کے مستحق ہیں، لیکن افسوس کہ ہمارے ہاتھ کفار اور ان کے غلاموں نے باندھ رکھے ہیں۔

امارت اسلامیہ نے ہمیشہ دنیا کے ہر مومن کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھا ہے، اور امت مسلمہ کی حقیقی آزادی کی خاطر ہر کوشش کرنے والے کی جدوجہد کو حق قرار دیا ہے، لیکن دوسری طرف ایک گروہ ہے جو خود کو امت مسلمہ کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے کا ٹھیکیدار گردانتا ہے، لیکن گفتار و کردار کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے، ایک گروہ ہے جو اپنے سوا تمام مومنین کو کفار اور مرتدین سمجھتا ہے، ایک گروہ ہے جو چند جعلی کاموں کی بنیاد پر خود کو خلافت کا حق دار تصور کرتا ہے لیکن خلافت کے اصل مطلب سے آج بھی آگاہ نہیں۔

یہ گروہ وقت کے خوارج داعشی ہیں جو ہر وقت حق پرست مومنین کے خلاف مظالم میں مصروف رہتے ہیں۔ داعشی جو خود کو خالص مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور خود کو مسلمانوں کے خیر خواہ گردانتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ امت مسلمہ کی پیشانی پر بدنما داغ ہیں۔

وقت کے خوارج (داعشیوں) نے مسئلۂ فلسطین کے بارے یمیں خاموشی اختیار کر رکھی ہے، انہوں نے نہ ختم ہونے والی خاموشی کے ساتھ فلسطین مسلمان مجاہدین (حماس) کو مرتد بھی کہا اور یہودیوں کی بجائے مجاہدین کے قتل کو ترجیح دی۔

میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ داعشی خوارج ہمیشہ یہودیوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں اس لیے اس بار فلسطین کے موجودہ مسئلے میں اپنی لامتناہی خاموشی کے ساتھ داعش نے یہودیوں کی طرف داری بھی کی اور فلسطینی مومنین کے درد کا درماں کرنے کی بجائے ان کے دشمنوں کا ساتھ دیا، فلسطینی مجاہدین کو مرتدین سمجھا اور ان کے خلاف جنگ کا فتویٰ دیا، لیکن یہ کسی کے لیے بھی حیران کن بات نہیں ہے نہ ہی کسی کو تعجب ہو گا کہ داعش نے ایسا کیوں کیا؟ وقت کے خوارج (داعش) نے لازما ایسا ہی کرنا تھا اورایسا کرنا ان کے لیے ضروری بھی ہے کیونکہ یہ کفار کا تشکیل کردہ گروہ لازمی کفار کے لیے ہی کام کرے گا (نہ کہ مومنین کے لیے)، جیسا کہ وہ کر رہا ہے اور کرتا رہا ہے۔

دوسری طرف یہ جہنم کے کتے پوری امارت اسلامیہ کو (وہ صف جو مسئلۂ فلسطین کے ساتھ تمام امت کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتی ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن مدد کے لیے بھی تیار ہے) باطل سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف اپنی مضحکہ خیز جنگ کو جہاد کا نام دیتے ہیں۔ یہ گروہ فلسطین کے معاملے میں بالکل چپ ہے اور جو بھی اسلام کا خیر خواہ ہو اور امت مسلمہ کے درد کا درماں کرنا چاہتا ہو تو یہ اس کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔

داعشی جنہیں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے خوارج کا لقب دیا اور انہیں جہنم کے کتے قرار دیا، بعض اوقات ایسی ویڈیوز جاری کرتے ہیں کہ جیسے وہ یہود پر حملے کر رہے ہوں یا یہودیوں کو نشانہ بنا رہے ہوں لیکن یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ایسی ویڈیوز جعلی ہیں اور داعشی اسے اپنے مفادات کے لیے تیار کرتے ہیں تاکہ کچھ جذباتی نوجوان دھوکہ کھا جائیں اور ان کے توسط سے یہ اپنے ناپاک اہداف حاصل کر سکیں۔

کچھ وقت قبل ابو عطاء صنعانی کے نام سے ایک فرد  نے خوارج (داعشیوں) سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اس نے ثبوت کے ساتھ واضح کیا کہ داعشی بعض اہداف کے لیے جعلی ویڈیوز اور دیگر جعلی میڈیا نشریات بناتے ہیں تاکہ اپنے فریب جاری رکھ سکیں۔ لیکن ایک ایسا گروہ جو جھوٹ میں اس قدر مہارت رکھتا ہو، اور جھوٹ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرتا ہو تو وہ اس امت کا بھلا کیسے چاہ سکتا ہے؟

کبھی نہیں! کیونکہ جعلسازی اور جھوٹ دونوں کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں اسی طرح جعلی مجاہدین کی بھی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔

دونوں جہاں کے سردار حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:

دعْ ما يُريبُكَ إلى ما لا يُريبُكَ فإنَّ الصدقَ طُمأنينةٌ وإنَّ الكذبَ رِيبَةٌ

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جھوٹوں کے بارے میں فرمایا:

فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكٰذِبِينَ

ترجمہ: اور جو جھوٹیں ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیج دیں۔

اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ

ترجمہ: اللہ تعالیٰ ایسے کسی شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے تجاوز کرنے والا اور جھوٹا ہو۔ (سورۃ غافر: ۲۸)