فلسطین، آج اور کل

انجینئر عمیر

فلسطین ایک اسلامی ملک ہے، جو براعظم ایشیا کے مغرب اور بحیرۂ روم کے مشرق میں واقع ہے۔

اس کے مشرق میں اردن، مغرب میں بحیرۂ روم، شمال اور شمال مشرق میں شام اور لبنان اور جنوب سے مصر کے جزیرہ نما سینا اور خلیج عقبہ نے احاطہ کر رکھا ہے۔

آسمانی مذاہب کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ فلسطین اپنے بہترین جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے جسے مسجد اقصیٰ نے مزید بڑھایا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں توحید یعنی آسمانی مذہب نے سرزمین فلسطین پر ترقی پائی اور اسلام کے دوسرے خلیفہ(حضرت عمر فاروق) کے زمانے میں اسلام کا بابرکت دین فلسطین کی مبارک سرزمین پر پہنچا۔

اس سرزمین میں مسلمانوں کی اکثریت اور یہودیوں اور عیسائیوں کی اقلیت بھی آباد تھی، مسلمانوں کو جو حقوق حاصل تھے وہ اقلیتوں کو بھی پوری طرح حاصل تھے۔

خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد برطانیہ اس سرزمین پر قابض ہو گیا، یہی وہ وقت تھا جب یہ زمین یہودیوں کے لیے سازگار ہو گئی اور وہ فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے،  یہ جنگ پھر تب پھیل گئی جب 1947 میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کردیا، ایک یہودی ریاست اور دوسری عرب، جس میں بیت المقدس کو بین الاقوامی شہر کی حیثیت حاصل ہو۔

انگریزوں کو اس بات کا علم تھا کہ اکثر ممالک یہودیوں کے شر سے محفوظ نہیں ہیں، اس لیے یورپ نے اقوام متحدہ کے نام پر ایک تیر سے دو شکار کیے۔ ایک طرف یہودیوں کے شر سے خود کو محفوظ کر لیا جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ جنگ میں پھنسا دیا۔

یہودی لڑائی میں نہیں بلکہ نفاق اور فتنہ پیدا کرنے میں  سب سے آگے ہیں، اگر حماس یہودیوں کے خلاف کھڑی نہ ہوتی تو عرب ممالک کے لیے یہ ایک بڑا سر درد بن جاتے۔

خاص طور پر فلسطین میں حماس کا کمزور ہونا عرب ممالک کے لیے ایک بڑے خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔ عرب ممالک کو اس کا احساس تب ہو گا جب یہودی حماس کو ایک طرف کر دیں گے اس کے بعد عرب ممالک کے لیے یہودیوں کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔