پاکستان اور فوجی حکمرانی

حماد شیرزاد

دنیا کا ہر ملک ایک حکومت اور حکومتی نظام رکھتا ہے۔ کہیں شاہی حکومتیں ہیں، بہت سی جگہوں پر جمہوری نظام ہے اور کہیں فوجی آمریتیں ہیں۔

پاکستان نام کے لحاظ سے اسلامی جمہوری نظام ہے اور بس نام کی حد تک ہی ہے، کیونکہ اس کے پیچھے فوج اصل حکمران ہے اور پاکستان میں جو ہوتا ہے فوج کی مرضی سے ہوتا ہے اور اسی کے انتظام کے تحت ہوتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی دہائی نہیں ملتی، کہ جس میں فوج حکومتی امور میں براہ راست ملوث نہ ہو یا پیچھے اس کا ہاتھ نہ ہو۔

جب بھی پاکستان میں عوامی مطالبات نے زور پکڑا یا عوام کچھ کھڑی ہوئی اور اپنا حق مانگنا شروع کیا یا امریکہ اور یورپ کے قبضے سے خود کو چھڑانے کی ہی کوشش کی، فوج نے بغاوت کر کے عوامی آوازیں خاموش کر دیں، انہیں قید کیا، بہت سوں پر تشدد کیا، مارا پیٹا اور مار ڈالا۔

سکندر مرزا پہلا پاکستانی تھا کہ جو صدر مقرر ہوا، وہ میر جعفر کا پڑپوتا تھا اور اسی کی طرح کا ایک مشہور غدار اور ملک بیچنے والا تھا۔ وہ برطانوی فوج کا ایک سپاہی اور تنخواہ دار تھا، اس نے کوہاٹ کے علاقے خدا داد خیل میں انگریزوں سے کندھے سے کندھا ملا کر پشتونوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔

بعد ازاں ۱۹۲۴ء میں وزیرستانیوں کے خلاف انگریزوں کے شانہ بشانہ وزیرستان کی مشہور جنگ میں بھی حصہ لیا۔

آخر تک وہ برطانوی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہا، ۱۹۵۶ء میں چوہدری محمد علی کو پاکستان کا وزیر اعظم بنایا گیا، لیکن دو سال بھی نہ گزرے تھے  کہ سکندر مرزا نے فوجی بغاوت کر دی اور ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر کے ہر چیز کو فوجی کنٹرول کے تحت لے آیا۔

اس نے اس کے ساتھ ساتھ اپنا صدر کا عہدہ برقرار رکھنے کی کوشش کی لیکن ایک مہینہ بھی نہ رکھ سکا جرنل ایوب نے بغاوت اسے ایوانِ صدر سے بے دخل کر کے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

سکندر مرزا لندن چلا گیا اور میر جعفر کا پڑپوتا ہونے کی وجہ سے برطانیہ نے اس کے تمام اخراجات خود اٹھا لیے۔

جرنل ایوب خان

جرنل ایوب خان نے سکندر مرزا کا تختہ الٹ کر پاکستان کا اقتدار سنبھالا۔ اس کی حکومت کے ابتدائی مہینوں میں پاکستانی اس سے خوش تھے، لیکن کچھ عرصے کے بعد ہی پاکستان کے حالات دن بدن خراب ہونے لگے اور عوام میں اس کے تئیں نفرت بڑھنے لگی۔ اس کی حکومت میں اس کی سب سے بڑی حریف قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح تھی، اس کے بعد دیگر بڑے مخالفین بھی پیدا ہو گئے، جن میں سے ایک پاکستان کا سابق وزیر اعظم اور بے نظیر بھٹو کا باپ ذوالفقار علی بھٹو بھی تھا۔

پاکستانی فوج کی سب سے بڑی سیاست جو تاریخ میں مسلسل دیکھی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی اپنے حقوق یا حقیقی آزادی کی بات کی، فوج نے کوئی نہ کوئی ڈرامہ ضرور رچایا اور لوگوں کا ذہن اور سوچ بدل ڈالی۔

جیسے جب ایوب خان کو معلوم ہوا کہ اس کی مخالف فاطمہ جناح عوام کے درمیاں بہت اثر اور شہرت رکھتی ہے تو اسے قتل کر دیا اور لوگوں کی توجہ پھیر دی۔

اگرچہ فاطمہ جناح کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا لیکن فاطمہ جناح کے بھتیجے اکبر پیر بائی نے ۲۰۰۳ء میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ فاطمہ جناح کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے نہیں ہوا بلکہ انہیں سیاسی مقاصد کی خاطر قتل کیا گیا۔

(حوالہ: “Fatima Jinnah: Mother of Nation (Mader-e-Millat)”)

اسی طرح ایوب خان نے اپنی قوم کا دل جیتنے کی خاطر ۱۹۶۵ء میں بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑ دی اور عوام کی بغاوت کے آگے بند باندھ دیا۔

کہا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کی ایک بڑی وجہ ایوب خان کا بنگالیوں کے ساتھ حقارت آمیز رویہ تھا، کیونکہ ایوب خان بڑے بنگالی سیاست دانوں کو بری اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔

جاری ہے…!

المرصاد

اہم خبریں