ملک میں مذہبی، نسلی اور لسانی دشمنی کہاں سے شروع ہوئی؟

رحمت اللہ فیضان

فروری ۱۹۹۳ء میں اسلامی ریاست کے وزیر دفاع احمد شاہ مسعود اور اتحاد اسلامی پارٹی کے رہنما عبدالرب رسول سیاف نے کابل میں ہزارہ لوگوں کی آبادی کے علاقے ’’افشار‘‘ میں ایک عظیم غیر انسانی بلکہ انسانیت سوز جرم کا ارتکاب کیا۔ یہ عظیم انسانیت مخالف جرم افغانستان کی تاریخ کا سب سے ہولناک اور دلخراش باب ہے۔ یہ درندگی تب شروع ہوئی جب وحدت پارٹی کے سربراہ عبد العلی مزاری نے اسلامی ریاست میں شمولیت کے ساتھ ہزارہ آبادی کے علاقوں کی خود مختاری کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اگرچہ کریم خلیلی کو وحدت پارٹی کے جانب سے ربانی کی کابینہ کے لئے بطور وزیر خزانہ تسلیم کیا گیا تھا، لیکن پھر بھی عبدالعلی مزاری مسعود اور ربانی کی انتظامیہ پر دوسروں پر انحصار کا الزام لگایا کرتا تھا۔ دوسری طرف مسعود اور ربانی کے لیے عبدالعلی مزاری کے غیر معقول مطالبات کو پورا کرنا مشکل تھا۔ بس یہیں سے افغانستان میں نسلی، لسانی اور مذہبی تشدد کا آغاز ہوا۔

حزب وحدت پارٹی ۱۹۸۹ء میں ہزارہ کی آٹھ سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے بنائی گئی تھی اور اس کا سربراہ عبدالعلی مزاری تھا۔

تین سال بعد ۱۹۹۲ء میں جب حزب وحدت کو کابل منتقل کیا گیا تو ۸۲ ممبران پر مشتمل ایک لیڈر شپ کونسل بنائی گئی۔ مرکزی کمیٹی میں ہزارہ کے مختلف گروپوں کے رہنما شامل تھے۔

۱۹۹۴ء میں وحدت پارٹی کی داخلی رقابتوں کی وجہ سے استاد محمد اکبری نے وحدت پارٹی چھوڑ دی لیکن عبدالعلی مزاری اپنی جگہ برقرار رہا۔ عبدالکریم خلیلی اس وقت مرکزی کمیٹی کا رکن تھا۔ ۱۹۹۵ء میں مزاری کے قتل کے بعد، عبدالکریم خلیلی وحدت پارٹی کے سربراہ کے طور پر منتخب ہوا، دوسری طرف محمد محقق افغانستان کے شمال سے حزب وحدت پارٹی کے رہنما کے طور پر نمودار ہوا۔

اس کے ساتھ حزب وحدت تین گروہوں میں بٹ گئی:

  1. عبدالکریم خلیلی کا گروہ
  2. محمد محقق کا گروہ
  3. محمد اکبری کا گروہ

افشار میں کی جانے والی درندگی سے احمد شاہ مسعود کے مقاصد

افشار میں کی جانے والی درندگی سے احمد شاہ مسعود دو اسٹریٹیجک مقاصد تھے۔

  1. وحدت پارٹی کی سیاسی اور عسکری پوزیشنوں اور عبدالعلی مزاری کا خاتمہ۔
  2. کابل کے مغربی علاقے بھی مرکزی حکومت کے تسلط میں لانا تاکہ کابل مکمل طور پر جمعیت کے کنٹرول میں آجائے۔

آپریشن کی ترتیب

وزیر دفاع اور مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف احمد شاہ مسعود افشار میں آپریشن کی سربراہی کررہا تھا۔ احمد شاہ مسعود جمعیت کے جنگجوؤں کو براہ راست جبکہ اتحادی جنگجوؤوں کا بالواسطہ چلا رہا تھا۔ اگرچہ اتحاد پارٹی کے فوجی بظاہر ریاستی فوج کا درجہ رکھتے تھے لیکن اس کے کمانڈرز ہدایات عبدالرب رسول سیاف سے لیتے تھے۔ اسی لیے افشار آپریشن کے دوران مسعود اور سیاف کے مابین مشترکہ امداد کا معاہدہ ہوا۔ اس کے ساتھ افشار آپریشن میں اتحاد پارٹی کے جنگجوؤں کو عبد الرب رسول سیاف براہ راست چلانے لگا۔

آپریشن میں جمعیت کے کمانڈرز

  1. محمد قاسم فہیم، چیف آف جنرل انٹیلی جنس اور اسپیشل ملٹری آپریشنز کمانڈر۔
  2. انور ڈنگر، شکر درہ میں مسعود کے جنگجوؤں کا کمانڈر۔
  3. ملا عزت، پغمان میں ڈویژن کمانڈر۔
  4. محمد اسحاق پنجشیری، مسعود کے جنگجوؤں کا ایک بریگیڈ کمانڈر۔
  5. حاجی بہلول پنجشیری، مسعود کے جنگجوؤں کا ایک بریگیڈ کمانڈر۔
  6. بابہ جلندر پنجشیری، مسعود کے جنگجوؤں کا ایک بریگیڈ کمانڈر۔
  7. خانجر آخوند پنجشیری، مسعود کے جنگجوؤں کا ایک بٹالین کمانڈر۔
  8. مشتاق لالی، بٹالین کمانڈر۔
  9. باز محمد احمدی بدخشانی، ڈویژن کمانڈر۔

اتحاد اسلامی کے کمانڈرز اور جنگجو

  1. حاجی شیر عالم، افشار آپریشن کے پہلے دو دنوں کا جنرل کمانڈر۔
  2. زلمی طوفان، ۵۹۷ بریگیڈ کمانڈر۔
  3. ڈاکٹر عبداللہ، ۵۹۷ بریگیڈ کا بٹالین کمانڈر۔
  4. میجر نعیم، ۵۹۷ بریگیڈ کا بٹالین کمانڈر۔
  5. ملا تاج محمد۔
  6. عبداللہ شاہ۔
  7. عبدالمنان دیوانہ، بٹالین کمانڈر۔
  8. امان اللہ کوچی، بٹالین کمانڈر۔
  9. شیریں، بٹالین کمانڈر
  10. مشتاق لالی، بٹالین کمانڈر
  11. ملا کجکول۔

جمعیت اور اتحاد پارٹی کی اتحادی افواج نے ۱۰ فروری ۱۹۹۳ء کو افشار، کارتہ سہ، کارتہ چہار اور کارتہ سخی کے علاقوں پر فضا اور زمین سے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے حملہ شروع کر دیا۔ یہ حملہ ایسے غریب علاقوں پر کیا گیا جن میں عوام کی اکثریت آباد تھی۔ ان علاقوں میں وحدت کے جنگجو بھی رہتے تھے، لیکن مذکورہ علاقوں کی خواتین اور بچوں نے مسعود اور سیاف کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے تھے۔

۱۰، ۱۱ فروری ۱۹۹۳ء کی درمیانی شب مسعود کی افواج نے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز، افشار اور ہزارہ کی آبادی والے دیگر علاقوں کو اپنے فضائی حملوں کی زد میں لے لیا۔ صبح کے پانچ بجے مسعود کی افواج نے پیش قدمی شروع کی۔ پہلی پیش قدمی بادام باغ کے طرف سے افشار کے ریڈار کی پہاڑی کی طرف تھی۔ مسعود کی فورسز نے بغیر کسی مزاحمت کے چوٹی پر واقع وحدت پارٹی کی چوکی پر قبضہ کر لیا اور وحدت کی اہم دفاعی مورچوں میں آگ بھڑک اٹھی اور وہاں تعینات ٹینک ناکارہ ہو گئے۔

جمعیت اور اتحاد کے جنگجوؤں کا ایک گروپ نے مغرب کی طرف سے افشار کی طرف پیش قدمی کی۔ دوسرے گروپ نے افشار روڈ کے قریب کارتہ پروان، انٹرکانٹیننٹل اور انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی طرف سے پیش قدمی کی اور مشرق کی جانب سے افشار میں داخل ہوا۔

دن کے ایک بجے حزب وحدت کی تمام دفاعی خط ٹوٹ گئے، مزاری اور ان کے کمانڈر پیدل انسٹی ٹیوٹ سے فرار ہوگئے، دوپہر دو بجے مسعود کے جنگجو انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مسعود اور سیاف کی افواج جنہوں نے مغرب اور مشرق سے وحدت کی افواج پر حملہ کیا تھا، وہ افشار میں اکٹھے ہوگئے اور علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ مسعود اور سیاف کی فوجیں افشار اور خوشحال خان مینہ میں تعینات ہو گئیں اور گھر گھر تلاشی شروع کر دی۔ اس تلاشی کے دوران مسعود اور سیاف کی افواج کی جانب سے خوفناک مظالم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

فاتح افواج لوگوں کے گھروں میں تلاشی کی نیت سے گھستیں، مردوں کو اپنے ساتھ قیدی بنا کر لے جاتیں، عورتوں کی بے حرمتی کرتیں اور گھر اور اس کا سارا سامان لوٹ لیتیں۔

جنگ کے بعد قیدیوں کو پیسوں کے بدلے چھوڑ دیا گیا، وہ جو اپنا فدیہ ادا کرنے سے قاصر تھے انہیں قتل کر دیا گیا۔