موجودہ نظام کو علما و مشائخ کے علمی جوہر کی ضرورت

رحمت اللہ فیضان

یہ حقیقت ہے کہ موجودہ نظام کے قیام کے لیے ہزاروں انسانوں کا خون بہا، ہزاروں ماؤں کے جگر گوشے چھنے،  ہزاروں عورتیں بیوہ ہوئیں، ہزاروں معصوم بچے یتیم ہوئے، پھر جا کر یہ نظام قائم ہوا۔ شہیدوں کی قربانیوں کے بعد علمائے کرام، مشائخِ، اہل خیر، اہل رائے اور اہل فن کی ذمہ داری ہے کی نظام کی حفاظت کریں، یہ نظام علماء و مشائخ کے علمی جوہر سے ہی قائم رہ سکتا ہے، جس معاشرے میں شہیدوں کا خون بہا ہو لیکن اس کے ہمراہ اس معاشرے کے علماء و مشائخ کے قلم موجود نہ ہوں، وہاں شہیدوں کے خون کو پیروں تلے روند ڈالا جاتا ہے۔ وہی اپنے شہداء کے خون کا حق ادا کر سکتا ہے جو شہیدوں کے خون دینے کے بعد اپنے قلم کے مشن اور جوہر سے غافل نہ ہو۔

افغانستان میں مغربی حملہ آوروں کی شکست کے بعد ہمارے علمائے کرام، مشائخ، ماہرین، اور اہل قلم کی مشترکہ قومی اور دینی ذمہ داری ہے کہ اس مقدس جہاد کی قربانیوں کا حق ادا کرنے کے لیے اپنے قلم کا استعمال کریں، خود کو زبانی اور جذباتی تقاریر تک محدود نہ رکھیں، بلکہ قلم کی زبان سے اپنی باعزت تاریخ آنے والی نسلوں کو بیان کریں۔

مغربی حملہ آوروں اور ان کے زر خرید غلاموں کے خلاف افغان جہاد کے تین بنیادی مقاصد تھے:

  1. افغان سرزمین کی استعمار اور حملہ آوروں سے آزادی
  2. اس سرزمین پر اسلامی حکومت کا قیام
  3. افغان عوام کے لیے مادی ترقی کے مواقع پیدا کرنا اور انہیں دوسروں کی محتاجی سے آزادی دلانا۔

الحمد للہ امارت اسلامیہ کی آمد سے ہماری سرزمین غاصبوں کے قبضے سے آزاد ہو گئی اور یہاں اسلامی حکومت بھی قائم ہو گئی۔ یہ دو مرتبہ افغانیوں کی طرف سے اس مقصد کے حصول کے لیے عظیم قربانیاں پیش کرنے سے ممکن ہو پایا۔

ہمارے علماء اور اہل قلم کو چاہیے کہ افغانیوں کی قربانیوں کے حوالے سے اپنا قلمی مشن آگے بڑھائیں۔

افغان جہاد کا تیسرا مقصد اپنی عوام کے لیے حلال رزق کے ذرائع پیدا کرنا اور اپنی عوام کو دوسروں کی محتاجی سے نجات دلانا تھا، اس شعبے میں امارت اسلامیہ برق رفتاری سے پیش رفت کر رہی ہے۔ قوشتپا نہر، تیل اور دیگر معدنیات کا اخراج، بڑے تجارتی راستوں کی تعمیر، ریلوے کی ترقی، تجارتی سہولیات کی فراہمی، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ، تجارت کے شعبہ میں انتظامی کرپشن کا خاتمہ، وہ کامیابیاں ہیں جنہیں ہمارے علماء و مشائخ اور اہل علم کو وقتا فوقتا عوام کے گوش گزار کرتے رہنا چاہیے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دینِ اسلام میں تجارت کو فرد اور معاشرے کے مفادات کی فراہمی کے لیے جائز ذریعہ گردانا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اس کا مکلف تسلیم کیا گیا ہے۔ تجارت کے حوالے سے اسلامی احکام کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارت نہ صرف دنیوی فائدے کے لیے ہے بلکہ اسے ایک عبادت، روحانی نشونما اور جنت میں داخلے کا وسیلہ بھی مانا گیا ہے، اور تجارت میں پھر سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر و ترقی کی بہت اہمیت ہے اسی لیے امارت اسلامیہ نے اس سلسلے میں تعمیری اقدامات اٹھائے ہیں۔

ہمارے علماء و محققین کو دشمنانِ اسلام کی اس رائے کو قبول نہیں کرنا چاہیے، جو کہتے ہیں کہ اسلام لوگوں کی مادی زندگی کو بہتر کرنا نہیں چاہتا کیونکہ وہ اپنے پیروکاروں کو مادی دنیا سے کنارہ کش ہونے کی دعوت دیتا ہے، اسی طرح تکفیری داعشی بھی اسی طرح کی باتیں بناتے ہیں کہ امارت اسلامیہ نے نظام کے لیے نہیں بلکہ طاقت اور مادی فوائد کے لیے جنگ کی۔ ہمیں اس باطل نظریے کو اپنے قلم سے چیلنج کرنا چاہیے اور عملی اقدامات اٹھا کر انہیں غلط ثابت کرنا چاہیے۔

درحقیقت ایسا نہیں ہے جیسا دشمنانِ اسلام سوچتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی منطق میں ایسی چیز قابل مذمت اور قابل رد ہے جس میں لالچ و حرص، دنیا پرستی مال و دولت کی خاطر دینی اقدار کو قربان کیا جائے۔

اسلام نے کبھی بھی عزت، آزادی اور روحانی اقدار کی راہ پر دنیاوی نعمتوں کے استعمال کی مخالفت نہیں کی، بلکہ اس نے ہمیشہ لوگوں کو ان مادی نعمتوں سے استفادہ کرنے کی ترغیب دی ہے، تاکہ ان نعمتوں کی بدولت اپنی روحانیت کو پروان چڑھا سکیں۔

ایک اور موضوع جس پر بہت کم توجہ دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں چالیس سال سے زیادہ عرصہ جنگ رہی، دنیا کی دو سپر پاورز نے یہاں حملہ کیا، انہوں نے کثیر سرمایہ لگا کر یہاں اپنے باطل نظریات لوگوں پر مسلط کیے، لوگوں کے درمیان، قومی، لسانی، مذہبی اور علاقائی اختلافات کھڑے کیے، یہاں کی تمام اقوام کے درمیان عداوت کے زہریلے بیج بوئے، عوام کو باہمی جھگڑوں اور دشمنیوں میں مبتلا کر دیا، ملک کے تمام معاشی و اقتصادی وسائل کو تباہ کر دیا، نوجوان عوام کی ہڈیاں خشک روٹی کا ایک لقمہ حاصل کرنے کی خاطر پردیس میں مٹی ہو گئیں۔ اس لیے ایسے حالات میں حکومت، علما اور ماہرین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کریں، عوام کے درمیان اخوت کی فضا قائم کریں، عوام کی پریشانیوں کا ازالہ کریں، اپنے سیاسی اور نظریاتی مخالفین کے لیے آزاد اور بے فکر زندگی کی سہولت فراہم کریں۔

آئیں! اس حوالے سے رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اور سیاست کا ان کی سیرت میں مطالعہ کرتے ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی تو رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان اخوت کا معاہدہ کیا اور یہ معاہدہ اتنا مضبوط تھا کہ مہاجرین کی تمام پریشانیاں ختم ہو گئیں، ان کے حوصلے بلند ہوئے، معاشی مسائل حل ہو گئے، اور انہیں ایک محفوظ اور پر امن زندگی حاصل ہوئی۔

اسی طرح اوس اور خزرج کے دو بڑے قبائل کے درمیان دشمنی جو برس ہا برس سے جاری تھی، اخوت میں بدل گئی اور یہودیوں کے مادی و سیاسی تسلط سے چھٹکارا حاصل ہوا اور مدینہ کے ایک مختصر معاشرے سے ایک ایسے معاشرے نے جنم لیا جس نے اس وقت کی سپر پاورز کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی، خاص طور پر مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن کی نیندیں حرام کر دیں۔ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر ادیان کے پیروکار بھی آباد تھے، ان میں یہود، منافقین، غیر قبائل اور مشرکین شامل تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے مخالفین سے معاہدات کیے، انہیں تحفظ فراہم کیا اور ان کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنایا اور بیرونی دشمنوں سے ان کا ویسے ہی دفاع کیا جیسے مسلمانوں کا۔

والسلام

مراد ما نصیحت بود و گفتیم
حوالت با خدا کردیم و رفتیم

(مقصد نصیحت تھا سو کہہ دیا
حوالے خدا کے کیا اور چل دیا)