مائیں ایسے جوانمردوں کی تربیت کریں!

حسان مجاہد

سہیلہ وہ خاتون تھیں جنہوں نے تابعین کے سردار، مدینہ منوّرہ کے عظیم محدث اور امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام اوزاعی اور سفیان ثوری (رحمھم اللہ تعالیٰ) کے استاد ربیعہ بن فروخ کی اپنی بانہوں میں تربیت کی۔ جب فروخ ستائیس سال کے ہوئے تو جہادی سفر پر خراسان چلے گئے۔

عالیہ وہ خاتون تھیں جنہوں نے اسلامی تاریخ کی ممتاز شخصیت امام مالک کی تربیت کی۔ وہ امام مالک کہ جنہوں نے مدینہ منوّرہ کو علم سے ایسے نوازا کہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ وہاں علم کی پیاس بجھانے آئے۔

فاطمہ وہ خاتون تھیں جنہوں نے امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کی اپنی گود میں پرورش کی۔ وہ سات سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے۔ سب سے پہلے قرآن کریم اور پھر موطا امام مالک جیسی عظیم کتابوں کو حفظ کیا اور اپنے زمانے کے ایسے عالم بن گئے کہ امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ لوگوں کے لیے ایسی مثال ہیں جیسے لوگوں کے لیے سورج اور جسم کے لیے صحت۔

صفیہ وہ خاتون تھیں کہ جنہوں نے امام احمد رحمہ اللہ کو اپنی آغوش میں تربیت دی۔ وہ امام احمد جو جرح و تعدیل میں اپنے زمانے کی مانی ہوئی شخصیت تھے اور علمِ حدیث اور علمِ لغت میں استفادہ حاصل کرنے کے لیے شرق و غرب کے لوگ ان کے پاس حاضر ہوتے۔ ان کے اپنے شیخ اور استاد امام شافعی رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا: میں نے بغداد ایسے حال میں چھوڑا کہ فقہ اور تقویٰ میں امام احمد رحمہ اللہ جیسا کوئی اور نہیں تھا۔

خنساء وہ خاتون تھیں کہ جنہوں نے جنگِ قادسیہ میں فارس کے خلاف جہاد میں اپنے چار بیٹے بھیجے، جب ان کے چاروں بیٹوں کی شہادت کی خبر ان تک پہنچی تو انہوں نے کہا: حمد و ثنا اس رب کی کہ جس نے مجھے اپنے بیٹوں کی شہادت سے نوازا۔

علمِ حدیث کے میدان میں امیر المؤمنین، عظیم تابعی سفیان ثوری رحمہ اللہ اس حال میں یتیم ہوئے کہ غربت کی وجہ سے حصول علم کے بارے میں بہت پریشان تھے، جب ان کی والدہ نے ان کی علم سے محبت اور غربت کو دیکھا تو ان سے یہ جملہ کہا: ’’اے بیٹے! علم حاصل کرو، میں اپنی دستکاری (بنائی) سے تمہارا نفقہ پورا کروں گی۔‘‘ اپنی دستکاری (بنائی) سے انہوں نے ایسے عظیم محدث کی پرورش کی کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: آج سفیان جیسا کوئی دوسرا نہیں بچا جس پر پوری امت راضی ہو۔

اندلس کے حکمران عبد الرحمن الناصر جنہوں نے اموی خلافت کو زندہ کیا، یورپی فوجوں کے خلاف جہاد کیا اور قرطبہ کو اپنے دور میں خلافت کا ایسا مرکز بنا دیا کہ یورپی حکمران بھی اپنے معاملوں کے فیصلے وہاں لے کر آتے، یتیم تھے اور ان کی تربیت ان کی والدہ نے کی تھیں۔

محمد الفاتح جب بچے تھے تو صبح سویرے ان کی والدہ انہیں اپنی بانہوں میں اٹھا لیتیں، اور قسطنطنیہ کی طرف اشارہ کر کے ان سے کہتیں، اے محمد! قسطنطنیہ تمہارے ہاتھ سے فتح ہو گا کیونکہ تمہارا نام محمد ہے اور یہ پیشن گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔

صلاح الدین ایوبی ایک روز بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، والد نے انہیں بچوں سے علیحدہ کیا، انہیں اپنی بانہوں میں اٹھایا اور ان سے کہا کہ میں نے تمہاری والدہ سے اس نیت سے نکاح کیا تھا کہ ایک ایسا بیٹا پیدا ہو جو بیت المقدس کو آزادی دلائے نہ کہ ایسا بیٹا جو بچوں کے ساتھ کھیلتا پھرے، پھر صلاح الدین ایوبی کو زمین پر پٹخ دیا، جب ان کے چہرے پر درد کا احساس دیکھا تو ان سے پوچھا کہ کیا چوٹ لگی ہے؟ صلاح الدین نے جواب دیا جی! والد نے کہا کہ پھر روئے کیوں نہیں فریاد کیوں نہیں کی؟ ننھے ایوبی نے جواباً کہا کہ فاتح بیت المقدس کو رونے اور فریاد کرنے کی ضرورت نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو تین بار کفار کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے اکیلے بھیجا، وجہ یہ تھی کہ جب بچپن میں وہ گھوڑے سے گر گئے تو ان کی والدہ صفیہ نے بالکل پرواہ نہ کی۔

عربوں کے بچوں کو کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا تھا کیونکہ مکہ مکرمہ کے دشتوں میں مہینوں اور سالوں اپنی بھیڑیں چرانے کے لیے غائب رہتے اور ماں باپ کو ذرا بھی غم نہ ہوتا۔

خالد بن ولید نے قیصر و کسریٰ کے محلات فتح کیے اس کی وجہ یہ تھی کہ کئی سال وہ اندھیری راتوں میں اور سنگلاخ پہاڑوں پر شکار کرتے رہے تھے۔

آج بچے بے راہ روی کا شکار اور بزدل ہیں۔ ماؤں نے ان کی اچھی تربیت نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم مسلمانوں کو دیندار عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مائیں ایسی تاریخ ساز نسلوں کی تربیت کریں کہ جن کے ذریعے اسلام سربلند ہو اور کفر ذلیل ہو جائے اور اپنے پیچھے ایسے کارنامے چھوڑ جائیں کہ آنے والی نسلیں اس سے اسباق حاصل کریں۔

آج مسلمان نکاح کرنے میں حسن و آرائش کو تقویٰ اور دیانت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگوں کے بچے ایسے ہیں کہ جن میں اسلامی ولولہ کمزور ہے اور فسق و فجور کی طرف بہت زیادہ مائل ہیں۔ کفار جو آج عورتوں کو بے راہ روی کی طرف راغب کر رہے ہیں، انہیں اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ پاک اور خالص نظریہ رکھنے والی عورتوں کے لیے ممکن ہے کہ اپنی آغوش میں ایسی حق پرست اور باطل کی دشمن اولاد کی پرورش کریں کہ جن کے ذریعے اسلام ہماری سرحدوں تک پہنچ کر ہمارے لیے بہت بڑا خطرہ بن جائے۔

آج زبیر رضی اللہ عنہ جیسے بیٹے کی تربیت کے لیے صفیہ جیسی ماں کی ضرورت ہے اور آج صلاح الدین ایوبی جیسے بیٹے کی تربیت کے لیے نجم الدین ایوبی جیسے والد کی ضرورت ہے۔