مسجد اقصیٰ اور اس کے خلاف یہودی سازشیں | چوتھی قسط

ناصر سعید

#image_title

یہودیوں نے ۱۸۹۷ء میں صیہونی تحریک کا آغاز کیا۔ تحریک کا ہدف دو باتیں تھیں۔ فلسطین پر تسلط اور ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر۔ ان اہداف کے حصول کے لیے یہودیوں نے داخلی اور خارجی طور پر باہمی رابطے استوار کیے اور کافی مال بھی جمع کر لیا اور اس میں بے شمار یہودیوں نے حصہ لیا۔ یہودیوں نے سلطان عبد الحمید خان سے، جو سلطنت عثمانیہ کے سلطان تھے، درخواست کی کہ فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کر دیا جائے لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہیں بعد میں برطانیہ نے سازشوں کے ذریعے سے معزول کروا دیا تھا۔

کفار نے مشرق سے مغرب تک  ترک عثمانی سلطنت کے سقوط کا اور عربوں کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ فلسطین آسانی سے یہودیوں کے ہاتھ آجائے۔ اس لیے انہوں نے عربوں میں آزادی و خود مختاری کے نعرے پر لوگوں کو کھڑا کیا۔ عربوں کا مطالبہ تھا کہ وہ اب ترک سلطنت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ اسی دوران پہلی جنگِ عظیم کے بعد ۱۹۱۷ء میں صیہونی تحریک نے انگریزوں کے بھرپور تعاون کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ فلسطین کی سرزمین ان کا آبائی وطن ہے۔

۱۹۲۲ء میں اقوام متحدہ کی ابتدائی شکل ’’لیگ آف نیشنز‘‘ (League of Nations) نے فلسطین کو برطانوی قبضے میں دے دیا اور عرب رہنما دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب یہودی ہٹلر کے زیر عتاب آئے، وہاں سے فرار ہوئے اور فلسطین میں جا کر آباد ہو گئے تب ہٹلر نے ایک بات کہی جو سنہری حروف میں لکھی جانے کے قابل ہے: ’’میں مر چکا ہوں گا لیکن لوگ مجھ پر اس لیے لعنت بھیجیں گے کہ مجھ سے ایک بھی یہودی کیوں زندہ بچ نکلا۔‘‘

۱۹۴۷ء میں اقوام متحدہ نے ایک ظالمانہ فیصلہ سناتے ہوئے فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا۔

۱۹۴۸ء میں عرب سرزمین پر ایک مستقل یہودی ریاست کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا جسے طاقتور یورپی ممالک کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اسی سال فلسطین کی ۷۷ فیصد اراضی پر یہودیوں نے قبضہ کر لیا اور ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد یہودی بیت المقدس پر بھی قابض ہو گئے اور اس کے بعد دیر یاسین کا واقع پیش آیا۔ اور اس دن سے لے کر آج تک فلسطینیوں کا خون مسلسل بہایا جا رہا ہے۔

 

جاری ہے…!