مسجد اقصیٰ اور اس کے خلاف یہودی سازشیں | چھٹی قسط

مسجد اقصیٰ کے خلاف یہودیوں کی یہ سازشیں کوئی نئی بات نہیں، تقریبا پچپن برس سے جاری ہیں۔ گزشتہ برسوں میں یہاں سرخ رنگ بنانے، بم حملوں اور آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ ۱۹۶۹ء میں مسجد اقصیٰ میں آگ لگ گئی، جس سے مسجد کے بہت سے حصے کو نقصان پہنچا۔

۲۲ نومبر ۲۰۰۲ء کو یروشلم کے میئر کی جانب سے ایک پریس بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ القدس کے حوالے سے یہودی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ۲۰۰ ملین کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، اس کے ذریعے یروشلم یہودی رنگ میں رنگا جائے گا اور القدس کو نئے خطوط پر رسمی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ اس بیان کے کچھ عرصہ بعد یروشلم کے میئر نے امریکہ کا دورہ کیا اور وہاں یہودی برادری سے فنڈز اکٹھے کیے۔

یکم نومبر ۲۰۰۸ء کو اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا کہ سپریم کورٹ نے صحابہ کرام کی ان تمام قبروں کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے جو یروشلم کے جنوبی مضافات میں واقع ہیں، حکومت کا منصوبہ یہاں ایک میوزیم بنانے کا ہے۔

۱۹۴۸ء تک اس قبرستان میں ۷۰ ہزار مسلمان دفن تھے، اور ان میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے مقبرے بھی تھے۔ اسی سال اکتوبر میں مسلمانوں نے اسرائیلی عدالت میں درخواست دائر کی کہ اس قبرستان کو مسمار نہ کیا جائے لیکن یہ درخواست قبول نہ ہوئی۔

۲۰۰۶ء میں میوزیم کی تعمیر شروع ہوئی لیکن لاشیں نکالے جانے کے بعد تعمیری کام بھی رک گیا۔

اسرائیلی حکومت نے اس میوزیم کے لیے ۲۵۰ ملین ڈالر بجٹ مختص کیا ہے۔