مسجد اقصیٰ اور اس کے خلاف یہودی سازشیں | پانچویں قسط

ناصر سعید

#image_title

اسرائیل اپنے منہ سے دعویٰ تو کرتا ہے گویا یہ مقدس مقامات اسی کے مقدسات ہیں اور وہ ان کا احترام کرتا ہے  لیکن در حقیقت اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر تباہ کر دے اور یہاں یہودیوں کی تاریخی عبادتگاہ تعمیر کر دے۔

۱۹۴۸ء میں مسجد اقصیٰ کی جنوب مغربی دیوار تلے ۷۰ میٹر تک کھدائی کی گئی جس کے نتیجے میں باب المغاربہ کے ارد گرد چار عمارتوں کو سخت نقصان پہنچا اور گرنے کے خوف سے استعمال کے قابل نہ رہیں۔ ۱۹۶۹ء میں اس جگہ کے باسیوں کو اپنی جگہ سے طاقت کے ذریعے بے دخل کر دیا گیا اور ایک اور بڑی کھدائی کا آغاز کر دیا گیا۔ ۱۹۷۳ء میں اس کھدائی کے نتیجے میں حرم المقدس کے پانچ دروازے اور چار مساجد مسمار ہو گئیں۔ اسی سال ۸۰ میٹر مزید کھدائی بھی کی گئی جس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کے برآمدوں کو نقصان پہنچا۔ ۲۰۰۱ء میں مسجد سے باہر باغ میں کھدائی کی گئی جس سے مسجد کا جنوبی حصہ مسمار ہو گیا۔

ان اقدامات سے پوری امت میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی اور ترکی میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ عالمِ اسلام کے سربراہ اسرائیل کو منہ توڑ جوب دیں گے لیکن افسوس ایسی کھدائیوں کی صرف مذمت ہی کی گئی۔ عرب بادشاہوں کو تو اس کھدائی کی کوئی خبر تک نہ تھی جبکہ اس تخریب کے مقابل معصوم فلسطینی بوڑھوں، بچوں، مردوں اور عورتوں کا ہر روز خون بہہ رہا تھا۔

امت مسلمہ صرف دیکھنے پر اکتفا کر رہی ہے جبکہ مسجد اقصیٰ ایک اور صلاح الدین ایوبی کی منتظر ہے۔