مسجد اقصیٰ اور اس کے خلاف یہودی سازشیں | دوسری قسط

ناصر سعید

آج مسجد اقصٰی کے تعارف کا ایک اور حصہ اس مضمون کے قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

دیوار براق

حرم کے جنوب مغربی حصے میں واقع یہ دیوار ۴۷ میٹر لمبی اور ۱۷ میٹر بلند ہے۔ اسے دیوارِ براق اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے معراج کے سفر پر اپنا براق یہاں باندھا تھا۔

یہاں دیوار کے نزدیک مسلمانوں کی ایک مسجد مسجدِ براق کے نام سے موجود ہے اور اس کے علاوہ بھی مختص جگہیں موجود ہیں۔

یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہ دیوار ہیکل سلیمانی کا بچا ہوا حصہ ہے، انہوں نے اس دیوار کا نام بدل کر دیوارِ گریہ رکھ دیا ہے، وہ اس دیوار پر آتے ہیں اور روتے ہیں اور دیوار کے شگافوں پر اللہ تعالیٰ کے لیے خط لکھتے ہیں اور اس میں اپنی حاجات لکھتے ہیں۔

۱۹۹۰ء میں اس وقت یہاں تنازع کھڑا ہوا جب یہودیوں نے یہاں اپنا جھنڈا لہرایا اور دیار کے نیچے میز کرسیاں رکھ دیں۔

۱۹۳۰ء میں ایک کمیشن بنایا گیا جس نے ثابت کیا کہ یہ جگہ مسلمانوں کی ملکیت ہے۔

قبۃ الصخرہ

قبۃ الصخرہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں قبلی مسجد سے ۵۰۰ میٹر دور تیس میٹر بنلد چٹان پر بنایا گیا ہے۔ ’قبۃ‘ گنبد جبکہ ’صخرہ‘ پتھر کو کہا جاتا ہے۔ اسے ایک اونچے پتھر کے اوپر بنایا گیا ہے۔ اس کے آٹھ کونے ہیں، جس میں ہر کونہ ۶۶ فٹ لمبا ہے، گنبد کا اندرونی قطر ۱۹۲ فٹ ہے جبکہ گنبد کی ہر بنیاد کا قطر ۶۶ فٹ ہے۔

یہ گنبد ۹۹ فٹ اونچا ہے اور لکڑی سے بنایا گیا ہے جبکہ باہر سے سنہری رنگ کے پیتل کی پلیٹیں لگائی گئی ہیں اور اندر چونے سے پلستر کیا گیا ہے اور اس پر کئی پیچیدہ ڈیزائن بنائے گئے ہیں۔

اس گنبد کی تعمیر خلیفہ عبد المالک بن مروان نے ۶۶ ہجری بمطابق ۶۸۵ء میں شروع کی جسے بعد میں اس کے بیٹے ولید بن عبد الملک نے ۷۲ ہجری بمطابق ۶۹۱ء میں مکمل کیا۔

موجودہ بحالی ترک سلاطین سلطان عبد الحمید اور سلطان عبد العزیز کی طرف سے کروائی گئی۔ دیواروں کی خوبصورتی کے لیے ۳۸ کھڑکیاں ہیں جو ترکی جالیوں کے انداز میں ترک لکڑی سے بنائی گئی ہیں۔ سلطان عبد الحمید کی طرف سے ان پر سورۃ ملک اور سورہ یس طغرا رسم الخط میں دلکش انداز میں لکھوائی گئی ہیں۔ یہ گنبد ایک چبوترے پر بنایا گیا ہے جس پر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ گنبد کے اندرونی جانب چار بڑے اور بارہ چھوٹے ستون ہیں۔

اس گنبد میں اور بھی بہت سے عجائب ہیں۔

جاری ہے…!