مسجد اقصٰی اور اس کے خلاف یہودی سازشیں | تیسری قسط

ناصر سعید

مسجد اقصیٰ کی تاریخ

امام بخاری رحمہ اللہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے چالیس سال بعد مسجد اقصیٰ کی بنیاد رکھی، چونکہ یہ ایک مقدس عمارت تھی، اس لیے لوگوں میں بیت المقدس کے نام سے مشہور ہوئی۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا وطن یہی تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی یہیں پیدا ہوئے۔

ایک ہزار قبل مسیح میں حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کو اپنی حکومت کا دار الخلافہ بنایا۔

چھ سو سال قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور یہاں کی ہر چیز تباہ کر دی، ڈر کے مارے لوگ یہاں سے فرار ہو گئے، بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پھر سے بیت المقدس کو اپنی دعوت کا مرکز بنا لیا۔

۶۱۴ء میں ایرانیوں نے اس شہر پر حملہ کر دیا، انہوں نے بھی بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا، لوگوں کے گھروں اور بستیوں کو تباہ و برباد کر ڈالا، اور اس امن و سلامتی کی جگہ کو بدامنی میں بدل ڈالا، یہاں تک کہ عیسائیوں کے مشہور کلیسا ’’کلیسۃ القیامۃ‘‘ کو بھی تباہ کر ڈالا۔ ایرانیوں کی حکومت کا، قرآن کریم کی پیشین گوئی کے مطابق، رومی بادشاہ ہرقل نے تختہ الٹا، اور اس شہر میں فارس کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

بیت المقدس ۶۳۷ء تک رومیوں کے قبضے میں تھا، یہاں تکہ کہ نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے، نبی کریم بیت المقدس کی آزادی اور اس کے تقدس کی بحالی کے خواہشمند تھے، لیکن یہ مقدس مقام اور مسلمانوں کا قبلۂ اوّل امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ مبارک میں فتح ہوا، اس کے بعد اموی اور عباسی ادوار میں اس مسجد کی غیر معمولی تزئین و آرائش کی گئی اور یہ شہر بہت زمانے تک مسلمانوں کا مرکز اور عبادت کی جگہ رہا۔ ۱۰۹۹ء میں صلیبیوں نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کر دیا، تقریبا ستر ہزار مسلمان شہید ہو گئے اور اس مسجد کو صلیبیوں کی عبادت گاہ میں بدل دیا گیا۔

۸۸ سال یہ مسجد مسلمانوں کے ہاتھ سے چھنی رہی، لیکن اس دور میں بھی مسلمانوں نے اس مسجد کی آزادی کے لیے مختلف کوششیں جاری رکھیں، بالآخر ۱۱۸۷ء میں حطین کے مقام پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبیوں کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور یہ سرزمین ان کے قبضے سے آزاد ہو گئی، لیکن مسلمانوں سے صلیبیوں کی دشمنی اور عداوت آخری حد تک پہنچ گئی۔

درحقیقت ۱۸۸۰ء سے مفرور یہودیوں کا فلسطین دوبارہ واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا، یہاں انہوں نے بڑے پیمانے پر انسانی قوت جمع کر لی تھی، لیکن ۱۸۹۷ء میں باقاعدہ طور پر صیہونی حکومت کی تحریک کا آغاز ہوا۔

 

جاری ہے…!