مسجد اقصیٰ اور اس کے خلاف یہودی سازشیں | پہلی قسط

ناصر سعید

اس سے پہلے کہ مسجد اقصیٰ کی فریاد سنیں، ضروری سمجھتا ہوں کہ اس موضوع کے قارئین کو مسجد اقصیٰ اور اس کے قرب و جوار کا تعارف کروا دوں۔

مسجد اقصیٰ

بالعموم ہمارے عام مسلمانوں، بالخصوص نئی نسل، کے ذہنوں سے اقصیٰ کا تعارف آہستہ آہستہ محو ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل کو یہ بھی نہیں پتہ کہ یہ ہمارا قبلۂ اوّل ہے، اس کے علاوہ بہت سے مسلمان سنہری رنگ کے گنبد صخرہ کو مسجد اقصیٰ سمجھتے ہیں، اور اسے مسلمانوں کا قبلۂ اوّل سمجھتے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو اس بارے میں آگاہ کریں اور اقصیٰ کی اہمیت ہمشہ ان کے ذہنوں میں قائم رکھیں۔

اقصیٰ کی حدود کے اندر موجود مسجد کا ہال ۶۰۰ گز لمبا اور ۷۰۰ گز چوڑا ہے۔ مسجد کے گنبد کے لیے کھڑے ستون سنگِ مرمر سے مزین ہیں۔ محرابوں اور گنبد کے اندر کا حصہ خوبصورت نقوش کے ساتھ سونے کا کام کیا گیا ہے۔ پتھر سے بنی ۱۶۰۰ میٹر لمبی دیوار نے اس مسجد کا احاطہ کر رکھا ہے۔ مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ روز اوّل سے آج تک مسجد اقصیٰ کی حدود میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوئی۔

اس دیوار کے اندر تمام علاقے کو مسجد اقصیٰ کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگ مسجد اقصیٰ کی حدود میں نمازوں کے لیے مخصوص سرمئی گنبد والی مسجد کو مسجد اقصیٰ کہہ دیتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ القدس کے تاریخی شہر کے جنوب مشرق میں پانچ لاکھ دو ہزار آٹھ سو مربع گز کے وسیع رقبے پر واقع ہے، جسے مستطیل شکل میں بنایا گیا ہے۔ اس احاطے کے اندر سرمئی گنبد والی قبلی مسجد کے ساتھ گنبد الصخرہ اور دیگر دو سو کے قریب تاریخی مقامات و آثار بھی واقع ہیں۔

مسجد اقصیٰ شہر کے ایک بلند مقام پر واقع ہے، جسے تاریخی طور پر موریا کہا جاتا ہے۔ موریا کے سب سے بلند مقام پر گنبد الصخرہ موجود ہے، اور اس مقام پر مسجد اقصیٰ کو دل کی حیثیت حاصل ہے۔

مسجد اقصیٰ مجسد حرام اور مسجد نبوی سے مختلف ہے، کیونکہ ان دونوں کو بارہا وسعت دی گئی، اور ان کی حدود میں تبدیلی لائی گئی، لیکن مسجد اقصیٰ کی حدود میں روز اوّل سے آج تک کوئی تبدیلی نہیں آئیں، اس کی حدود ہمیشہ وہی رہیں اور ان میں کوئی وسعت نہیں کی گئی۔

مسجد اقصیٰ کے دروازے

مسجد کی عمومی دیوار میں داخلے کے لیے چودہ دروازے ہیں، جن میں سے دس آج بھی فعال ہیں جبکہ چار دیگر دروازے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے سکیورٹی کی خاطر بند کر دیے تھے۔ فعال دروازوں کے نام درج ذیل ہیں۔

بابِ خطہ، بابِ فیصل، باب غوانمہ، بابِ ناظر، باب حدید، باب قطائین، باب سلسلہ، باب مغاربہ۔ دروازے سے داخلے پر ایک کھلا علاقہ ہے جس کے اپنے سات دروازے ہیں، اس کے آگے وسیع صحن ہے جہاں چھوٹی چھوٹی تعمیرات ہیں، مثلاً چھوٹے گنبد، چبوترے، اذان کے لیے مینار، وضو کی جگہیں، پانی کے کنویں، درس گاہیں، اور ان کے لیے محرابی دروازے وغیرہ۔

اقامهاالله وادامها

 

جاری ہے…!